SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہJuggernaut
مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُن کے دربار میں ملک کے قابل ترین افراد کا غلبہ تھا جس میں شاعر، عالم، فلسفی، فنکار، موسیقار، جرنیل اور منتظم شامل تھے۔
بعدازاں یہ لوگ اکبر کے دربار کے ’نو رتن‘ کے طور پر مشہور ہوئے۔ ان میں سے ایک بیربل بھی تھے جن کی اکبر سے دوستی اور اُن کی عقل و فہم کی کہانیاں آج تک انڈیا میں مشہور ہیں۔
انڈیا کی تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ہیں، جنھیں بہت شہرت ملی لیکن اس کے باوجود لوگ ان کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔
اکبر ہمیشہ بیربل کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے۔
اکبر کی سوانح عمری ’اکبر دی گریٹ مغل‘ کی مصنفہ ایرا مخوتی لکھتی ہیں کہ ’جب اکبر فتح پور سیکری بنا رہے تھے تو اُنھوں نے بیربل کے لیے ایک محل تعمیر کرنے کا حکم دیا۔‘
جب یہ محل جنوری 1583 میں مکمل ہوا تو اکبر نے بھی اس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
اکبر اور بیربل کے درمیان دوستی اتنی زیادہ تھی کہ مغل دور کے خاتمے کے باوجود ان دونوں کے قصے بڑے شوق سے سنائے جاتے ہیں۔
ان قصوں میں بادشاہ کا مذاق اُڑایا جاتا ہے اور بیربل کو اکبر کے مقابلے میں ایک ذہین فطین شخص کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ یہ کہانیاں سچے واقعات پر مبنی ہیں، لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اکبر مزاح اور لطیفے پسند کرتے تھے۔
،تصویر کا ذریعہAleph

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایم ایچ آزاد اپنی مشہور زمانہ کتاب دربار اکبری میں لکھتے ہیں کہ راجہ بیربل کا نام شہنشاہ اکبر سے جوڑا جاتا ہے۔ اسی طرح جس طرح سکندر اعظم کا نام یونانی فلاسفر ارسطو سے جوڑا جاتا تھا۔
بیربل کی یاد انڈین عوام کے ذہنوں میں گہرائی سے پیوست ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بیربل کا اصل نام نہ تو راجہ تھا اور نہ ہی بیربل۔ یہ نام بعد میں انھیں لقب کے طور پر دیا گیا جس کی وجہ سے اُن کا اصل نام کسی کو معلوم نہیں۔
بیربل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکبر کے دربار میں 1556 میں داخل ہوئے۔ وہ اُس وقت 28 برس کے تھے اور اکبر سے عمر میں 14 سال بڑے تھے۔
مورخ بیربل کے اصل نام کے حوالے سے مختلف آرا رکھتے ہیں۔ اکبر کے دور کے مورخ عبد القادر بادیوانی کے مطابق بیربل کا اصل نام گدائی برہمداس تھا۔ تاہم مورخ جارج گریئرسن کہتے ہیں کہ اُن کا اصل نام مہیش داس تھا۔
دربار اکبری کے مصنف ایم ایچ آزاد بھی اسی نام کو درست سمجھتے ہیں۔ ایچ بلاک مین نے بھی ’آئین اکبری‘ کے ترجمے میں اسی نام کا استعمال کیا ہے۔
بعدازاں الہ آباد کے قلعہ میں واقع اشوک ستون پر کندہ ہونے والی تفصیل میں بیربل کا اصل نام مہیش داس اور ان کے والد کا نام گنگا داس بتایا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہUP Tourism
بیربل اکبر کے دربار تک کیسے پہنچے؟
بیربل نے 24 سال تک اکبر کے دربار میں خدمات سرانجام دیں، تقریباً اکبر کے دور کا آدھا حصہ وہ اُن کے دربار میں شامل رہے۔
اس سے قبل وہ کئی دوسرے بادشاہوں کے درباروں میں درباری شاعر کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔
بادیوانی کے مطابق بیربل ریوا کے راجہ رام چندر کے دربار میں بھی تھے۔ اکبر کے دربار میں بیربل کی آمد کے بارے میں مورخین مختلف آرا رکھتے ہیں۔
بعض مورخین کے مطابق اکبر اور بیربل کے درمیان اچانک کہیں ملاقات ہوئی اور اکبر نے بیربل کی ہوشیاری سے متاثر ہو کر انھیں اپنے دربار میں بلا لیا۔
کچھ دوسرے مورخین کے مطابق بیربل امیر کے بادشاہ بھگوان داس کے دربار میں تھے۔ جنھوں نے انھیں بطور تحفہ اکبر کے دربار میں بھیجا تھا۔
ایک اور سوانح نگار کے مطابق بیربل کو اکبر کے وزیر خزانہ راجہ ٹوڈرمل اکبر کے دربار میں لائے تھے۔
ڈاکٹر آر پی ترپاٹھی اپنی کتاب ’پارٹیز اینڈ پالیٹیکس ان مغل کورٹس‘ میں لکھتے ہیں کہ تان سین کی طرح بیربل بھی پہلے ریوا کے راجہ رام چندر کے دربار میں کام کرتے تھے اور اُنھیں اکبر نے مدعو کیا تھا۔
بادیوانی کا خیال ہے کہ بیربل خود اکبر کے دربار میں آئے اور ان کی فہم و فراست اور گفتگو میں مہارت سے متاثر ہو کر اکبر نے اُنھیں اپنے دربار میں رکھا۔
،تصویر کا ذریعہAleph
اکبر کی انتظامیہ میں بیربل کا کردار
اکبر کے دربار میں بیربل کے کردار کے بارے میں مصنف جے شنکر مانی لعل شیلیٹ اپنی کتاب ’اکبر‘ میں لکھتے ہیں کہ ’عبادت خانے میں مذہبی معاملات سے متعلق بحث میں اکبر نے بنیاد پرستوں کے مقابلے میں بیربل کی حاضر دماغی اور گفتگو سے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔‘
جے ایم شیلیٹ لکھتے ہیں کہ ’وشنو مت اور سوریہ کی عبادت میں یقین رکھنے والے بیربل کا اکبر پر ایسا اثر ہوا کہ وہ بھی سوریا اور آگ کی اہمیت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔‘
مصنف ایم ایل رائے چودھری اپنی کتاب ‘دین الٰہی’ میں عبادت خانے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اکبر کے دربار میں بیربل کی نشست شمال مشرق میں تھی جبکہ فیضی شمال مشرق میں بیٹھا کرتے تھے۔ ابوالفضل جنوب مشرقی سمت میں بیٹھا کرتے تھے۔
بمبر گیسکان اپنی کتاب ’دی گریٹ مغلز‘ میں لکھتے ہیں کہ بیربل نے اکبر کو ہندو مت سمجھنے میں بہت مدد دی۔ بیربل نے خود بھی اسلام اور دیگر مذاہب کو سمجھنے کی کوشش کی۔ دو مختلف مذاہب سے منقسم معاشرے میں، اکبر اور بیربل کچھ ایسی مماثلتیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو لوگوں کو قریب لا سکیں اور ہم آہنگی سے رہ سکیں۔
بیربل انتظامی شعبے کے بھی ماہر تھے۔ ابو الفضل کے برعکس بیربل نے وزیر کے عہدے پر فائز ہوئے بغیر وزیروں کے فرائض سرانجام دیے۔
آج کے دور کے لحاظ سے اُنھیں بغیر کسی محکمے کے وزیر کہا جا سکتا ہے۔ سنہ 1577 میں اکبر نے اُنھیں ایک تنازع کے حل کے لیے اتر پردیش بھیجا۔ سنہ 1578 میں اُنھیں اکبر نے جالندھر بھیجا گیا تاکہ مدادِ مشعر کا انتظام کیا جا سکے۔ اُنھیں اس کمیٹی کا رکن بھی بنایا گیا جو مویشیوں کی قیمت اور فروخت کو کنٹرول کرتی تھی۔
،تصویر کا ذریعہRobinson
فوجی مہمات میں بیربل بادشاہ کے ہمراہ
ایک سفارت کار کے طور پر بیربل کا بنیادی کام اکبر اور دوسرے ہندو بادشاہوں کے درمیان رابطے کا کام کرنا تھا۔
سنہ 1568 میں بیربل کی مداخلت کے بعد ہی راجہ رام چندر کے علاقے کو مغلیہ سلطنت میں شامل کرنے کا خیال ترک کر دیا گیا۔
راجپوت بادشاہ مغل دربار میں بیربل کو اپنا محافظ سمجھتے تھے۔ وہ نہ صرف ہندو اور مسلم اشرافیہ میں مقبول تھے بلکہ شہنشاہ سے قربت کی وجہ سے اشرافیہ ان سے خوفزدہ بھی رہتی تھی۔
اکبر کے دربار میں بیربل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ فوجی مہمات میں بادشاہ اکبر کے ساتھ جاتے تھے۔ اُنھیں سب سے پہلے پنجاب کے شورش زدہ علاقے کو کنٹرول کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ کانگڑا مہم میں ان کے کردار کے بعد اکبر نے اُنھیں 1572 میں نگر کوٹ کی جاگیر عطا کی۔
بیربل، گجرات اور بہار کی مہمات میں بھی اکبر کے ساتھ گئے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیربل پر اکبر نے کبھی غصہ نہیں کیا
بیربل برج زبان کے مشہور شاعر تھے۔ اکبر نے اُنھیں ’کوی رائے‘ کا خطاب دیا۔
ایرا مخوتی لکھتی ہیں کہ ’بیربل میں، اکبر کو ایک تیز دماغ اور گہری سمجھ بوجھ والا آدمی ملا تھا جو اکبر سے پوری طرح عقیدت رکھتا تھا۔ ان کی فصاحت، سخاوت اور شاعرانہ صلاحیتوں نے مل کر بیربل کو ایک مثالی مغل درباری بنا دیا۔‘
اکبر اور بیربل کے درمیان قریبی تعلق کا سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ اپنی 30 سال کی خدمت کے دوران انھیں کبھی بھی اکبر کی ناراضگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
اکبر کے دوسرے قریبی درباریوں کو وقتاً فوقتاً اکبر کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
،تصویر کا ذریعہPublication Division AMU
اکبر اور بیربل کی قربت
اکبر کے ایک قریبی مشیر ہونے کے باوجود اُنھیں خوشامد پسند نہیں سمجھا جاتا تھا۔
بدیوانی کے مطابق ابوالفضل کو اکبر کا سب سے بڑا خوشامدی درباری سمجھا جاتا تھا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کے باوجود کوئی بھی مورخ بیربل کی وفاداری اور دیانتداری پر سوال نہیں اُٹھاتا۔
بہت سے مورخین کے مطابق وفاداری کے لحاظ سے بیربل اکبر کے اہم مشیر مان سنگھ اور مرزا عزیز سے بھی آگے سمجھے جاتے تھے۔ اکبر اور بیربل کی قربت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اکبر چار مرتبہ بیربل کی رہائش گاہ پر گئے۔
اکبر اپنے دیگر مشیروں کے گھر بھی جاتے تھے، لیکن ایسا دو مرتبہ سے زیادہ نہیں ہوا تھا۔
،تصویر کا ذریعہAtlantic Publishers
جب اکبر نے بیربل کی جان بچائی
سنہ 1583 میں فتح پور سیکری میں پیش آنے والے ایک واقعے نے بھی ثابت کر دیا کہ اکبر اور بیربل کتنے قریب تھے۔
امیتا سرین اپنی کتاب ’اکبر اور بیربل، عقل و دانش کی کہانیاں‘ میں لکھتی ہیں کہ ’اکبر اور ان کے درباری میدان میں ہاتھی کی لڑائی دیکھ رہے تھے، اکبر گھوڑے پر سوار تھے، لڑائی کے درمیان اچانک ایک بدمست ہاتھی نے بیربل پر حملہ کر دیا، جب اکبر نے دیکھا کہ بیربل کی جان خطرے میں ہے، تو اکبر اپنے گھوڑے کے ہمراہ بیربل اور ہاتھی کے درمیان آ گئے۔ اکبر نے شاہی انداز میں زوردار آواز سے ہاتھی کو رُکنے کا حکم دیا اور ہاتھی وہیں رُک گیا۔‘
اسی طرح پولو میچ کے دوران بیربل اپنے گھوڑے سے گر گئے۔ پاروتی شرما اپنی کتاب ’اکبر آف ہندوستان‘ میں لکھتی ہیں کہ جب بیربل بیہوش ہوئے تو اکبر نے دوڑ کر اُنھیں اپنے ہونٹوں سے سانس دینے کی کوشش کی۔
،تصویر کا ذریعہVictoria & Albert Museum
پشتون مہم کے دوران بیربل کی موت
سنہ 1586 میں اکبر نے سوات اور باجوڑ کے علاقے میں پشتون یوسف زئی بغاوت کو دبانے کے لیے اپنے جرنیلوں زین خان کوکا اور بیربل کو بھیجا۔
ابوالفضل بھی اس مہم کی قیادت کرنا چاہتے تھے۔ اکبر نے دونوں کے لیے قرعہ اندازی کر کے بیربل کا انتخاب کیا لیکن 16 فروری 1586 کو مغل فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور بیربل سمیت آٹھ ہزار سپاہی مارے گئے۔
بادیوانی لکھتے ہیں کہ ’افغانوں نے درہ مالندرائی کی بلندیوں پر چڑھ کر مغلوں پر حملہ کیا۔ مغل سپاہی حملہ آوروں کے لیے پیالے میں مچھلی کی طرح تھے۔ انھوں نے تیروں اور پتھروں سے ان پر حملہ کیا۔‘
،تصویر کا ذریعہRekhta Books
اکبر کے لیے صدمہ
ایرا مخوتی لکھتی ہیں کہ ’جب یہ خبر اکبر تک پہنچی تو وہ گہرے غم میں ڈوب گئے۔ اگلے دو دن اور راتوں تک اُنھوں نے نہ کچھ کھایا اور نہ پانی پیا۔ اُنھوں نے توران کے قاصد سے ملنے سے انکار کر دیا اور رعایا سے ملنے کے لیے جھروکے میں آنے سے بھی گریز کرتے رہے۔
ابوالفضل نے اکبر نامہ میں لکھا کہ ’اکبر کی ہر چیز میں دلچسپی ختم ہو گئی۔ اُنھوں نے اپنی والدہ حمیدہ بانو اور اپنے ساتھیوں کے کہنے پر دوبارہ معمول کی زندگی گزارنی شروع کی۔ اُنھوں نے خود مجھ سے اعتراف کیا کہ اس ناگہانی آفت نے ان کے دل کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔‘
اکبر اپنے جرنیلوں سے اتنا ناراض تھے کہ اُنھوں نے اُنھیں اپنی شکل نہ دکھانے کا حکم دیا۔ وہ اس بات پر بھی ناراض تھے کہ اُن کے سپاہی بیربل کی لاش بھی واپس نہ لا سکے۔
اکبر کو اتنا غصہ تھا کہ ایک موقع پر اُنھوں نے خود کابل جا کر بیربل کی لاش واپس لانے کا ارادہ کیا۔ لیکن درباریوں نے سمجھایا کہ سورج کی روشنی ان کے دوست کے جسم کو پاک کرنے کے لیے کافی ہے۔
بیربل کی موت کے کچھ ہفتے بعد ہی اکبر نے خود سوات اور باجوڑ پر حملے کی قیادت کی اور اس مرتبہ مغل فوج کو کامیابی ملی۔
اکبر نے بیربل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب سے بہترین تھے۔ وہ میرے قریبی ساتھیوں میں سب سے قریب تھے، اُن جیسا کوئی نہیں تھا۔
SOURCE : BBC



