SOURCE :- BBC NEWS

،تصویر کا ذریعہHands Out
- مصنف, زاویار سیلوا کمار
- عہدہ, بی بی سی تمل
-
55 منٹ قبل
سات ہزار سے زیادہ سانپوں کو پکڑنے والے سنتوش کی موت سانپ کے ڈسنے سے ہوئی۔
39 سالہ سنتوش کو 17 مارچ کو انڈین ریاست تمل ناڈو کے علاقے تھنڈاموتھر کے ایک گھر میں کوبرا نے کاٹ لیا تھا اور وہ اسی سانپ کو پکڑنے گئے تھے۔
اس کے بعد سنتوش کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کروایا گیا لیکن 19 مارچ کو ان کی موت ہو گئی۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ سنتوش کی موت علاج کے دوران سانپ کے زہر سے دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔
تمل ناڈو کے محکمہ جنگلات کے سربراہ سری نواس ریڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ سپیروں کو سانپوں کو پکڑنے کے لیے مناسب تربیت اور آلات فراہم کر کے محکمے سے منسلک کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
لیکن محققین کا کہنا ہے کہ سانپ پکڑنے کے بارے میں معلومات کی کمی دراصل ان اموات کی وجہ ہے۔
سانپ کے ڈسنے سے اموات
اسی طرح مرلی دھرن نامی شخص کی موت گزشتہ سال اگست میں کوئمبٹور میں ہوئی تھی اور تین سال قبل نرمل نامی شخص کی موت بھی سانپ کو پکڑنے کی کوشش میں ہوئی تھی۔
عمر علی کو بھی گزشتہ سال اپریل میں ایک سانپ نے کاٹ لیا تھا جب وہ اسے جنگل میں چھوڑنے ہی والے تھے۔
سانپ کے کاٹنے سے مرنے والے جنگلی حیات کے شوقین سنتوش کے دوست راجن نے کہا کہ ’گزشتہ 20 سال میں سنتوش نے 7000 سے زیادہ سانپوں کو پکڑ کر جنگل میں چھوڑا۔‘
’ان کی موت کی وجہ سے ان کا خاندان غربت میں ہے۔ ان کی دو بیٹیوں میں سے ایک معذور ہے۔ راجن نے درخواست کی کہ حکومت کو کسی طرح ان کے خاندان کی مدد کرنی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہHands Out
’رش سے سانپ میں انسان کے لیے غصہ پیدا ہوتا ہے‘
منوج کرشنا ’گلوبل سنیک بائٹ ایجوکیشن اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن‘ کے بانی ہیں۔ انھوں نے سانپ کے کاٹنے کی تحقیق میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور فی الحال وہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ساتھ تحقیق کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ آسٹریلیا میں سانپ ڈسنے کے واقعات دنیا میں سب سے زیادہ ہیں لیکن وہاں ہونے والی اموات کی تعداد انڈیا کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
منوج کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آسٹریلیا کے پاس اس مسئلے سے نمٹنے کے طریقے اور سانپ کے زہر کو بے اثر کرنے کے لیے بہتر ادویات موجود ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ روایتی طور پر سانپ پکڑنے والے قبائل کے سانپوں کو پکڑنے کے طریقے اور دوسروں کے سانپوں کو پکڑنے کے طریقے میں بہت سے فرق ہیں۔
ارولر قبیلے کے ماسی سدیان اور وڈیول کو سانپوں کو پکڑنے کے لیے امریکہ اور تھائی لینڈ جیسے ملکوں میں لے جایا گیا۔ وہ سانپوں کو پکڑنے، ان کا زہر جمع کرنے اور انھیں جنگلاتی علاقوں میں واپس چھوڑنے میں مصروف ہیں۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈین سینٹر فار ریپٹائل ریسرچ، ایجوکیشن اینڈ کنزرویشن کے بانی رامیشورن ماریپن کا خیال ہے کہ اگر لوگ قبائلیوں کی طرح آگاہی کے ساتھ کام کریں، صورتحال کو سمجھیں اور جان لیں کہ سانپ کے کاٹنے کی صورت میں کیا کرنا ہے، تو اس سے اموات کو روکا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ سانپوں کو پکڑتے ہوئے ویڈیو بنانے کے لیے جوش و خروش سے جمع ہو جاتے ہیں جس سے سانپوں میں انسانوں کے لیے غصہ اور خوف پیدا ہوتا ہے اور سانپ پکڑنے والوں کے لیے خطرہ ہوتا ہے۔
رامیشورن ماریپن نے کہا کہ ’سانپ پکڑنے والوں کو یہ سمجھ کر کام کرنا چاہیے کہ ہم سانپوں کو بچانے آئے ہیں اور ہماری جانیں بھی اہم ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر آپ کو کسی چھوٹے یا بڑے سانپ نے کاٹ لیا ہے تو آپ کو بلا تاخیر ہسپتال جانا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سانپ پکڑنے والی اصطلاح غلط ہے۔ ان لوگوں کو سانپوں کو بچانے والے یا سانپوں کا محافظ کہا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ اصطلاح ’سانپ پکڑنے والا‘ خود ان لوگوں کو سانپوں کو پکڑنے کی ترغیب دے رہی ہے جنھیں سانپوں کے بارے میں کوئی بنیادی معلومات یا تجربہ نہیں۔
سانپ کی تصویر لینا ضروری کیوں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سائنس دان منوج تجویز دیتے ہیں کہ اگر آپ کو سانپ کاٹ لے تو آپ کو فوراً اس کی تصویر کھینچ لینی چاہیے،تاکہ آپ جان سکیں کہ یہ کس قسم کا سانپ ہے۔
انھوں نے کہا کہ سانپ کے کاٹنے سے جسم کے اس حصے پر درد، سوجن اور جلد کی رنگت تبدیل ہو سکتی ہے۔
انھوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ کسی بھی سانپ کے ڈسنے کی صورت میں کسی بھی شخص کو بغیر کسی خوف اور فکر کے فوری طور پر ہسپتال جانا چاہیے کیونکہ اگر وہ شخص گھبرا جائے تو زہر خون کے ذریعے تیزی سے پھیل سکتا ہے۔
رامیشورن ماریپن کا کہنا ہے کہ چونکہ سانپ پکڑنے والی جگہوں پر آسانی سے ہجوم ہو جاتا ہے، اس لیے سانپ پکڑنے والے کے پہنچنے تک سانپ خوف اور غصے کی حالت میں ہو سکتا ہے، اس لیے اسے سنبھالتے وقت انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔
سائنسدان منوج کا کہنا ہے کہ ’اگر کسی کو کوبرا کاٹتا ہے تو وہ صرف اسی صورت میں زندہ رہ سکتا ہے جب اسے ایک گھنٹے کے اندر اندر مناسب علاج مل جائے۔‘
سانپ پکڑنے میں مدد کے لیے موبائل ایپس

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین ریاست کیرالہ اور کرناٹک میں، محکمہ جنگلات نے سانپ پکڑنے میں مدد کے لیے موبائل ایپس تیار کی ہیں، جو سانپ پکڑنے والوں اور عام لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں۔
اسی طرح، جنگلی حیات کے محققین اور ماہرین ماحولیات محکمہ جنگلات سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ تمل ناڈو میں بھی سانپ پکڑنے کی کوششوں کو مربوط کریں۔
جب بی بی سی تمل نے تمل ناڈو کے محکمہ جنگلات کے سربراہ سرینواس ریڈی سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ’سانپوں کو پکڑنے کے لیے تمام کوششیں مربوط کی جا رہی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح کیرالہ میں ایک ویب سائٹ اور موبائل ایپ بنائی گئی تھی، اسی طرح یہاں بھی موبائل ایپ تیار کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اسی طرح سانپ پکڑنے والوں کو تربیت دینے اور انھیں ضروری سامان فراہم کرنے کے لیے بھی منصوبہ تیار کیا گیا لیکن ان کاموں کو مکمل کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا تو یہ سانپوں اور انسانوں دونوں کے لیے بہتر ہو گا۔‘
SOURCE : BBC