Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں امریکی فوج سنیچر تک ایران پر حملے کے لیے تیار، مگر صدر...

امریکی فوج سنیچر تک ایران پر حملے کے لیے تیار، مگر صدر ٹرمپ نے حملے کے وقت سے متعلق تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا: سی بی ایس

13
0

SOURCE :- BBC NEWS

ASR-E IRAN

،تصویر کا ذریعہASR-E IRAN

ایران میں ’بہشتِ زہرا تنظیم‘
کے سربراہ محمد جواد تاجک نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ گزشتہ ماہ ایران میں
حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کو اجتماعی قبروں میں یا اُن کی خفیہ
تدفین کی گئی۔

18 فروری کو خبر رساں ادارے فارس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تاجک
نے کہا کہ ’ بہشتِ زہرا نامی قبرستان میں تدفین باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے تحت
کی جاتی ہے اور اس کا باقائدے نظام موجود ہے کہ جہاں تدفین سے قبل تمام تر تفصیلات
کو رجسٹر کیا جاتا ہے،‘ تاہم انھوں نے انٹرویو کے دوران خفیہ تدفین کے الزامات کو
رد کیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’بہشتِ
زہرا‘ جو ایران کا سب سے بڑا قبرستان ہے، کو حالیہ مظاہروں کے بعد 1124 لاشیں
موصول ہوئیں، لیکن یہ تعداد صرف تہران میں ہونے والی ہلاکتوں کی نہیں۔ ان کے مطابق
613 لاشیں اپنے آبائی اضلاع کو واپس بھیجی گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نصف سے
زیادہ کیسز تہران کے رہائشیوں سے متعلق نہیں تھے۔

واضح رہے کہ متعدد انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ایران میں حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

امریکہ میں قائم انسانی حقوق
کے کارکنوں کی خبر رساں ایجنسی ہرانا (HRANA) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ایران میں حالیہ
مظاہروں میں کم از کم 7015 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ مزید 11744 کیسز زیرِ تفتیش ہیں۔
ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 3117 بتائی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ
اموات امریکہ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ ’شر پسندوں‘ اور ’مسلح دہشت گردوں‘ کی
کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاجک نے ان تصاویر پر بھی وضاحت دی جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن میں لاشوں پر طبی آلات لگے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لاشیں قانونی کارروائی مکمل ہونے اور اجازت نامے کے بعد قبرستان منتقل کی جاتی ہیں اور اگر کوئی طبی آلات باقی رہ جائیں تو متعلقہ حکام ضابطے کے مطابق ان کا انتظام کرتے ہیں۔‘

تہران کے کہریزک مردہ خانے میں اپنے لاپتہ رشتہ داروں کو تلاش کرنے والے خاندانوں نے بتایا کہ انھوں نے ایسی لاشیں دیکھی ہیں جن پر سانس لینے والی نلکیاں اور پیشاب کی نالیاں لگی ہوئی تھیں۔ آن لائن شیئر کی گئی تصویروں کے سامنے آنے کے بعد ایسے سوالات بھی ہونے لگے ہیں کہ کچھ ہسپتالوں میں لوگوں کی موت کیسے ہوئی، خاص طور پر اس وقت جب یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے زخمی مظاہرین کو پکڑنے کے لیے ہسپتالوں پر چھاپے مارے۔

تاجک نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ ان کی تنظیم نے خاندانوں سے ان گولیوں کی قیمت وصول کی جن سے ان کے عزیز مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بالکل درست نہیں۔ ہم مکمل طور پر مفت خدمات فراہم کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب ہم نے لاشوں کو دوسرے صوبوں میں منتقل کیا، تب بھی کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’بہشتِ زہرا تنظیم‘ کے سربراہ محمد جواد تاجک نے امریکی فوج سے متعلق اپنے دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’ایران نے ہزاروں امریکی فوجیوں کی ممکنہ تدفین کے لیے جگہ مختص کر رکھی ہے، جسے امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک ہنگامی منصوبہ قرار دیا۔‘

ان کے مطابق تہران کے قبرستان کے نواح میں غیر مسلموں کے لیے مخصوص حصے ایسی ہلاکتوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ انھں نے کہا کہ ’اگر دشمن ملک میں داخل ہو اور جانی نقصان اٹھائے تو ہم انھیں مسلم قبرستانوں میں دفن نہیں کر سکتے۔‘

SOURCE : BBC