SOURCE :- BBC NEWS

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
-
4 گھنٹے قبل
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے مظفر آباد کے رہائشی محمد اقبال نے جب چند ہفتوں قبل اپنی بہن نسیمہ بی بی کے فیس بک اکاؤنٹ پر ان کی جانب سے شیئر کردہ چند تصاویر دیکھیں تو وہ ایک دم چونک گئے۔
ان تصاویر میں نسیمہ بی بی نے ایک شخص سے اپنی شادی کا اعلان کیا تھا۔
محمد اقبال کی ان تصاویر کو دیکھ کر چونکنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کی بہن کچھ عرصہ سے گھر سے غائب تھی اور وہ ان کی گمشدگی کی نہ صرف متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کروا چکے تھے بلکہ ان کی خیریت اور گھر واپسی کے لیے بھی پریشان تھے۔
نسیمہ بی بی کے گھر سے غائب ہو جانے کے بعد انھوں نے متعدد بار ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر ان کا کچھ پتا نہیں تھا۔
محمد اقبال کے مطابق ان کی پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کی بہن نسیمہ بی بی کچھ عرصہ قبل اپنے سابقہ شوہر محمد سفیر سے طلاق لے کر گھر آئی تھی اور پھر چند دنوں بعد غائب ہو گئیں تھی جس پر مظفر آباد کے متعلقہ تھانے کی پولیس انھیں اسلام آباد سے تلاش کر کے واپس لائی تھی۔
محمد اقبال کے مطابق اس وقت ان کی بہن نسیمہ بی بی نے انھیں بتایا تھا کہ وہ تصویر میں موجود شخص سے شادی کرنا چاہتی ہیں مگر چونکہ وہ طلاق کے بعد عدت میں تھیں اس لیے محمد اقبال نے اپنی بہن سے کہا تھا کہ ‘وہ عدت مکمل کر لیں پھر جہاں وہ چاہیں گی ان کی شادی کر دی جائے گی۔’
مگر محمد اقبال یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ اپنی جس بہن کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں وہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں اور انھیں مبینہ طور پر قتل کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ وہی شخص ہے جس کے ساتھ انھوں نے اپنی شادی کی تصاویر شئیر کی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نسیمہ بی بی کے قتل کے واقعے کا علم کیسے ہوا؟
اسلام آباد پولیس کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں اس وقت سامنے آیا جب گذشتہ ہفتے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے مظفر آباد کے ایک رہائشی محمد اقبال نے پولیس رپورٹ درج کروائی کہ ان کی بہن نسیمہ بی بی گزشتہ کچھ عرصے سے گھر سے کہیں چلی گئی ہیں اور انھوں نے اپنے فیس بک اکاونٹس پر ایک شخص سے شادی کرنے کی تصاویر شیئر کی ہیں۔
مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ مقتولہ نے مذکورہ شخص سے شادی کرنے سے پہلے گڑھی دوپٹہ کے رہائشی محمد سفیر سے شادی کی تھی جس سے اس کے تین بچے بھی ہیں۔
پولیس تصویر کی مدد سے قتل کے ملزم تک کیسے پہنچی؟
تفتیشی افسر محمد مختار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس درخواست پر قانونی کارروائی شروع کرتے ہوئے پولیس نے پہلے تو سائبر کرائم سیل کی مدد لی اور جس موبائل نمبر سے یہ تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تھیں اس کا ڈیٹا نکال کر پولیس اس گھر تک پہنچی۔
جب پولیس نسیمہ بی بی کی تلاش میں اس گھر تک پہنچی تو وہاں ان کے ساتھ تصاویر میں نظر آنے والا شخص موجود تھا جو اس مقدمے میں ملزم بھی ہے۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر کے مطابق ملزم مری کا رہائشی ہے اور الیکٹریشن اور پلمبنگ کا کام کرتا ہے اور وہ اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں ایک کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا۔
تفتیشی افسر کے مطابق جب پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے تو وہاں سے اتنی زیادہ بدبو آ رہی تھی کہ وہاں پر کھڑا ہونا بھی کافی مشکل تھا۔
پولیس اہلکار کے مطابق جب ملزم سے اس بدبو کی وجہ پوچھی تو پہلے تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا جس کے بعد پولیس اہلکار ملزم اور اس گھر کے مالک کو پکڑ کر تھانے لے گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملزم کا بیوی کو قتل کر کے پیٹی میں چھپانے کا انکشاف

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد مختار کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنی بیوی نسیمہ بی بی کو دوپٹے سے گلہ گھونٹ کر قتل کر دیا ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزم نے قتل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے بتایا کہ اسے شک تھا کہ اس کی بیوی کے کسی دوسرے مرد کے ساتھ تعلقات ہیں جس کا اس شدید رنج تھا۔
تفتیشی اہلکار کے بقول وقوعہ کے روز اسی معاملے پر دونوں میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا جس پر ملزم نے نسیمہ بی بی کے گلے میں موجود دوپٹے سے ہی اس کا گلہ گھونٹ کر اسے قتل کردیا۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار کے مطابق ملزم کے ہاتھوں پر مقتولہ کے ناخنوں کے بھی نشانات پائے گئے ہیں۔
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزم نے دوران تفتیش اس بات کا اقرار کیا کہ چونکہ وہ گھر کی اوپر والی منزل پر کرائے پر رہتا تھا اس لیے اپنی بیوی کو قتل کرنے کے بعد وہ سوچتا رہا کہ اس کی لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا جائے۔
ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اگر وہ اس لاش کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر نیچے اترتا تو مالک مکان اور محلے دار اس کو دیکھ لیتے اور سارا راز فاش ہو جاتا چنانچہ اس صورت حال میں اس نے اپنی بیوی کی لاش کو کمرے میں موجود کپڑے والی پیٹی میں بند کر دیا اور اس پر کپڑے ڈال دیے۔
مقامی پولیس کے مطابق یہ پیٹی مالک مکان کی تھی جس میں رضائیاں اور سردیوں کے کپڑے پڑے ہوئے تھے۔
مقامی پولیس کے مطابق ملزم ایک ہفتے تک اس لاش کا پہرہ دیتا رہا، پیٹی کمرے میں تھی جس میں لاش پڑی ہوئی تھی جبکہ ملزم کمرے سے باہر سوتا رہا۔
مقتولہ نسیمہ بی بی کے بھائی محمد اقبال کا کہنا ہےکہ اسلام آباد کی پولیس نے نسیمہ بی بی کی لاش پولی کلینک منتقل کی جہاں پر انھوں نے اپنی بہن کی لاش کی شناخت کی۔
پولیس اہلکار کے بقول ملزم الیکٹریشن اور پلمبنگ کا کام کرتا ہے اور اس سے پہلے اس کی تین شادیاں ہو چکی تھیں جس میں سے ملزم کی ایک بیوی فوت ہوچکی تھی جبکہ دو بیویوں کو وہ طلاق دے چکا تھا۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزم نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ اس نے مقتولہ نسمیہ بی بی کو ڈیڑھ لاکھ روپے میں ایک شخص سے خریدا تھا جس کے بعد اس سے شادی کی تھی۔
مقامی پولیس کے مطابق پولیس نے جائے وقوعہ سے آلہ قتل (دوپٹہ) ملزم کی نشاندہی پر برآمد کرلیا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس قتل کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں موت کی وجہ دم گھٹنا بتایا گیا ہے جبکہ لاش کے نمونے فرانزک لیب لاہور میں بجھوا دیے ہیں جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔
اسلام آباد کی پولیس نے بیوی کو قتل کرنے کے ملزم کو مقامی عدالت میں بھی پیش کیا جہاں مقامی عدالت نے ملزم کا دو روز کا جسمانی ریمانڈ دے کر اسے پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔
SOURCE : BBC