Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں اٹلی کے عجائب گھر میں چوری: جب چور صرف تین منٹ میں...

اٹلی کے عجائب گھر میں چوری: جب چور صرف تین منٹ میں 90 لاکھ یورو کے فن پارے لے کر فرار ہو گئے

15
0

SOURCE :- BBC NEWS

Villa dei Capolavori, home to the Magnani Rocca Foundation, pictured in 2020

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پولیس کا کہنا ہے کہ رینوار، سیزان اور ماتیس کی لاکھوں یورو مالیت کی پینٹنگز اٹلی کے شہر پارما کے قریب ایک میوزیم میں ہونے والی ڈکیتی کے دوران چوری کر لی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق چار نقاب پوش افراد 22 مارچ کو میگنانی روکا فاؤنڈیشن ولا میں داخل ہوئے اور پیئرآگست رینوار کی ’لی پواسنز‘، پال سیزان کی ’سٹل لائف ود چیریز‘ اور ہنری میٹیس کی ’اوڈالسک آن دی ٹیرس‘ پینٹنگز لے گئے۔

اطالوی میڈیا کے مطابق یہ گروہ صرف تین منٹ میں عمارت کے اندر داخل ہو کر واپس باہر بھی نکل گیا اور صرف میوزیم کے الارم سسٹم نے انھیں مزید چوری کرنے سے روکا۔

An artwork of two women in a room with open doors looking out over the sea. One lounges in a dress on a cushion and another sits, unclothed on her upper body, holding a violin.

،تصویر کا ذریعہAlamy

یہ ادارہ حالیہ برسوں میں ہونے والی ڈکیتیوں کا تازہ ترین شکار بنا ہے۔

اس سے پہلے گذشتہ اکتوبر میں پیرس کے لوور میوزیم سے قیمتی جواہرات کی دن دہاڑے چوری نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی تھی۔

اطالوی میڈیا کے مطابق ڈکیتی میں ملوث چورپارما کے دیہی علاقے میں واقع ولا دیئی کاپولاووری کے مرکزی دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوئے اور عمارت کی پہلی منزل پر موجود فرینچ روم سے پینٹنگز چرا کر لے گئے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق یہ گروہ ’منظم اور تربیت یافتہ‘ دکھائی دیتا تھا اور اگر نجی کلیکشن کا الارم نہ بجتا اور پولیس کو اطلاع نہ ملتی تو وہ مزید فن پارے بھی لے جا سکتے تھے۔

علاقائی نشریاتی ادارے ٹی جی آر، جس نے سب سے پہلے اس چوری کی خبر دی کے مطابق، مجرم باڑ پھلانگ کر فرار ہو گئے۔

ایک اندازے کے مطابق چوری کی گئی پینٹنگز کی مجموعی مالیت 90 لاکھ یورو ہے، جن میں سے صرف ’لی پواسنز‘ کی قیمت 60 لاکھ یورو بتائی جاتی ہے۔

اس لاگت کی وجہ سے یہ واقعہ حالیہ برسوں میں اٹلی کی اہم ترین آرٹ چوریوں میں سے ایک بن جاتا ہے۔

Still Life with Cherries by Paul Cézanne

،تصویر کا ذریعہMagnani Rocca Foundation

رینوار امپریشنسٹ تحریک کے نمایاں مصوروں میں سے ایک تھے اور انھوں نے سنہ 1917 میں آئل پینٹ سے کینوس پر ’لی پواسنز‘مکمل کی تھی۔

فاؤنڈیشن کے مطابق سیزان کی تخلیق جو تقریباً 1890 میں مکمل ہوئی۔ یہ ایک نایاب پینٹنگ ہے کیونکہ اس میں واٹر کلر استعمال کیا گیا ہے، جسے انھوں نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ہی اپنایا تھا۔

’اوڈالسک آن دی ٹیرس‘، جسے میٹیس نے 1922 میں بنایا، دو شخصیات کو دکھاتا ہے ایک خاتون دھوپ میں لیٹی ہوئی ہیں جبکہ دوسری کے ہاتھ میں وائلن ہے۔

Villa dei Capolavori, home to the Magnani Rocca Foundation, pictured in 2020

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چوری کی تحقیقات اب اٹلی کا کیرابینیری اور بولونیا کی کلچرل ہیریٹیج پروٹیکشن یونٹ کر رہا ہے۔

اس واردات کی خبراتوار کو منظرِ عام پر آئی تھی۔

میگنانی روکا فاؤنڈیشن، موسیقار اور آرٹ کلیکٹر لوئیجی میگنانی کی وفات کے بعد 1984 میں ان کے آبائی گھر میں قائم کی گئی تھی۔

SOURCE : BBC