SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہTrish Prosser
مقعد کے کینسر (اینل کینسر) کی شکار ایک مریضہ کا کہنا ہے کہ پیلوِک کی ریڈیوتھراپی کے بعد وہ شدید تکلیف کا شکار تھیں اور انھیں لگتا تھا کہ وہ مر جائیں گی۔
57 سالہ ٹرش پروسرکا کہنا ہے کہ ان کی اندام نہانی کی تہیں بند ہوگئی تھیں اور چھ سال گزرنے کے باوجود وہ اب بھی درد کا سامنا کر رہی ہیں۔
چار بچوں کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کو اپنے کینسر کی قسم کے بارے میں بتانے میں شرمندگی محسوس کرتی تھیں۔
مقعد کا کینسر ایک نایاب بیماری ہے اور برطانیہ میں ہر سال تقریباً 1,500 افراد میں اس کی تشخیص ہوتی ہے، جن میں سے تقریباً 40 سے 50 کیسز شمالی آئرلینڈ سے رپورٹ ہوتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہTrish Prosser
ٹرش کہتی ہیں کہ ’لوگ اکثر اپنے جسم کے نیچے کے حصے اور کولہوں سے متعلق معاملات پر بات کرنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں، میں اس شرمندگی کے احساس کو ختم کرنا چاہتی ہوں۔‘
ٹرش میں مقعد کے کینسر کی تشخیص سنہ 2020 میں کورونا وائرس کی ابتدا کے دوران ہوئی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس وقت خود کو بہت تنہا محسوس کیا اور ان احساسات پر بات کرنا بھی انھوں نے حال ہی میں شروع کیا ہے۔
’میں شاید باہر سے نارمل نظر آتی ہوں کیونکہ میرے بال نہیں گِرے تھے، لیکن میں اندر سے بہت برا محسوس کرتی تھی، ایسا لگتا تھا جیسے میں ٹوٹ رہی ہوں۔‘
ٹرش کہتی ہیں کہ ’میں بہت تھکاوٹ کا شکار رہتی تھی، میرے جسم کے نچلے حصے میں کھجلی رہتی تھی۔ یہ ایسی علامات تھیں جو اکثر کینسر سے نہیں جوڑی جاتیں۔‘
،تصویر کا ذریعہTrish Prosser
برطانیہ کے باقی حصّوں کے برعکس، شمالی آئرلینڈ میں اُن مریضوں کے لیے کوئی کلینک یا ون سٹاپ شاپ موجود نہیں ہے، جنہوں نے پیلوِک ریڈیوتھراپی کروائی ہو۔
بیلفاسٹ سے تعلق رکھنے والی ٹرش کے مطابق علاج کے دوران زندہ بچ جانا دراصل علاج کے پروگرام کا صرف پہلا مرحلہ ہوتا ہے، جو بہت سے لوگوں کے لیے کئی سال لے سکتا ہے۔
’جسمانی زخم بھی ہوتے ہیں اور جن لوگوں کی پیلوِک ریڈیوتھراپی ہوتی ہے، انھیں آنتوں، فرج، سروائیکل اور اندام نہانی میں ہونے والے زخموں کی تکلیف سے بھی گزر پڑتا ہے۔‘
’میں نہیں چاہتی تھی کہ لوگ جانیں کہ میں کس تکلیف سے گزر رہی ہوں، کیونکہ یہ میرے جسم کا بہت پوشیدہ اور ذاتی حصہ تھا۔ اس لیے جب لوگ مجھ سے طبیعت پوچھتے تھے تو میں کہہ دیتی تھی کہ میں ٹھیک ہوں‘
مقعد کا کینسر ہے کیا؟
مقعد کے کینسر کی بنیادی وجہ عام طور پر ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) کی خطرناک اقسام سے ہونے والا دیرپا انفیکشن ہوتا ہے، جو تقریباً 90 فیصد کیسز کا سبب بنتا ہے۔
ایچ پی وی مقعد کی نالی میں خلیوں کی غیر معمولی افزائش کا سبب بنتا ہے، جو بعد ازاں رسولیوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
مقعد کے کینسر کی ایک وجہ کمزور مدافعتی نظام کا ہونا یا ماضی میں خواتین کے گائیناکولوجیکل مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔
تاہم ایچ پی وی سے متاثرہ چند ہی لوگوں کو مقعد کا کینسر ہوتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہTrish Prosser
کیا پیلوِک ریڈیوتھراپی سے سیکس پر اثر پڑتا ہے؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مقعد کے کینسر کے علاج کے لیے کی جانے والی پیلوِک ریڈیوتھراپی اندام نہانی کے بافتوں کی علاج کے مقام سے قربت کے باعث شدید اور طویل مدتی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
اس کیفیت کو عموماً ریڈییشن سے پیدا ہونے والی اندام نہانی کی تنگی کہا جاتا ہے، جس میں داغ دار بافتوں کی تشکیل شامل ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اندام نہانی کا حصّہ چھوٹا، تنگ، خشک اور کم لچکدار ہو جاتا ہے، جو بافتوں میں زخم اور نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ کیفیت علاج کے دوران بھی پیدا ہو سکتی ہے، لیکن اکثر یہ ایک طویل مدتی مسئلہ کی صورت میں علاج ختم ہونے کے مہینوں یا برسوں کے بعد بھی سامنے آتی ہے۔
ٹرِش کہتی ہیں کہ ’مجھے علم نہیں تھا کہ میری اندام نہانی واقعی آپس میں چپک چکی ہے اور اسے دوبارہ کھولنے کی ضرورت ہے اور یہ عمل قربت کے ذریعے ہی ممکن تھا اور قربت بے حد تکلیف دہ تھی۔‘
ٹرش مزید کہتی ہیں کہ ’لیکن جیسے جیسے اندام نہانی کی بحالی کا عمل شروع ہوتا ہے آپ دوبارہ قربت (سیکس) کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہیں۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میرے ساتھ ایک مضبوط اور محبت کرنے والا شریکِ حیات تھا، جس نے صبر سے میرا ساتھ دیا اور اس مرحلے سے گزرنے میں میری مدد کی۔‘
،تصویر کا ذریعہTrish Prosser
علاج سے زیادہ بیماری کو سمجھنے کی ضرورت
ریڈیوتھراپی یوکے اور بیلفاسٹ ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر ٹرسٹ کی جی آئی کلینیکل آنکولوجی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ ایسے کینسر کے بارے میں گفتگو کا آغاز کرنا چاہتے ہیں جس پر عام طور پر بات نہیں کی جاتی۔
فلاحی اداروں اور معالجین کا مقصد یہ ہے کہ کینسر کے دوران اور اس کے بعد نگہداشت کا ایک مکمل اور جامع راستہ تشکیل دیا جائے۔
ریڈیوتھراپی یوکے کی سارہ کوئنلن کہتی ہیں کہ: ’کینسر کے دیرینہ اثرات علاج ختم ہونے کے مہینوں یا برسوں بعد بھی ظاہر ہو سکتے ہیں اور یہ زندگی کے معیار، خود مختاری اور فرد کی فلاح و بہبود پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔‘
’ہم ایک ایسے جامع اور کثیرالجہتی نظام کے قیام کے خواہاں ہیں جس میں مناسب وسائل موجود ہوں تاکہ مریض علاج مکمل ہونے کے بعد بھی خود کو نظرانداز محسوس نہ کریں۔‘
ٹرش بھی اسی طرح پیلوِک ریڈیوتھراپی کے بعد پیدا ہونے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک کلینک کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ: ’میرے علاج کے دوران میرے معالجین میرے لیے زندگی کی ڈور ثابت ہوئے، وہ مہربان بھی تھے اور مدد کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار بھی۔ لیکن علاج ختم ہونے کے بعد یہ تکلیف دہ حد تک واضح ہو گیا کہ صحت کے اس نظام کو پیلوِک ریڈیوتھراپی کے طویل مدتی مضر اثرات کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا، اور یوں مجھے تمام معاملات کا سامنا اکیلے ہی کرنا پڑا۔‘
’مسلسل قبض اور وزن میں اضافے کے باعث میرا پیٹ اس قدر پھول چکا تھا کہ جب میں خود کو آئینے میں دیکھتی تھی تو مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کو دیکھ رہی ہوں جسے میں پہچانتی ہی نہیں۔‘
ذہنی اور جسمانی زخم
اس ہفتے کے آخر میں پہلی بار شمالی آئرلینڈ میں مریض، معالج اور فلاحی ادارے ایک ایسا پروگرام منعقد کر رہے ہیں جو مکمل طور پر مقعد کے کینسر سے متعلق آگاہی کے لیے وقف ہے۔
بیلفاسٹ کینسر سینٹر کی کلینیکل نرس سپیشلسٹ ایلیسن اِروِن عام طور پر علاج مکمل ہونے کے بعد مریضوں کے لیے رابطے کا پہلا ذریعہ ہوتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ: ’اس کا مقصد انھیں (کینسر کے متاثرین) وہ الفاظ اور اصطلاحات فراہم کرنا ہے، جن کی مدد سے وہ شرمندگی کا احساس مٹا سکیں، وہ اپنے اہلِ خانہ اور اپنے آجر کو مقعد کے کینسر کے بارے میں بتا سکیں۔‘
’یہ نہایت ضروری ہے کہ مریض یہ محسوس کریں کہ وہ ہم سے کھل کر بات کر سکتے ہیں اور اپنے جسم سے متعلق ہر بات ہمیں بتا سکتے ہیں۔ میں اس سے پہلے سب کچھ سن چکی ہوں، اسی لیے مریض کے ساتھ میرا تعلق نہایت اہمیت رکھتا ہے۔‘

بیلفاسٹ ہیلتھ ٹرسٹ کی کنسلٹنٹ کلینیکل آنکولوجسٹ ڈاکٹر کیتھرین ہنّا کہتے ہیں کہ اگر مقعد کے کینسر کی بروقت تشخیص ہو جائے تو اسے ریڈیوتھراپی کے ذریعے قابلِ علاج بنایا جا سکتا ہے۔
’یہ ایک نایاب کینسر ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس حصّے میں کسی گلٹی، خارش یا حتیٰ کہ خون آنے جیسی علامات پر نظر رکھیں۔‘
انہوں نے کہا: ’اگر کسی شخص کو اپنے جسم میں کوئی تبدیلی محسوس ہو رہی ہو تو اسے ضرور معائنہ کروانا چاہیے۔‘
SOURCE : BBC



