Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’آپ ایک سر کاٹیں تو دوسرا پیدا ہو جاتا ہے‘: ایران کے...

’آپ ایک سر کاٹیں تو دوسرا پیدا ہو جاتا ہے‘: ایران کے حکمران اقتدار پر اپنی گرفت کیسے مضبوط رکھے ہوئے ہیں؟

3
0

SOURCE :- BBC NEWS

A large photo of Iran's new Supreme Leader, Ayatollah Mojtaba Khamenei, the son of the late Ayatollah Ali Khamenei, is displayed against a national flag and an Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) flag. Supporters can be seen waving the flags

،تصویر کا ذریعہMorteza Nikoubazl/NurPhoto via Getty Images

ایران میں 1979 میں آنے والے انقلاب کے چالیس سال بعد آج وہاں کے موجودہ حکمران مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل نے مل کر جو فضائی حملے کیے، ان میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز مارے گئے اور ساتھ ہی ملک کا اہم انفراسٹرکچر بھی بری طرح متاثر ہوا۔

امریکہ اور اسرائیل کھل کر کہہ رہے ہیں کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ ایرانی عوام سے اپنی حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی اپیل بھی کر رہے ہیں۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے برسوں میں ایسا مضبوط نظام بنایا جو آسانی سے گرنے والا نہیں۔ اس کے اندر طاقت کی تقسیم اور اداروں کا ڈھانچہ اس طرح بنایا گیا کہ کوئی بیرونی دباؤ یا اندرونی بغاوت فوراً اسے ہلا نہیں سکتی۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر ایران کی حکومت اتنی مضبوط کیوں ہے اور یہ نظام خطے کے دوسرے ممالک سے کس طرح مختلف ہے؟

ہائیڈرا جیسا نظام

مجتبیٰ خامنہ ای سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے والد کی سخت گیر حکمرانی کو جاری رکھیں گے

،تصویر کا ذریعہMorteza Nikoubazl/NurPhoto via Getty Images

ماہرین کہتے ہیں کہ ایران میں بادشاہت کے خاتمہ کے بعد یہاں ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ کھڑا کیا گیا جو جھٹکوں کو برداشت کرنے کے لیے بنایا گیا۔

ایک ایسا نظام جس میں سخت کنٹرول والے ادارے، نظریاتی تربیت، حکمران طبقے کا باہمی اتحاد اور تقسیم شدہ اپوزیشن سب شامل ہیں۔

یورپی جیوپولیٹیکل انسٹیٹیوٹ کے مشرقِ وسطیٰ کے محقق سیباسٹین بوسوا کے مطابق ’یہ ایک ہائیڈرا جیسے ڈھانچے کی طرح ہے، آپ ایک سر کاٹیں تو اس کی جگہ دوسرا سر پیدا ہو جاتا ہے۔‘

آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا جانشین منتخب کر لیا گیا۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں ہی کو آگے بڑھائیں گے۔

’پولی ڈکٹیٹر شپ‘

ماہرین کہتے ہیں کہ خطے کے دیگر ممالک، جیسے تیونس، مصر اور شام میں جہاں حکمرانوں کو ہٹا دیا گیا تھا، ان کے برعکس ایران بیرونی دباؤ اور جھٹکوں کا مقابلہ بہتر طریقے سے کر سکا اور اس کی بڑی وجہ اس کا نظریاتی بنیادوں پر کھڑا سکیورٹی ڈھانچہ ہے۔

ایک عام آمرانہ نظام کے برعکس، جو صرف ایک شخص کے گرد گھومتا ہے، جیسا کہ تہران میں قائم فرانسیسی تحقیقی ادارے کے سابق ڈائریکٹر برنار اوکادے کہتے ہیں کہ ’ایران میں ایک طرح کی ’پولی ڈکٹیٹرشپ‘ ہے، یعنی ایسا نظام جو سیاسی اسلام کے حامیوں اور سخت گیر ایرانی قوم پرستی کے درمیان ایک مضبوط اتحاد پر قائم ہے۔ ‘

ایران میں طاقت کئی مراکز میں بٹی ہوئی ہے جن میں مذہبی ادارے، مسلح افواج اور معیشت کے بڑے حصے۔۔۔ جس کی وجہ سے اس نظام کو گرانا ایک فرد کے اقتدار والے ماڈل کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے۔

A woman in Tehran dressed in a black chador holds an Iranian flag and a placard with an image of Iran's new supreme leader Mojtaba Khamenei alongside the late Iranian Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei. She is in a crowd of people holding similar items.

،تصویر کا ذریعہMajid Asgaripour/WANA (West Asia News Agency) via REUTERS

مزید ایسے ادارے بھی ہیں جن کے پاس طاقت ہے، مثلاً گارڈین کونسل، جو پارلیمان کی قانون سازی کو مسترد کر سکتی ہے اور انتخابات کے امیدواروں کی جانچ پڑتال بھی کرتی ہے۔

یہ سب مل کر اس امکان کو اور بھی کم کر دیتے ہیں کہ کوئی ایک گروہ ریاست کے خلاف سنجیدہ چیلنج کھڑا کر سکے۔

اگرچہ ایران کو عام طور پر ایک آمرانہ ریاست سمجھا جاتا ہے لیکن وہ اپنے شہریوں کو کچھ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا علامتی موقع ضرور دیتا ہے، جن میں صدر کا انتخاب بھی شامل ہے۔

تاہم یہ عمل سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور امیدواروں کو گارڈین کونسل مختلف معیاروں پر پرکھتی ہے، جن میں اسلامی جمہوریہ سے وفاداری اور نظریاتی وابستگی خاص طور پر اہم ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کا مرکزی کردار

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اگر ادارے اس نظام کا ڈھانچہ ہیں، تو سکیورٹی فورسز کو اس کی اصل طاقت سمجھا جاتا ہے۔

برنار اوکادے وضاحت کرتے ہیں کہ ’پاسدارانِ انقلاب گارڈ (آئی آر جی سی)، جو باقاعدہ فوج کے ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں انھیں اس ’نظام کی ریڑھ کی ہڈی‘ کہا جاتا ہے۔‘

صرف عسکری کردار ہی نہیں بلکہ یہ فورس ایک بڑی سیاسی اور معاشی طاقت بھی بن چکی ہے۔ اس کے کاروباری مفادات بہت وسیع ہیں اور ایک رضاکار نیم فوجی تنظیم بسیج ملیشیا کے ذریعے اس کا اثر و رسوخ مزید بڑھ جاتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ بار بار ہونے والی بدامنی کے باوجود سکیورٹی فورسز متحد رہی ہیں۔

محقق سیباسٹین بوسوا اس وفاداری کو نظریاتی وابستگی سے جوڑتے ہیں۔

ان کے مطابق ’شہادت کی یہ ثقافت، جو شیعہ برادری اور حماس و حزب اللہ جیسے گروہوں میں دکھائی دیتی ہے، یہاں تقریباً پیشے کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔‘

حال ہی میں ایران کے نائب وزیرِ دفاع رضا طلائی‌ نیک نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے ہر کمانڈر کے لیے تین درجے نیچے تک جانشین طے کر دیے جاتے ہیں تاکہ تسلسل قائم رہے۔

قصرہ آربی، جو ’گارڈز ایٹ یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران‘ پر تحقیق کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ ایران کے بکھرے ہوئے ڈھانچے کی تشکیل 2003 میں امریکی اتحاد کی جانب سے عراق پر حملے اور عراقی فورسز کے اچانک ٹوٹ جانے سے حاصل ہونے والے تجربات کے بعد کی گئی۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اگر موجودہ نظام برقرار رہا تو ’گارڈز کا کردار پہلے سے بھی کہیں زیادہ طاقتور ہو جائے گا۔‘

An armed military member of the Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) holds an AK‑47 rifle against an Iranian flag.

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

سرپرستی کے نیٹ ورکس اور اشرافیہ کا اتحاد

ایران کی معیشت کے بڑے حصے پر ریاست سے منسلک تنظیموں کا کنٹرول ہے، جیسے کہ بنیادز، خیراتی ٹرسٹ جو وقت کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر ہو کر معیشت کے مختلف شعبوں میں ہزاروں کمپنیوں کے مالک بن گئے ہیں۔

یہ نیٹ ورکس اُن حلقوں کو نوکریاں اور ٹھیکے تقسیم کرتے ہیں جو حکومت کے وفادار ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی کاروباری سلطنت، جس میں خاتم الانبیا کارپوریشن بھی شامل ہے، اس ’سرپرستی‘ پر مبنی کاروباری نظام کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

اگرچہ مغربی پابندیوں نے ایران کی وسیع تر معیشت کو سخت نقصان پہنچایا لیکن ماہرین کے مطابق یہ نیٹ ورکس کلیدی اشرافیہ کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور نظام کی بقا میں اُن کے حصے کو محفوظ رکھتے ہیں۔

بوسوا کے مطابق یہ نظام ’اتنا مضبوط ہے کہ ہمیں کہیں کوئی انحراف نظر نہیں آتا۔‘

نظریے اور انقلاب کی میراث

مذہب بھی طاقت کو برقرار رکھنے میں ایک مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔

انقلاب نے مذہبی، سیاسی اور تعلیمی اداروں کا ایک دیرپا نیٹ ورک قائم کیا جو آج بھی ریاست کے نقطۂ نظر کو تشکیل دیتا ہے۔

بوسوا کے مطابق ’یہ بہت پرانا، بہت طاقتور ڈھانچہ نظریاتی، بیوروکریٹک، انتظامی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔‘

وہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ نظریہ ’حقیقی اتحاد، مقصد اور بھرتی کا ذریعہ بنتا ہے۔‘

A young girl, lifted by her mother, casts her mother’s vote at a polling station in Tehran. Across the table, in front of mosaic-tiled walls, a woman dressed in a black chador watches them.

،تصویر کا ذریعہKHOSHIRAN/Middle East Images/AFP via Getty Images

منقسم حزب اختلاف

تاریخی طور پر، ایران کی اپوزیشن منقسم رہی ہے۔

اس میں اصلاح پسند، شاہ کے حامی، بائیں بازو کے گروہ، جلاوطنی میں قائم تحریکیں جیسے نیشنل کونسل آف ریزسٹنس آف ایران اور مختلف نسلی تنظیمیں شامل ہیں۔

ایلی جیرانمایہ، جو یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز (ایک برطانوی تھنک ٹینک) میں سینیئر پالیسی فیلو ہیں، کہتی ہیں کہ یہ تقسیم دیرینہ ہے۔

ان کے مطابق انقلاب کے بعد سیاسی جماعتیں بنانے پر بحث کو نظرانداز کر دیا گیا، بڑی حد تک اس وجہ سے کہ ایران 1980 میں عراق کے ساتھ جنگ میں داخل ہوا جو تقریباً آٹھ سال جاری رہی۔

جیرانمایہ کہتی ہیں کہ مختلف اوقات میں معتدل دھڑوں کو حکومت اور سخت گیر گروہوں نے ’نظر انداز کیا، بدنام کیا یا قید کر دیا۔‘

برسوں کے دوران حکومت کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، جیسے 2009 کی ’گرین موومنٹ‘ اور 2022 میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے لیکن ان احتجاجوں میں مرکزی قیادت کی کمی تھی اور انھیں ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم اس اور پچھلے سال کے تازہ احتجاجی سلسلے جلا وطن شاہ کے بیٹے کی جانب سے اپیل کے بعد شروع ہوئے۔

ایران خطے میں سب سے جدید نگرانی کے نظاموں میں سے ایک چلاتا ہے، جس میں مسلسل انٹرنیٹ بندشیں، مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی اور بیرونِ ملک سرگرم کارکنوں کو نشانہ بنانے والی سائبر یونٹس شامل ہیں۔

عوامی احتیاط اور اس کے زوال کی وجوہات

برسوں تک بہت سے ایرانیوں نے حکومت کی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنے سے گریز کیا کیونکہ انھوں نے افغانستان اور عراق میں امریکی قیادت میں کی گئی مداخلتوں کے نتائج دیکھے تھے۔

جیرانمایہ کہتی ہیں کہ عرب بغاوتوں کے بعد کے حالات نے اس احتیاط کو مزید گہرا کر دیا لیکن اب وہ کہتی ہیں کہ یہ حساب بدل گیا کیونکہ بہت سے ایرانی محسوس کرتے ہیں کہ ریاست اب بنیادی ضروریات جیسے نوکریوں سے لے کر صاف پانی تک فراہم کرنے کے قابل نہیں رہی جبکہ اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال بڑھ گیا۔

جنوری میں احتجاج کی نئی لہر کے خلاف کیے گئے وحشیانہ کریک ڈاؤن جس میں ہزاروں افراد مارے گئے، جو ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہروں میں شمار ہوتے ہیں، اس نے اس تبدیلی کو تیز کر دیا۔

برنار اوکادے کے مطابق ایرانیوں میں ایک ’نسلی خلا‘ موجود ہے اور ان کا رویہ حکومت کے بارے میں مختلف ہے۔

نوجوان ایرانی، جن میں سے بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ، عالمی سطح پر جڑے ہوئے اور سوشل میڈیا سے متاثر ہیں، حکومت کو مسترد کرتے ہیں اور اسے ’بدعنوان، جابرانہ اور اُن کی امنگوں سے غیر متعلق‘ سمجھتے ہیں۔

Smoke rises high in the air in central Tehran on 28 February 2026

،تصویر کا ذریعہEPA

’ہر حکومت بالآخر ختم ہو جاتی ہے‘

ماہرین کہتے ہیں کہ آمرانہ حکومتیں اُس وقت گرنے لگتی ہیں جب تین چیزیں اکٹھی ہو جائیں، ’عوامی تحریک، حکمران اشرافیہ میں تقسیم اور سکیورٹی فورسز کی بغاوت‘۔

ماہرین کے مطابق ایران نے ماضی میں اکثر پہلی شرط کا تجربہ کیا لیکن باقی دونوں کا نہیں۔

برنار اوکادے کا ماننا ہے کہ ایران کی اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ ناگزیر ہے لیکن فوری نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہر حکومت بالآخر ختم ہو جاتی ہے۔ اصل سوال وقت اور ترتیب کا ہے۔‘

ان کے مطابق خامنہ ای کی موت حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھی۔ ’اُن جیسا کوئی دوسرا نہیں ہوگا۔ اُن کا جانشین کبھی بھی وہ اختیار نہیں رکھے گا جو خامنہ ای کے پاس تھا۔‘

لیکن بوسوا کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ یقینی نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ایسا ہوتا ہے اور یہ کسی بیرونی فوجی مداخلت سے شروع ہوتا ہے، تو اس کے بعد کے حالات بدتر بھی ہو سکتے ہیں۔‘

ٹرمپ نے پہلے نیو یارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ وینزویلا کے سابق صدر نکولاس مادورو کو امریکہ کے قبضے میں لینا ایران کے لیے ’کامل منظرنامہ‘ ہو گا۔

لیکن بوسوا کہتے ہیں کہ ’اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ شمالی کوریا یا کیوبا میں ہوا، سخت گیر دھڑے مزید مضبوط ہو جائیں۔‘

SOURCE : BBC