SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نانی زندہ ہوتیں اور اُنھیں کوئی بتاتا کہ نانی نانی آبنائے ہرمز بند ہو گئی ہے، اب پیٹرول، ڈیزل، کھاد، سبزی، دال، دوا سب مہنگا ہو جائے گا اور غربت بڑھ جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ نانی کو یہی پلے نہ پڑتا کہ یہ موئی آبنائے ہرمز ہے کیا اور اِس کا مہنگائی اور غربت میں اضافے سے کیا لینا دینا؟
نانی اور دادی کی پیڑھی نے جس دور اور ماحول میں آنکھ کھولی وہاں بچوں کو یہی سمجھایا جاتا تھا کہ بیٹا ہوس اور آرام طلبی کی کوئی انتہا نہیں۔ چنانچہ جتنی چادر ہو اتنے ہی پاؤں پھیلاؤ۔
اپنی چادر لمبی کرنے کے لیے کسی اور کی چادر مت چھینو۔ ہر حال میں اُوپر والے کا شکر ادا کرتے رہو اور رزقِ حلال کے لیے مسلسل سعی کرتے رہو اور کبھی مایوس نہیں ہونا۔ حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے۔
نانا میاں لگے بندھے ادنی لیول کے تنخواہ دار آدمی تھے۔ محلے میں سوائے ایک کسٹم والے کے کسی کے پاس کار نہیں تھی۔ البتہ سائیکل لگ بھگ ہر گھر میں تھی۔ کہیں دور پرے آنے جانے کے لیے سرکاری بس یا چھ مسافروں والے کالے رکشے کا سہارا بہت تھا۔
میٹر والا سالم رکشہ اور کالی پیلی ٹیکسی رئیسوں کی سواری تصور ہوتی تھی۔ دو، تین کلومیٹر تو ویسے ہی ہر آدمی عادتاً بے ساختہ چل لیتا تھا۔ شاید اسی لیے میرے بچپن میں کوئی توندئیل یا موٹے چچا میاں یا خالہ جی نظر آتے تو انھیں ترسیلی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔
’پریپ‘ یا ’کے جی‘ کی کوئی چونچلے بازی نہیں تھی۔ بچہ سیدھا مدرسے یا سرکاری سکول کی پہلی کلاس میں داخل ہوتا تھا۔ سب بچے اُچھلتے کودتے سکول آتے جاتے تھے۔ چوپڑی روٹی میں رات کی سبزی یا انڈہ لپیٹ کے ڈبہ دے دیا جاتا تھا اور تلقین کی جاتی تھی کہ باہر کے پکوڑوں، چاٹ یا میٹھی املی سے گلا خراب ہو جاتا ہے یا بیماری بھی لگ سکتی ہے۔ کیونکہ باہر کی چیزیں گھر کی طرح صاف ستھری نہیں ہوتیں۔
نانی کو جانے کیا شوق تھا کہ 80 مربع گز والے دو کمروں کے گھر میں صحن بھی تھا اور اس صحن میں دو کیاریاں بھی تھیں۔ ان کیاریوں میں سبزی اُگائی جاتی تھی۔ جبکہ ایک کیاری میں آکاس بیل بھی لگائی گئی جس نے چند ہفتے میں پوری دیوار پر پاؤں پِسار لیے۔
ہر گھر کے باہر کسی نے آم، کسی نے پپیتے اور کسی نے امرود کا درخت لگایا ہوا تھا۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اے سی، پیسی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ایک کمرے میں ایک پنکھا۔ صحن میں سونے کے لیے قدرتی ہوا اور مچھر دانی۔ سادہ پانی کو منرل واٹر بنانے کے لیے گھڑے میں پیلی گندھک کا ایک موٹا ڈلا ڈال دیا جاتا جو گلی میں کمیٹی کے اجتماعی نلکے سے بھرے جانے والے پانی کی آلودگی اور جراثیم اپنی جانب کھینچ لیتا۔ گندھک کا یہ ڈلا مہینوں چلتا تھا۔
رات کا سالن یا دودھ اگلے دن بھی استعمال ہو سکے، اس کے لیے کچھ گھروں میں چوطرفہ جالی والا ایک چھوٹا سا الماری نما پورٹیبل چوبی نعمت خانہ ہوتا تھا۔ بعضے بعضے گھروں میں رات کے سالن یا دودھ کی دیگچی کپڑے سکھانے والی کھنچی تار سے باندھ دیتے تھے تاکہ بلی کی پہنچ سے بھی دور رہے۔
کھانا پکانے کے لیے پہلے کوئلہ، لکڑیاں اور گوبر کی پاتھیاں جلائی جاتی تھیں۔ ہر محلے کے نکڑ پر خان بابا کا لکڑی اور کوئلے کا ٹال ہوتا تھا۔ پھر لکڑی کے برادے والے چولہے آ گئے۔ برادے کو چولہے میں کوٹ کوٹ کے بھرا جاتا اور اس پر ایک وقت کا کھانا آسانی سے پک جاتا۔
پھر مٹی کے تیل والا سٹووو آ گیا۔ مگر یہ گھروں سے زیادہ ریسٹورنٹس میں استعمال ہوتا تھا۔ اور پھر ایک دن بذریعہ پائپ گیس ایسی آئی کہ کیا امیر کیا غریب سب اس کے اسیر ہو گئے۔
لکڑی، کوئلہ، برادے کے چولہے اور سٹووو بیچنے والے غائب ہوتے چلے گئے۔ (سٹووو کم جہیز لانے والی لڑکیوں کو دیکھتے ہی پھٹ جانے کے سبب بھی بدنام ہونے لگا تھا۔)
چائے اور کھانے کے ریسٹورنٹ کم کم تھے۔ مگر وہاں اکثر دہاڑی دار محنت کش کھانا کھاتے یا چھڑے چھانٹ یا بے روزگار یا نکمے لمڈے بیٹھ کر ایک چائے کی پیالی پر کئی کئی گھنٹے کاٹ لیتے تھے۔ کولڈ ڈرنک خالصتاً عیاشی تھی۔روز سوڈا پینے والا لڑکا شیخی خورہ (سٹیٹس گزیدہ) کہلاتا تھا۔ گھروں میں بھی کولڈ ڈرنک تب آتی جب کوئی خاص مہمان آ دھمکے۔
آلودگی نہیں تھی تو آلودگی سے جنم لینے والی بیماریاں بھی نہیں تھیں۔ لہذا محلے میں شام کو کلینک کھولنے والا ڈاکٹر محلے داروں کی عمومی عادات و طبی مسائل سے بھی واقف تھا۔ معائنہ کرتا، خود ہی دوا پیس کے پڑیاں بناتا اور ایک بوتل میں کوئی شربت نما شے بھر کے اس پر کاغذ کو قینچی سے کاٹ کر خوراک کی مقدار کے نشان کے طور پر چپکا دیتا۔ جس نے جتنے پیسے دیے بغیر گنے دراز میں رکھ لیے۔ آمدنی کم اور احترام بے شمار۔
شادی کی دو ہی تقریبات ہوتی تھیں۔ نکاح اور ولیمہ۔ مینیو ایک ہی طرح کا ہوتا۔ پلاؤ، رائتہ، قورمہ، روٹی، زردہ اور ٹھنڈا پانی۔ گلی میں تنبو گاڑ کے اسے چند گھنٹے کے لیے شادی ہال سمجھ لیا جاتا۔ محلے کے لڑکے بالے انتظام سنبھال لیتے۔
کسی نے دولہا دلہن کو سلامی دینی ہوتی تو چپکے سے لفافے میں ڈال کے پکڑا دیتا۔ صرف ایک سجی سجائی گاڑی آتی تھی گھر سے گھر تک رخصتی کے لیے۔ لو جی ہو گئی شادی۔ (مریض کو ہسپتال پہنچانے یا میت کا انتظام بھی محلے کے نوجوانوں کے ذمے تھا۔)
میں پھر بھٹکے ہوئے موضوع کی جانب آتا ہوں۔ آج اگر آبنائے ہرمز بند ہونے کے نتائج سے میں نانی کو آگاہ کرتا تو شاید وہ پوری بات کُھلے منھ سے سُن کر کہتیں کہ بیٹا ہمارے رہن سہن میں تو یہ ہرمز پرمز کہاں سے گُھسا رہا ہے۔
ایسی اٹائیں سٹائیں سننے کے بجائے پڑھائی میں من لگا اور رات کو جلدی سویا کر۔ اور یہ لے چونی، لالہ کی دکان سے مٹی کا تیل لے آ۔ شام ہو چلی ہے کھانا کب پکے گا۔ میں زرا کیاری سے ترئی توڑ لوں۔ شاباش میرا بچہ جلدی جا۔
(ایک اضافی نوٹ: 84 سالہ امریکی ارب پتی جم راجرز نے پانچ برس کی عمر میں مونگ پھلی بیچنا شروع کی۔ بعد ازاں آکسفورڈ اوریئل یونیورسٹی میں پڑھائی کی، وال سٹریٹ میں بروکری کی، 37 برس کی عمر میں موٹر سائیکل پکڑی اور 116 ملک دیکھ ڈالے۔ معروف سرمایہ کار جارج سواریز کے ساتھ کوانٹم فنڈ میں پارٹنر شپ کی۔ پھر اپنی کمپنی بی لینڈ انٹریسٹس بنائی۔ اب جم صاحب سنگاپور میں رہتے ہیں۔ جم راجرز کی نصیحت ہے کہ ’ڈالر سے پیچھا چھڑاؤ، چینی زبان سیکھو اور اپنے کنبے کے لیے کم از کم ایک ایکڑ زمین خرید کر سبزیاں اگاؤ۔ تم سے زیادہ خود کفیل خوشحال شخص آنے والے وقت میں کوئی نہ ہو گا۔‘)
SOURCE : BBC



