SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین وزیراعظم نریندر مودی بدھ سے اسرائیل کے دو روزہ دورے کا آغاز کرنے والے ہیں جس کے دوران فوربز کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اہم دفاعی معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا یہ دوسرا دورہ ہوگا۔
فوربز انڈیا کے مطابق انڈیا اسرائیل کے ساتھ مجموعی طور پر 8.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے کرنے جا رہا ہے جن کے تحت سپائس 1000 پرسیژن گائیڈڈ بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، بیلسٹک میزائل اور آئس بریکر میزائل سسٹم خریدے جائیں گے۔
دفاعی ماہر سنجیو سریواستو کا کہنا ہے کہ مودی کے دورے کے دوران اسرائیل کے ساتھ جن اہم دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے جا سکتے ہیں، ان میں جدید ڈرونز کی خریداری بھی شامل ہو گی۔
ان معاہدوں کے تحت انڈیا اس بات پر زور دیے سکتا ہے کہ اسرائیلی ڈرون انڈیا میں تیار ہوں۔
دی ہندو اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا اسرائیل سے ہیرون ایم کے 2 ڈرونز کی اضافی مقدار خریدنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔
ایئرفورس ٹیکنالوجی ڈاٹ کام کے مطابق یہ ڈرون ایک وقت میں 45 گھنٹے تک مسلسل ہوا میں پرواز کر سکتا ہے۔ یہ ڈرون تقریباً 470 کلو گرام کا پے لوڈ لے جا سکتا ہے اور تقریباً 35,000 فٹ کی بلندی تک اڑنے کے علاوہ ہر قسم کے موسم میں اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم اب تک انڈیا کی حکومت کی جانب سے ان معاہدوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ معلومات شیئر نہیں کی گئیں۔
اس تحریر میں ہم جانیں گے کہ انڈیا اسرائیل سے یہ ڈرون کیوں خرید رہا ہے، اس کا پاکستان سے حالیہ تنازع سے کیا تعلق ہے اور موجودہ دور میں ڈرون اتنا اہم ہتھیار کیوں بنتا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور انڈیا کے تنازع کے دوران دونوں جانب سے ڈرونز کا استعمال کیا گیا تھا اور ایک دوسرے کے ڈرون مار گرانے کے دعوے بھی سامنے آئے تھے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 25 اسرائیلی ساخت کے ہیروپ ڈرونز کو مار گرایا گیا
ڈرون ایک اہم ہتھیار کیسے بنا؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دنیا کے کئی ممالک ڈرون کو دفاع اور حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور یہ ایک اہم ہتھیار بن کر ابھرا ہے۔
ڈرونز کا استعمال انٹیلی جنس حاصل کرنے، نگرانی، جاسوسی، درست ہدف پر حملے کرنے، مشکل علاقوں میں مدد فراہم کرنے، فوج یا دیگر مقاصد کے لیے سامان لے جانے سمیت ریسکیو کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ ڈرون کے آپریشن میں انسانی نقصان کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ دشمن کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں یہ لڑاکا طیاروں سے پیچھے نہیں ہے۔
یہ اس قدر درست طریقے سے نشانہ بنا سکتا ہے کہ 3 جنوری 2020 کو امریکا نے ایران کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔
روس یوکرین جنگ ہو یا آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تنازع، ڈرون کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔
سابق لیفٹیننٹ جنرل اور انڈین آرمی ایئر ڈیفنس کے سابق ڈائریکٹر جنرل وی کے سکسینہ کہتے ہیں کہ ’ڈرونز کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ان کا روایتی ریڈار سسٹم سے پتہ نہیں لگایا جا سکتا۔‘
وہ کہتے ہیں، ’اسے حقیقی وقت کی انٹیلی جنس، نگرانی، ہدف کے حصول اور جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ روایتی فضائیہ کی جگہ نہیں لے سکتا، لیکن یہ زمین پر موجود دشمن قوتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔‘
ڈرون نہ صرف ممالک بلکہ بہت سے مسلح گروپ بھی استعمال کر رہے ہیں۔
فضائی دفاع کے ماہر اور سابق میجر جنرل اشوک کمار کا کہنا ہے کہ ’بڑے ممالک کے علاوہ چھوٹے ممالک بھی ڈرون خرید سکتے ہیں کیونکہ یہ لڑاکا طیاروں سے بہت سستے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ طاقتور ممالک کے پاس زیادہ ڈرون ہوں گے لیکن کمزور ممالک بھی ان کی مدد سے لڑ سکتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈرون نے جنگ کا چہرہ کیسے بدل دیا
روس اور یوکرین کے درمیان فروری 2022 میں جنگ چھڑ گئی تھی۔ یوکرین روس سے بہت چھوٹا ملک ہے اور اس کی فوجی طاقت بھی روس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
لیکن چار سال گزرنے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے ڈرون کا استعمال اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔
میجر جنرل اشوک کمار کا کہنا ہے کہ ’اس جنگ میں ڈرونز نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ یوکرین کے پاس نیٹو ممالک کے ڈرون ہیں اور یوکرین خود ڈرونز میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے۔‘
میجر جنرل اشوک کمار نے ڈرون کی صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تقریباً چار سال سے جاری جنگ کا حوالہ دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ڈرون میدان جنگ کو مکمل طور پر تبدیل کر رہے ہیں اور یہ مستقبل میں مزید بڑھے گا۔ آذربائیجان دو بار آرمینیا سے ہار گیا، لیکن پھر ترکی نے اسے ڈرون دیے اور وہ جیت گیا۔‘
میجر جنرل اشوک کمار کے مطابق ’حالیہ تنازع میں پاکستان نے بھی ہمارے خلاف ڈرون کا استعمال کیا لیکن انڈیا کا مغربی محاذ کافی مضبوط ہے اس لیے اس کا زیادہ اثر نہیں ہوا۔‘
گزشتہ سال اپریل میں پہلگام حملے کے بعد انڈیا نے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عسکری کارروائیاں کی تھیں جس کے بعد دونوں ممالک کی فوجیں چار روز تک آمنے سامنے رہیں اور اس دوران دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔
دفاعی ماہر سنجیو سریواستو کے مطابق ’ڈرون اور لڑاکا طیاروں یا میزائلوں میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا، لیکن ڈرونز درمیانی رینج، شارٹ رینج اور لانگ رینج کے بھی ہوتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنجیو سریواستو کہتے ہیں کہ انڈیا کے پاس 2009 سے اسرائیلی ہاروپ ڈرون موجود ہے جسے ’خود کش ڈرون‘ بھی کہا جاتا ہے ’کیوں کہ یہ اپنے ہدف تک پہنچنے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیتا ہے۔‘
’اس کے علاوہ انڈیا کے پاس اسرائیلی ہیرون ڈرون 2002 سے ہے۔ DRDO بھی ڈرون تیار کر رہا ہے۔ انڈیا امریکہ سے 30 ریپر ڈرون (MQ9) حاصل کرنے جا رہا ہے، جو کہ جنگی ڈرون ہیں۔‘
میجر جنرل اشوک کمار کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کے پاس ڈرون کی بہترین ٹیکنالوجی موجود ہے۔‘
ان ممالک میں امریکہ، اسرائیل، روس، چین، یوکرین اور ترکی شامل ہیں۔ تاہم ڈرونز کے مختلف اجزاء میں مختلف ممالک آگے ہیں، اس لیے یقین سے یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سے ممالک اس ٹیکنالوجی میں آگے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میجر جنرل اشوک کمار بتاتے ہیں کہ ’جنگ میں ڈرون کے استعمال کے بارے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
’ڈرونز لڑاکا طیاروں کو تقریباً برابر نقصان پہنچا سکتے ہیں اور بہت سستے ہیں، اس لیے انھیں بڑی تعداد میں رکھا جا سکتا ہے۔‘
SOURCE : BBC



