Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں انڈیا میں کانفرنس کے دوران ’چینی ساختہ‘ روبوٹ کتے کی نمائش پر...

انڈیا میں کانفرنس کے دوران ’چینی ساختہ‘ روبوٹ کتے کی نمائش پر تنازع کیوں ہوا؟

16
0

SOURCE :- BBC NEWS

نئی دہلی کی اے آئی سمٹ میں پیش کیا گیا روبوٹ ڈاگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

7 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈیا میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات پر مبنی پانچ روزہ اجلاس کو عالمی رہنماؤں اور ٹیکنالوجی ایگزیکٹوز کے ایک تاریخی اجتماع کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ تاہم یہ اپنے آغاز کے بعد سے ہی ایک کے بعد دوسرے تنازع کا شکار ہوتا چلا گیا۔

لیکن اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران سب سے منفرد تنازع ایک روبوٹ کتے پر پیدا ہوا۔

پیر کے روز اس اجلاس کا افتتاح انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا اور اسے عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) میں منعقد ہونے والی پہلی بڑی بین الاقوامی اے آئی کانفرنس قرار دیا گیا۔ اس بین الاقوامی ایونٹ میں 20 ممالک کے صدر، وزرائے اعطم اور نائب صدور شرکت کر رہے ہیں۔

تاہم آغاز سے ہی اس کے بارے میں شکایات سامنے آنے لگیں۔

افتتاح کے موقع پر شرکا نے طویل قطاروں، حد سے زیادہ بھیڑ اور بد انتظامی کی شکایت کی۔ شرکا کا کہنا تھا کہ انھیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔ کچھ نے یہ بھی بتایا کہ کھانے اور پانی تک رسائی محدود تھی اور ان کے سٹال سے ان کی مصنوعات چوری ہو گئیں۔

مغرب کو عمومی طور پر مصنوعی ذہانت کا مرکز خیال کیا جاتا ہے۔ لہذا یہ بات اہم تھی کہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے اہم رہنماؤں کا اجلاس جنوب میں ہو رہا ہے، یعنی وہ خطہ جو مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مصنوعی ذہانت کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گذشتہ برس ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں نے انڈیا میں مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔

مائیکروسافٹ کی جانب سے 17.5 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔ یہ ایشیا میں اس کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ گوگل نے 15 ارب ڈالرز جبکہ ایمازون نے 35 ارب ڈالرز مختص کیے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایمازون ان 35 ارب ڈالرز میں سے کتنی رقم مصنوعی ذہانت پر خرچ کرے گا۔

انڈیا خود کو عالمی جنوب کے رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے۔ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کہہ چکے ہیں کہ ’مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی شراکت داری میں عالمی جنوب کی زیادہ شمولیت ہونی چاہیے۔‘

روبوٹ کتے پر تنازع کیوں ہوا؟

مصنوعی ذہانت کے اس اجلاس میں ایک روبوٹ کتا بھی رکھا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں انڈیا کی گلگوٹیا یونیورسٹی کی نمائندہ انٹرویو لینے والے کو اس کتے سے متعارف کرا رہی تھیں۔ انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا ’آپ کو اورائن سے ملنا چاہیے۔ یہ گلگوٹیا یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلینس نے بنایا ہے۔‘

اور اسی دعوے نے ایسے تنازع کو جنم دیا جس پر ہر کوئی بات کر رہا ہے۔

انڈیا کے وزیر برائے ریلوے، اطلاعات و نشریات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی وشنو نے ایکس پر ایک روبوٹ کتے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’انڈیا کے خود مختار اے آئی ماڈلز عالمی معیار پر اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ یہ ہمارے انجینیئرز اور جدت کاروں کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔‘

انڈیا کے وزیر برائے ریلوے، اطلاعات و نشریات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی وشنو کی ایکس پوسٹ جس میں وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ روبوٹ کتا انڈیا میں تیار کیا گیا

،تصویر کا ذریعہX

اسی پوسٹ کے نیچے صارفین کے رد عمل کی مدد سے ہی ایکس نے یہ سیاق و سباق مرتب کیا: ’یہ روبوٹ چین سے درآمد کیا گیا ہے، جس کی لاگت 2800 ڈالرز ہے۔‘

چائنہ پلس نامی ایک ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ’دہلی کی اے آئی سمٹ میں انڈیا کی ایک یونیورسٹی نے چینی روبوٹ کو اپنی تخلیق ظاہر کر کے پیش کیا ہے۔‘

اس کے بعد تنقید کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔

چائنہ پلس ایکس اکاؤنٹ کی پوسٹ۔ جس میں دعویٰ ہے کہ یونی ٹری ڈاگ چین میں بنایا گیا

،تصویر کا ذریعہX

انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ایکس پوسٹ میں لکھا ’مودی حکومت نے عالمی سطح پر انڈیا کو اے آئی کے معاملے میں مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ اے آئی سمٹ میں چینی روبوٹوں کو ہمارا اپنا بتا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ چینی میڈیا نے ہمارا مذاق اُڑایا ہے۔ یہ بھارت کے لیے واقعی شرم ناک ہے۔‘

واضح رہے کہ مذکورہ پوسٹ اب اشونی وشنو کے ایکس اکاؤنٹ پر موجود نہیں ہے۔

تنازع کے بعد گلگوٹیا یونیورسٹی نے بھی ایکس پر وضاحت جاری کی اور لکھا ’یہ روبوٹ کتا گلگوٹیا نے نہیں بنایا اور نہ ہی ہماری جانب سے ایسا دعویٰ کیا گیا۔‘

یونیورسٹی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جس سے فیکلٹی اور طلبہ ’گہری تکلیف محسوس کر رہے ہیں۔‘

روبوٹ کتا آخر بنایا کس نے؟

انڈیا کے متعدد ذرائع ابلاغ کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے پیش کیا گیا چار ٹانگوں والا روبوٹ دراصل یونی ٹری گو 2 تھا۔ ایک ایسا کمرشل روبوٹ جو ایک چینی کمپنی بناتی ہے۔ یونی ٹری روبوٹکس ایک چینی کمپنی ہے جو ہائی پرفارمنس چار ٹانگوں والے روبوٹ بنانے میں مہارت رکھتی ہے۔

یونیورسٹی کی جن نمائندہ نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ روبوٹ کتا یونیورسٹی کی جانب سے بنایا گیا ہے، انڈین میڈیا نے ان سے بھی انٹرویو کیا۔

انھوں نے اپنی شناخت گلگوٹیا یونیورسٹی کی پروفیسر نیہا سنگھ کے نام سے کرائی اور کہا کہ ابتدائی انٹرویو میں شاید وہ اپنی بات زیادہ واضح انداز میں کہہ نہیں پائیں۔

ان کا کہنا تھا: ‘اس روبوٹ ڈاگ کے اوپر ہی برینڈنگ ہے، جب ہم نے برینڈنگ تبدیل نہیں کی تو یہ دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں کہ ڈاگ ہم نے بنایا۔’

خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے مطابق گلگوٹیا یونیورسٹی کے سٹاف نے سمٹ میں اپنا سٹال خالی کر دیا ہے۔

SOURCE : BBC