Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں آسٹریلیا، چین اور برازیل کے ’جعلی تھانے‘: فراڈ کا مرکز جہاں ’بیت...

آسٹریلیا، چین اور برازیل کے ’جعلی تھانے‘: فراڈ کا مرکز جہاں ’بیت الخلا جانے کے لیے اندراج ہوتا تھا‘

4
0

SOURCE :- BBC NEWS

رائل ہل جوا خانے کے ایک کمرے میں ویتنامی پولیس کی ٹوپیاں رکھی ہوئی ہیں

،تصویر کا ذریعہLulu Luo/BBC

رائل ہل جوا خانے کے پیچھے واقع چھ منزلہ عمارت کی اندھیری راہداریوں میں گھومتے ہوئے، ہر دروازہ ایک الگ دنیا میں کھلتا ہے۔

ایک کمرے میں ویتنامی بینک کی بالکل ہو بہو نقل موجود ہے۔ دوسرے کمرے میں داخل ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ آسٹریلوی تھانے میں آ گئے ہوں۔ ایک کونے میں چینی پولیس افسر کی قمیض لٹکی ہوئی ہے۔

دیواروں پر حوصلہ افزا جملے پینٹ کیے گئے ہیں۔ ایک تختی پر چینی زبان میں لکھا ہے کہ ’پیسہ ہر طرف سے آ رہا ہے۔‘ مسترد شدہ جعلی 100 ڈالر کے نوٹ فرش پر بکھرے پڑے ہیں۔

کمبوڈیا کے سرحدی قصبے او سماچ میں واقع اس کمپاؤنڈ میں بہت بڑے پیمانے پر فراڈ کیا جا رہا تھا۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد یہاں کام کرتے تھے۔ ان کی زندگیاں چند سخت گیر افراد کے ہاتھوں یرغمال تھیں اور وہ دنیا بھر کے ہزاروں افراد کو ان کی جمع پونجی سے محروم کرنے میں مصروف تھے۔

دسمبر میں تھائی لینڈ کی فضائیہ نے کمبوڈیا میں رائل ہل پر بمباری کی۔ تھائی حکام کا کہنا تھا کہ جوئے خانے سے کمبوڈین ڈرونز لانچ کیے جا رہے تھے۔ بمباری کے بعد کارکن بھاگ نکلے اور اپنے پیچھے نوڈلز کے ان چھوئے پیالے، کوک کی آدھی پی گئی بوتلیں اور ایک تیز ناگوار بو چھوڑ گئے۔

آج رائل ہل خالی پڑا ہے، سوائے یہاں قیام پذیر تھائی فوجیوں کے اور کوئی بھی موجود نہیں۔ بمباری کے باعث کھڑکیاں ٹوٹ چکی ہیں، کئی مقامات پر دیواروں اور چھت میں بڑے بڑے سوراخ ہیں جس سے ہر چیز گرد و غبار سے اَٹ گئی ہے۔

او سماچ میں وہ عمارت جہاں دھوکہ دہی کی کارروائیاں کی جاتی تھیں

،تصویر کا ذریعہLulu Luo/BBC

تھائی فوج ہمیں وہاں اس لیے لے گئی کیونکہ ان کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ دنیا دیکھے کمبوڈیا میں فراڈ کی صنعت کس قدر پھیل چکی تھی۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی مدد درکار ہے، تاہم یہ مؤقف دسمبر میں کمبوڈین اہداف پر کیے گئے تھائی فضائی حملوں کے لیے ایک جواز بھی فراہم کرتا ہے۔

کمبوڈین حکومت نے اپنی سر زمین پر تھائی قبضے کے خلاف احتجاج کیا ہے، مگر تھائی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ لڑائی کے خاتمے کے وقت ان کی افواج جہاں جہاں موجود تھیں وہ وہیں رہیں گی۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

رائل ہل کے حوالے سے قابل ذکر بات صرف اس کا حجم ہی نہیں بلکہ یہ حقیقت بھی ہے کہ تھائی لینڈ کی جانب سے کنٹرول سنبھالنے تک کسی کو اس کے بارے میں تقریباً کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔

او سماچ جوا خانہ خبروں میں اس وقت آیا جب وہاں رکھے گئے ملازمین نے فرار ہوتے ہوئے استحصال کے الزام لگائے۔ ان ملازمین کو لوگوں سے فراڈ کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

اس جوئے خانے کے مالک لائی یونگ فٹ کا شمار کمبوڈیا کے معروف کاروباری افراد میں ہوتا ہے اور وہ حکمران ہُن قبیلے سے قریبی تعلقات کے باعث جانے جاتے ہیں۔ اس قبیلے کی سربراہی سابق وزیر اعظم ہُن سین کے پاس ہے۔ انسانی سمگلنگ اور آن لائن فراڈ میں مبینہ کردار کے باعث امریکہ اور دیگر ممالک نے لائی یونگ فٹ پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔

اس کے برعکس رائل ہل کے مالک لم ہینگ قدرے کم شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا نام کبھی بین الاقوامی پابندیوں کی فہرستوں میں شامل نہیں ہوا، اگرچہ لائی یونگ فٹ کی طرح انھیں بھی ہُن سین کی جانب سے نیٔک اُوخنا کا باوقار لقب دیا جا چکا ہے۔ اس لقب کے حصول کے لیے انھیں کم از کم پانچ لاکھ امریکی ڈالرز (تین لاکھ پاؤنڈز) کا عطیہ دینا پڑا ہو گا، جس سے وہ کمبوڈیا کے چند سو بااثر افراد پر مشتمل اشرافیہ میں شامل ہوئے۔

ان کے بارے میں جو واحد قدرے غیر معمولی بات معلوم ہے وہ یہ کہ وہ خمر روگ کے بدنام زمانہ رہنما پول پاٹ کی آخری رسومات کی جگہ پر حاضری دیتے ہیں، جو تھائی لینڈ کی شمالی سرحد کے قریب ان کے ایک اور جوا خانے کے قریب واقع ہے۔

کمبوڈیا کے اکثر کاروباری افراد سنہ 1991 میں کمبوڈین خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد کے برسوں میں حکمران خاندان سے اپنے تعلقات کے ذریعے وسیع و عریض زمینیں حاصل کر کے امیر ہوئے۔

ابتدا میں انھوں نے غیر قانونی طور پر پودوں کی کاشت اور لکڑی کی کٹائی سے پیسہ بنایا اور پھر بعد میں چینی سرمایہ کاروں کی بدولت شہروں میں جائیدادوں کی بڑھتی قیمتوں سے فائدہ اٹھایا۔

تاہم او سماچ جیسے سرحدی علاقوں میں جوا خانے سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار ثابت ہوئے کیوں کہ پڑوسی ممالک تھائی لینڈ اور چین میں جوئے پر پابندیاں تھیں۔ کمبوڈین حکومت گذشتہ تین دہائیوں میں جوئے خانوں کے تقریباً 200 لائسنس جاری کر چکی ہے۔

چینی جرائم پیشہ افراد کے گروہ بھی ان جوئے خانوں کی طرف راغب ہوئے، وہ یہاں سے ہی آن لائن جوئے کا منافع بخش کاروبار بھی چلاتے تھے۔ تاہم، سنہ 2019 میں چین کے دباؤ پر ہُن سین نے آن لائن جوئے پر پابندی عائد کر دی۔ اس کے بعد کووڈ وبا آئی تو سرحد پار سفر بھی رک گیا۔

یوں یہ گروہ آن لائن فراڈ کی طرف منتقل ہو گئے، پر کشش تنخواہوں کا لالچ دے کر دنیا بھر کے نوجوانوں کو بھرتی کیا گیا۔

یہاں بھرتی ہونے والے کچھ نوجوان تو جانتے تھے کہ انھیں دھوکہ دہی کے لیے رکھا گیا ہے جبکہ دوسرے یہ سمجھتے رہے کہ وہ دفتری کام یا کمپیوٹر پروگرامنگ کریں گے۔ کچھ کو اس کمپاؤنڈ میں آ کر معلوم ہوا کہ یہاں انھیں کس قدر سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہمیں رائل ہل کے ملبے سے نکالی گئی دستاویزات دیکھنے کا موقع ملا، جو چینی زبان میں تھیں۔ ان میں تفصیل سے درج تھا کہ اہداف مکمل نہ کرنے پر کیا سزائیں ملیں گی۔ دن ختم ہونے تک شکار کو پھنسانے میں ناکام رہنے والے ملازم کے لیے پانچ کوڑوں کی سزا مقرر تھی۔

جو ملازم تین دن تک کوئی بھی پیش رفت نہ دکھا سکتا، اسے کم از کم 10 کوڑے لگائے جاتے۔ ساتھیوں سے غیر ضروری گفتگو کرنا، یا اپنے شکار کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ذاتی تصاویر جیسی چیزیں شیئر نہ کرنا بھی اسی نوعیت کی سزاؤں کا باعث بنتا تھا۔

دسمبر میں تھائی لینڈ کی فوج نے رائل ہل کو بری طرح بمباری کا نشانہ بنایا

،تصویر کا ذریعہJonathan Head/ BBC

یوگنڈا سے تعلق رکھنے والے ولسن کو اگست میں رائل ہل میں کام کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا: ’کچھ لوگوں کو بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔ کچھ کو بلیک روم میں ڈال دیا گیا۔ وہاں بلیک روم نامی ایک کمرہ تھا جہاں بد ترین تشدد کیا جاتا۔‘

ولسن کے مطابق انھیں بتایا گیا تھا کہ وہ ملائیشیا میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی نوکری کریں گے۔ ہم نے ان سے کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پِنہ میں بات کی، جہاں اس وقت ایک فلاحی ادارہ انھیں پناہ دیے ہوئے ہے اور وہ یوگنڈا واپس جانے کا کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ولسن نے بتایا کہ انھیں روزانہ 15 یا 16 گھنٹے کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا، انھیں اپنے شکار کے ساتھ وہ گفتگو کرنا پڑتی جو چینی مالکان نے لکھ کر دی ہوتی، آواز اور ظاہری شکل بدلنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا جاتا تھا۔

’آپ کو ایک 37 سالہ امیر عورت کا کردار ادا کرنا ہوتا تھا جو شادی کی خواہش مند ہے۔ آپ کو عمر رسیدہ امریکی مردوں سے بات کر کے یہ انھیں یہ یقین دلانا ہوتا کہ آپ ان کی محبت میں گرفتار ہو گئی ہیں۔ سکرپٹ میں ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جہاں آپ انھیں جذباتی طور پر توڑ دیتے ہیں۔ پہلے اعتماد قائم کیا جاتا ہے اور پھر بعد میں انھیں مصنوعات خریدنے کے لیے پھانس لیا جاتا ہے۔‘

ولسن کے مطابق تھائی لینڈ کی جانب سے بمباری کے دوران بھی انھیں کام جاری رکھنے پر مجبور کیا گیا۔

’جب بھی بم کی آواز آتی، کبھی کبھی عمارت لرز کر رہ جاتی اور ہم باہر بھاگ کھڑے ہوتے۔ ہم خوفزدہ تھے۔ لیکن پھر ہمیں واپس اندر آ کر دوبارہ کام کرنا پڑتا تھا۔‘

ہم نے ایسی دستاویزات بھی دیکھیں جن میں مختلف زبانوں میں اسی نوعیت کے فراڈ کے منظرنامے درج تھے۔ سب کا ایک ہی مقصد تھا، اپنے شکار کا اعتماد جیتنا اور انھیں مجوزہ ’سرمایہ کاری‘ کے بارے میں مطمئن کرنا۔ اس کے علاوہ تمام ملازمین کے لیے قواعد بھی تحریر تھے، جن میں دیر سے آنے پر مختلف قسم کے جرمانے درج تھے۔

کارکنوں کو بیت الخلا استعمال کرنے کے لیے بھی اجازت لینا پڑتی تھی۔ ہم نے ایک کاغذ دیکھا جس پر ’ملازم کا باہر جانے کا رجسٹریشن فارم‘ درج تھا۔ اس میں تھائی حملے سے پہلے کے دنوں میں ہر کارکن کے بیت الخلا جانے کا ریکارڈ موجود تھا، حتیٰ کہ یہ بھی درج تھا کہ کون وہاں کتنی دیر رہا۔

رائل ہل میں ملازم کا ’باہر جانے کا رجسٹریشن فارم‘

،تصویر کا ذریعہLulu Luo/BBC

اور پھر دھوکہ دہی کے طریقے۔ برازیل کے پولیس سٹیشن کی نقل کے ساتھ ہی ایسے بوتھ تھے جنھیں فوم لگا کر ساؤنڈ پروف بنایا گیا تھا۔

میزوں پر پرتگالی زبان میں ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریریں موجود تھیں، جن میں فراڈ کرنے والوں کو اپنے شکار کو قابو میں کرنے کے طریقے بتائے گئے تھے۔

وہاں طلبی کے ایسے نوٹس بھی تھے جو بظاہر ساؤ پاؤلو پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے تھے لیکن در حقیقت جعلی تھے۔ ان میں ایک فرد پر منی لانڈرنگ کا الزام درج کیا گیا تھا۔ ایسے نوٹس عام طور پر متاثرین کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے تاکہ وہ رقم منتقل کریں یا اپنے بینک کھاتوں سے متعلق معلومات فراہم کریں۔

برسوں تک کمبوڈین حکومت فراڈ کی صنعت اور اس سے جڑے جرائم پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کو نظر انداز کرتی رہی۔

سنہ 2025 میں امریکی وزارت خارجہ کی انسانی سمگلنگ سے متعلق رپورٹ میں کمبوڈین حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے مسئلے کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے، نہ ہی کسی مشتبہ فراڈ کمپاؤنڈ کے منتظم یا مالک کو کبھی گرفتار کیا گیا یا اس کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔

ستمبر 2024 میں جب امریکا نے لائی یونگ فٹ پر فراڈ اور جبری مشقت جیسے جرائم میں ملوث ہونے کے باعث پابندیاں عائد کیں تو حکمران کمبوڈین پیپلز پارٹی نے ان پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور امریکہ پر کمبوڈیا کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ لائی یونگ اسی پارٹی کے ایک سینیئر رہنما تھے۔

وہ بوتھ جہاں بیٹھ کر شکار کو کالز کی جاتی تھیں

،تصویر کا ذریعہJonathan Head/BBC

لیکن امریکہ، چین اور دیگر ممالک کی جانب سے فراڈ کے خلاف کارروائی کے لیے مسلسل بڑھتے دباؤ پر رواں سال حکومت نے اچانک اپنی پالیسی میں تبدیلی کی۔

پولیس نے درجنوں مشتبہ فراڈ کمپاؤنڈز پر چھاپے مارے، جبکہ وزیر اعظم ہُن مانیت نے اعلان کیا کہ اپریل کے اختتام تک اس پوری صنعت کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صنعت کمبوڈیا کی معیشت اور ساکھ کو تباہ کر رہی ہے۔

سب سے ڈرامائی قدم جنوری میں چن ژی کو گرفتار کر کے چین کے حوالے کرنا تھا۔ چن ژی چین سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کاروباری ہیں۔ گذشتہ سال امریکہ اور برطانیہ نے ان پر پابندیاں عائد کی تھیں، یہ الزام لگا کر کہ وہ فراڈ کے پیسوں سے کمپنیوں کا ایک وسیع نیٹ ورک چلا رہے تھے۔

چن ژی نے کمبوڈین شہریت حاصل کر لی تھی اور سابق وزیر اعظم ہُن سین کے ذاتی مشیر کے طور پر ملک کی با اثر ترین شخصیات میں شامل ہو چکے تھے۔ ان کا پرنس گروپ ایک قومی بینک، ایک فضائی کمپنی اور جائیداد سازی (پراپرٹی ڈیولپمنٹ) کے وسیع منصوبوں کا مالک تھا۔

کئی برسوں تک یوں محسوس ہوتا رہا جیسے چن ژی نا قابل گرفت ہیں، تاہم گرفتاری کے بعد ان کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں انھیں نقاب پہنا کر اور ہتھکڑیاں لگا کر اُس طیارے سے زبردستی اتارتے دکھایا گیا جو انھیں چین لے کر آیا تھا۔ اب وہ سرحد پار جوئے اور فراڈ کے نیٹ ورک چلانے کے الزامات پر چین میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس ذلت آمیز سلوک نے یہ واضح پیغام دیا کہ کمبوڈیا کی ساکھ بچانے کے لیے فراڈ کی صنعت سے وابستہ با اثر شخصیات کو بھی قربان کیا جا سکتا ہے۔

حکام نے اس کے بعد حال ہی میں لی ژیونگ کو بھی حوالے کیا، جو آن لائن ادائیگی کے ’ہوئی ون پے‘ نامی نظام کے چیئرمین ہیں۔ الزام ہے کہ فراڈ کمپاؤنڈز کے منافع کو منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کرنے کے لیے ہوئی ون پے کو استعمال کیا گیا۔

چن ژی کی تصویر

،تصویر کا ذریعہPrince Holding Group

اب فراڈ کے بہت سے کمپاؤنڈ ویران پڑے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 10 ہزار سے زائد غیر ملکی کارکنوں کو ان کے ممالک واپس بھیجا جا چکا ہے۔ تاہم ولسن جیسے چند افراد اب بھی وطن واپسی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

حکومت کا یہ دعویٰ درست معلوم ہوتا ہے کہ کمبوڈیا میں فراڈ کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔

فراڈ کمپاؤنڈز پر چھاپوں کو اکثر عارضی کارروائیوں سے تشبیہ دی جاتی ہے، یعنی ایک جگہ کارروائی ہو تو جرم کا اڈہ دوسری جگہ منتقل کر دیا جاتا ہے۔ کارکنوں کو نئے اور کم نمایاں کمپاؤنڈز میں منتقل کرنا خاصا آسان ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ہزاروں افراد نے اب بھی کمبوڈیا میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اور چن ژی کے سوا ایسے کسی بھی شخص کو چھوا تک نہیں گیا جن پر اپنے جوا خانوں کی آڑ میں فراڈ کمپاؤنڈز چلانے کے الزامات ہیں۔

لائی یونگ فٹ، ٹرائے فیپ اور کوک این، یہ سب دولت مند اور با اثر شخصیات ہیں جن پر بیرون ملک پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں مگر وہ تاحال کمبوڈیا میں آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ سینیٹر لائی یونگ اور کوک این نے ایک نئے قانون پر ووٹنگ میں حصہ لیا، جس کے بارے میں کمبوڈین حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فراڈ میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔

جہاں تک رائل ہل بنانے والے صنعت کار لم ہینگ کا تعلق ہے، تو تھائی فوج کی جانب سے سرحد عبور کر کے ان کے جوا خانے پر قبضے تک، ان کا نام فراڈ کے کاروبار سے متعلق کسی بھی رپورٹ یا تحقیق میں کہیں سامنے نہیں آیا تھا۔

SOURCE : BBC