Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’ارب پتی شخص کی آیا‘ کی پُرتعیش زندگی: ’فرانس سے فراری لینے...

’ارب پتی شخص کی آیا‘ کی پُرتعیش زندگی: ’فرانس سے فراری لینے کے لیے مجھے راتوں رات اپنا بیگ تیار کرنا پڑا‘

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

جولیانا

،تصویر کا ذریعہInstagram/@gbpassarelli_

’آپ نے وہ کہاوت تو سُنی ہو گی کہ ایک دن میں سب کے پاس کام کرنے کے لیے ایک جتنا وقت ہوتا ہے، یعنی 24 گھنٹے۔ مگر یہ جھوٹ ہے!‘

یہ کہنا ہے برازیل سے تعلق رکھنے والی 31 سالہ خاتون جولیانا پاساریلی کا، جو ایک ارب پتی کاروباری شخصیت کی پرسنل اسسٹنٹ (ذاتی معاون) ہیں۔

جولیانا کہتی ہیں کہ جس شخص کے پاس میں کام کرتی ہوں ’اُس کے پاس میرے 24 گھنٹے بھی ہوتے ہیں۔‘

جولیانا اپنے 35 سالہ کروڑ پتی باس کا ہر وہ کام کرتی ہیں جو وہ خود سے نہیں کرنا چاہتے۔ پھر چاہے وہ اُن کے لیے5,000 ڈالر مالیت کے سوٹ کا انتخاب ہو، اُن کی سالگرہ کی تقریب کا انتظام کرنا ہو یا اُن کے بیٹے کے لیے سکول کی چیزیں خریدنی ہوں۔

لیکن اُن کی روزمرہ زندگی میں بعض دن اُن ’عام سے کاموں‘ سے بڑھ کر زیادہ غیر معمولی بھی ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ وہ بتاتی ہیں کہ ایک بار اُن کے باس نے انھیں اچانک فرانس جانے کو کہا تاکہ وہ اُن کے لیے ایک فراری گاڑی خرید سکیں!

اس واقعے سے متعلق وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے فرانس جانے کے لیے راتوں رات اپنا سامان پیک کرنا پڑا کیونکہ میرے باس نے فراری کا ایک خاص کلیکٹر ایڈیشن خریدا تھا۔ ہم پیرس کے قریب ایک شہر گئے اور مجھے گاڑی کو فرانس سے برازیل لانے کے تمام کاغذی معاملات نمٹانے پڑے۔‘

جولیانا

،تصویر کا ذریعہInstagram/@gbpassarelli_

جولیانا کی اس دلفریب نظر آنے والی نوکری کا کوئی مقررہ شیڈول نہیں ہے یعنی یہ طے نہیں ہے کہ وہ دن یا رات کے کس وقت میں کام کریں گے۔ ایک دن انھیں باس کے کتے کو جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑ سکتا ہے یا باس کے دانتوں کے ڈاکٹر کی اپوائنٹمنٹ بُک کرنی پڑ سکتی ہے۔ بلوں کی ادائیگی بھی انھی کی ذمہ داری ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’آپ جانتے ہیں جب آپ کو دن میں بہت سے کام کرنے ہوں اور آپ سوچتے ہیں کہ اوہو میں فلاں کام تو بھول ہی گئی۔۔۔ مگر یہ میرے ساتھ نہیں ہوتا، مصروف شیڈول کے باوجود میں کچھ نہیں بھولتی۔‘

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اسی لیے سوشل میڈیا پر جولیانا کو ’ملٹی ملینئر کی نینی‘ (یعنی کروڑ پتی شخص کی آیا) کہا جاتا ہے۔ وائرل ہونے والی یہ اصطلاح دراصل ایک مذاق سے شروع ہوئی تھی جو انھوں نے اپنے باس کے ساتھ کیا تھا۔

’میں اپنے باس سے مذاق کر رہی تھی کیونکہ ہماری کافی دوستی اور گپ شپ ہے۔‘

جیولیانا وضاحت کرتی ہیں کہ چونکہ وہ اپنے باس کے ہر کام کی ذمہ داری لے لیتی ہیں اس لیے اُن کے باس باآسانی ان جھنجھٹوں سے بچ کر اپنے کام پر فوکس کر سکتے ہیں۔

’آپ جانتے ہیں جب آپ کو دو سال کے بچے پر نظر رکھنی پڑتی ہے اور آپ ایک لمحے کے لیے بھی پلک نہیں جھپک سکتے؟ وہی حال میرے ساتھ ہے۔ میں کسی اور کی زندگی کی ذمہ دار ہوں ۔‘

جولیانا نے ایڈورٹیزمینٹ میں گریجویشن اور مارکیٹنگ میں پوسٹ گریجویشن کر رکھی ہے۔ وہ ایڈورٹائزنگ اور ایونٹس کا پرکشش شعبہ چھوڑ کر ایک کروڑ پتی کاروباری شخصیت کی زندگی کا مکمل انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔

مگر ایسا نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ سے یہی نوکری کر رہی ہیں۔ ماضی میں وہ ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں کام کر چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اپنا کام بہت پسند تھا لیکن میں اس میں کوئی روٹین نہیں بنا پائی۔ میں اپنے آپ کو صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک کمپیوٹر کے پیچھے قید نہیں دیکھ نہیں سکتی تھی۔‘

کورونا کی عالمی وبا کے دوران انھیں یہ موقع ملا، جب اُن کے ایک جاننے والے نے انھیں ایک کروڑ پتی کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے کی نوکری بتائی۔ صرف پانچ منٹ کے انٹرویو کے بعد اس کاروباری شخصیت نے انھیں نوکری پر رکھ کر آزمانے کا فیصلہ کیا اور اب جولیانا کو یہ کام کرتے ہوئے پانچ سال سے زیادہ ہو گئے ہیں۔

’اگرچہ آج بھی میری کوئی مقررہ روٹین نہیں ہے لیکن اب یہ میرے لیے مسئلہ نہیں کیونکہ میں کبھی روٹین سے جڑی ہوئی شخصیت نہیں رہی ہوں۔‘

’مجھے یہ زیادہ پسند ہے کیونکہ ہر دن آپ مختلف کام کرتے ہیں اور مختلف چیزیں سیکھتے ہیں۔ آپ کو بہت کچھ سیکھنا پڑتا ہے۔‘

ان کے کام کا ایک انوکھا پہلو بھی ہے۔ جولیانا یاد کرتی ہیں کہ ایک بار اُن کے باس نے ایک مضمون پڑھا جس میں بتایا گیا تھا کہ کروڑ پتی لوگ چھوٹی مرغیوں کے شوقین ہوتے ہیں، تو ان کے باس نے بھی یہ شوق اپنانے اور اس ٹرینڈ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔

یہ چھوٹی مرغیاں، جنھیں بانٹم چکن یا سیراما نسل کی مرغیاں کہا جاتا ہے، برازیل کے صوبہ ساؤ پاؤلو کے اندرون علاقوں میں فروخت کے لیے پالی جاتی ہیں۔ مرغیوں کی اس نسل کا تعلق ملائیشیا سے ہے اور یہ مرغی اوسطاً 15 سینٹی میٹر اونچی ہوتی ہے، جبکہ اسی نسل کی بڑی مرغی75 سینٹی میٹر تک پہنچ سکتی ہے۔

’پھر ایک روز میرے باس دفتر میں دو مرغیاں لے آئے اور میں حقیقتاً ان ننھی مرغیوں کی نینی یا آیا بن گئی۔‘

اس ایک مرغی کی قیمت تقریباً 586 امریکی ڈالر تک ہوتی ہے۔ اب یہ مرغیاں ان کے باس کے ایک فارم پر ہیں لیکن جولیانا کو اب بھی ان کی تصاویر اور اپڈیٹس لینی پڑتی ہیں تاکہ وہ اپنے باس کو اُن کی مرغیوں کے بارے میں آگاہ رکھ سکیں۔

جولیانا کا ٹک ٹاک پروفائل پہلے ہی 50 لاکھ سے زائد لائکس اور 1,40,000 سے زیادہ فالوورز حاصل کر چکا ہے، جہاں وہ ویڈیوز کے ذریعے اپنے کام کی ’ملٹی ملینئر نینی‘ کے طور پر اپنے کام کی جھلکیاں دکھاتی ہیں۔

جولیانا

،تصویر کا ذریعہInstagram/@gbpassarelli_

ٹائم اور سٹیٹس

ساؤ پاؤلو کی ہائر سکول آف ایڈورٹائزنگ اینڈ مارکیٹنگ میں پروفیسر کرسٹینا پروئینسا، جو لگژری بزنس اور مارکیٹنگ کے پوسٹ گریجویٹ پروگرام کی کوآرڈینیٹر ہیں، کہتی ہیں کہ جولیانا جیسی زندگی دنیا کے امیر ترین افراد کے گھریلو ملازمین، جیسے ہاؤس کیپرز اور بٹلرز، میں عام ہے۔

’یہ (ملازمین) ہمیشہ روایتی کروڑ پتی خاندانوں میں موجود رہے ہیں؛ ایسے امیر ترین گھرانوں میں ایسے ملازمین بھی ہوتے ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں اور ان کا بنیادی کام ایسے افراد کے روز مرہ کاموں میں اُن کی مدد کرنا ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق دولت کا ایک مخصوص طبعے میں ارتکاز اس انتہائی خصوصی خدمت سے منسلک ملازمین کی مانگ کو بڑھا رہا ہے۔

بین اینڈ کمپنی کی ایک تحقیق کے مطابق برازیل کی لگژری مارکیٹ، جس کا حجم 2022 میں تقریباً 14.4 ارب امریکی ڈالر تھا، 2030 تک بڑھ کر تقریباً 29.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی اور اس ترقی کو وہ خاندان آگے بڑھا رہے ہیں جن کے اثاثے ایک ملین امریکی ڈالر سے زیادہ ہیں۔

برازیل میں ’سُپر رچ‘ یعنی انتہائی امیر افراد پر مشتمل گروپ، جسے حکومت ’ہائی انکم ٹیکس دہندگان‘ قرار دیتی ہے، تقریباً 1,41,400 افراد پر مشتمل ہے۔

ایک ایسی مارکیٹ میں جو تیزی سے خصوصی خدمات پر مرکوز ہو رہی ہے، ’سپر پرسنلائزیشن‘ لگژری تجربے کی کلید بن گئی ہے۔

’ایک پرسنل اسسٹنٹ وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے کلائنٹ کو اتنا اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ ان ہی کی شخصیت میں ڈھل جاتا ہے اور یہی امیر ترین طبقہ چاہتا ہے: کچھ انتہائی منفرد، کچھ ایسا جس تک کسی اور کی رسائی نہ ہو۔‘

سب سے قیمتی خواہش کوئی مادی چیز نہیں بلکہ وقت ہے۔

’جب آپ اس نوعیت کے افراد کو اپنے ذاتی ملازم کے طور پر بھرتی کرنے کی بات کرتے ہیں تو اصل میں آپ وقت خرید رہے ہوتے ہیں، یعنی آپ دوسروں کا وقت خرید کر اپنے لیے مزید وقت حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔‘

’ایک عام زندگی میں آپ کے پاس وہ کام ہوتے ہیں جو کرنے نہایت ضروری ہیں، جیسے گھر کی دیکھ بھال وغیرہ، لیکن یہ آپ کو دیگر کاموں سے روک دیتے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا شخص انھیں سنبھال سکتا ہے تو آپ کو فرصت ہی فرصت ہے۔‘

’کسی انتہائی امیر شخص کے پاس وقت کا ہونا خود ایک سٹیٹس سمبل ہے۔‘

پروفیسر کرسٹینا پروئینسا کہتی ہیں کہ انھیں ’ملٹی ملینئر کی نینی‘ کی اصطلاح پسند نہیں۔

’اس اصطلاح سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ شخص (کاروباری ارب پتی) اپنی زندگی خود سنبھالنے کے قابل نہیں۔ جب آپ ’نینی‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب ایک بچے یا شیر خوار کو پالنا ہے، جو خود مختاری نہیں ہوتا۔‘

مگر وہ کہتی ہیں کہ زیادہ دولت رکھنے والے افراد جو اس نوعیت کے افراد کی خدمات حاصل کرتے ہیں ان کے لیے یہ منطق مختلف ہے۔

’سب سے آسان کام بھی آؤٹ سورس کیے جا سکتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ محض ایک گلاس پانی لانے جیسا ہوتا ہے۔‘

SOURCE : BBC