SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلپائن میں مقیم ایک خاتون کہتی ہیں کہ وہ ’اونلی فینز‘ پر دو ڈالر فی گھنٹہ سے بھی کم پیسے کماتی ہیں لیکن انھیں زیادہ پیسے کمانے والی ماڈل ہونے کا ڈرامہ کرنا پڑتا ہے، جو ’دل توڑ دینے والا‘ عمل ہے۔
اونلی فینز فحش مواد تخلیق کرنے والے افراد کو آن لائن صارفین سے جوڑتا ہے، جو تخلیق کاروں کے مواد تک رسائی حاصل کرنے اور ان سے چیٹ کرنے کے لیے سبسکرپشن کی مد میں فیس ادا کرتے ہیں۔
تاہم جہاں اس پلیٹ فارم پر معروف کونٹینٹ کریٹرز بڑی رقوم کما سکتے ہیں، وہیں مداحوں سے بات چیت کرنے اور انھیں تصاویر اور ویڈیوز فروخت کی کوشش کرنے کا کام اکثر کم اجرت پانے والے افراد کرتے ہیں۔ یہ افراد کسی تیسرے فریق (تھرڈ پارٹی) کے ذریعے ملازمت پر رکھے جاتے ہیں۔
ایسی ہی ایک خاتون ماڈل سے بی بی سی سے گفتگو کی۔
ایسے کارکنان کی نمائندگی کرنے والی یونین نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ اسے اس قسم کے آن لائن کام کی ’بڑی حد تک غیر منظم نوعیت‘ پر تشویش ہے۔
اونلی فینز نے سنہ 2024 میں 7 ارب 20 کروڑ ڈالر کمائے تھے۔ اس نے اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا لیکن اس کی شرائط میں درج ہے کہ کاروباری تعلق صرف اور صرف کونٹینٹ کریٹرز کے ساتھ ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’یہ کوئی خوشگوار کام نہیں‘
بی بی سی نے جس خاتون سے بات کی، ان کی شناخت کے تحفظ کے لیے اس تحریر میں ان کا نام نہیں درج کیا جا رہا۔
یہ خاتون اونلی فینز پر جس ماڈل کر کردار نبھا رہی ہیں اس کی ایجنسی نے انھیں ملازم رکھا۔
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے آمدن میں کمی کے باعث اپنے خاندان کی کفالت کے لیے یہ کام شروع کیا تھا، جس کے لیے انھیں فی گھنٹہ دو ڈالر سے بھی کم رقم ملتی تھی اور وہ ایک ہفتے میں پانچ دن آٹھ گھنٹے کی شفٹ کرتی تھیں۔
ان شفٹوں کے دوران انھیں ہدف دیا جاتا تھا کہ وہ ماڈل کے لیے تصاویر اور ویڈیوز کی فروخت سے سینکڑوں ڈالر کمائیں۔
اونلی فینز پر سب سے مقبول کونٹینٹ کریٹرز کا دعویٰ ہے کہ وہ ہر ماہ لاکھوں ڈالر کماتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں وہ ایک نئی ایجنسی کے ساتھ آن لائن چیٹنگ کا کام کر رہی تھیں، جہاں انھیں بہتر معاوضہ ملتا تھا لیکن یہ بھی چار ڈالر فی گھنٹہ سے کم تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ انھیں معلوم تھا کہ ان کے کام میں فحش مواد کا بہت عمل دخل ہوگا لیکن ’سیکسٹنگ‘ (جنسی نوعیت کی چیٹنگ) بھی ایک ناخوشگوار کام ہے۔
’اگر آپ اس کے بارے میں سوچیں تو آپ کو گِھن سی آتی ہے کیونکہ آپ کو بار بار سیکسٹنگ کرنی پڑتی ہے، اکثر ایک گھنٹے میں کئی بار اور آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک ہی وقت میں متعدد فینز کے ساتھ بات کر رہے ہوتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ جن لوگوں سے وہ بات کرتی تھیں وہ اکثر ’اچھے‘ محسوس ہوتے تھے لیکن واضح نظر آ رہا ہوتا تھا کہ وہ تنہائی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے یہ پورا عمل اداسی کی نظر ہو جاتا تھا۔ انھیں اس لیے بھی زیادہ بُرا لگتا تھا کیونکہ وہ کسی دوسری ماڈل کا کردار نبھا رہی ہوتی تھیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وہ کہتی ہیں کہ وہ اس بے ایمانی سے پریشان رہتی ہیں۔
’تکنیکی طور پر میں انھیں دھوکہ دے رہی ہوں کیونکہ میں انھیں یہ تمام تصاویر اور ویڈیوز بھیج رہی ہوں اور میرا مقصد صرف انھیں یہ چیزیں فروخت کرنا ہے۔‘
ان ’چیٹرز‘ کے استعمال پر اونلی فینز اور تھرڈ پارٹی ایجنسیوں کو صارفین کی جانب سے قانونی مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اب تک کسی کو بھی اس پلیٹ فارم کے خلاف کامیابی نہیں ملی۔
خاتون کہتی ہیں کہ کچھ مداح اکثر بہت عجیب یا نامناسب درخواستیں کرتے ہیں، جنھیں وہ عام طور پر برداشت کر لیتی ہیں لیکن ہمیشہ نہیں۔
’کبھی کبھی ایسے دن بھی آتے ہیں کہ میں خود سے پوچھتی ہوں کہ میں یہ کیا کر رہی ہوں؟ کیونکہ کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جب مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ان کے بُرے حالات کا فائدہ اُٹھایا جا رہا ہے تو انھوں نے کہا جب وہ دو ڈالر فی گھنٹہ سے کم اجرت پر کام کرتی تھیں وہ ان کے لیے ’اچھا وقت نہیں‘ تھا۔
’یہ دل کو ٹھیس پہنچانے والی بات ہے، خاص طور جب آپ کی ایجنسی آپ سے زیادہ رقم کما رہی ہو۔‘
فلپائنز میں فحش مواد کی ترسیل کے حوالے سے سخت قوانین ہیں اور ایسی ملازمتیں کرنے والوں کو اکثر قانونی پیچیدگیوں کا بھی خوف ہوتا ہے۔
ملک میں ایسے کارکنان کے لیے کام کرنے والی یونین بی آئی ای این کی صدر میلین کبلونا کہتی ہیں کہ ’ملک میں پورنوگرافی کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں لیکن انھیں زیادہ تشویش اس شعبے کے غیرمنظم ہونے پر ہے۔‘
SOURCE : BBC



