SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
غزہ میں ’امن کونسل‘ منصوبے میں انڈونیشین فوج کی شمولیت نے ملک میں ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ انڈونیشیا ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے لیے اپنے فوجی بھیجیں گے۔ دیگر چار ممالک کوسوو، قازقستان، البانیہ اور مراکش ہیں۔
ان چار ممالک میں سے مراکش واحد ملک ہے جسے امن قائم رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کی تشکیل کردہ فوج میں اپنے فوجی بھیجنے کا عملی تجربہ ہے۔ لیکن امن مشنز میں شامل مراکش کے فوجیوں کی تعداد انڈونیشین فوجیوں کے مقابلے میں کم ہے، کیونکہ انڈونیشیا سلامتی کونسل کے اس پروگرام میں سب سے زیادہ فوجی بھیجنے والے 10 بڑے ممالک میں شامل ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ 70 برس کے دوران انڈونیشیا نے افریقہ، ایشیا اور یورپ کے متعدد تنازع زدہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے تحت امن قائم رکھنے کے مشنز میں اپنی فوج بھیجی ہے۔ اس دوران انڈونیشین فوج کی تعریف بھی کی گئی، لیکن اس کے بعض اہلکار اغوا ہوئے اور کچھ قتل بھی کر دیے گئے۔
یہ موضوع کس حد تک متنازع ہے؟
بین الاقوامی استحکام فورس اقوام متحدہ کے امن مشنز سے مختلف ہے۔ یہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے کنٹرول میں نہیں، بلکہ ایک ادارے کے تحت کام کرتی ہے جسے امن کونسل کہا جاتا ہے۔
اس کے باوجود 17 نومبر 2025 کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے امن کونسل کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ نے انڈونیشیا سمیت اپنے رکن ممالک کو یہ اجازت بھی دی کہ وہ بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے مطابق، وہ ممالک جو بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہونے کے لیے فوج بھیجیں گے، جن میں انڈونیشیا بھی شامل ہے، اسرائیل اور مصر کے ساتھ تعاون اور مشاورت کریں گے۔
غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس جو ذمہ داریاں نبھائے گی ان میں سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے میں مدد، شہریوں کا تحفظ، فلسطینی پولیس میں شامل ہونے کے امیدواروں کی تربیت، اور شہریوں کی امداد کے لیے راستوں کو محفوظ بنانا شامل ہیں۔
اس فورس کی دیگر ذمہ داریوں میں حماس کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے، جس میں عسکری ڈھانچے کو تباہ کیا جائے گا۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
19 فروری کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ جب تک حماس کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، ’غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ‘ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
بادجاداران یونیورسٹی میں دفاعی امور کے ماہر مرادی کا ماننا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنا اور اس کے ڈھانچے کو ختم کرنا انڈونیشین فوج کے لیے سب سے بڑا ممکنہ خطرہ ہو سکتا ہے۔
مرادی نے کہا: ’غیر مسلح کرنے کے علاوہ سرنگوں کو تباہ کرنا بھی خطرات سے خالی نہیں، کیونکہ اس سے شہر میں جنگ چھڑ سکتی ہے اور انڈونیشین فوج کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔‘ حماس اور غزہ میں موجود دیگر تنظیمیں، جیسے کہ فلسطینی اسلامی جہاد، مختلف مواقع پر اعتراف کر چکی ہیں کہ وہ زیر زمین سرنگوں کو اسرائیلی فوج کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شامل ہونے سے، نظریاتی طور پر، انڈونیشیا غیر جانبدار بھی نہیں رہے گا۔
مرادی نے یہ نشاندہی بھی کی کہ انڈونیشین فوج کا غیر جانبدار نہ رہنا اور یہ خطرہ کہ انڈونیشیا کی فوج لڑائی میں ملوث ہو گی، خاص طور پر حماس کے ساتھ، ملکی آئین اور خارجہ پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انڈونیشین فوج کہاں تعینات ہوگی اور خطرات کیا ہیں؟
فروری کے اوائل میں اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی تھی کہ انڈونیشین فوج جنوبی غزہ میں تعینات ہوگی، خاص طور پر رفح اور خان یونس کے آس پاس۔
سات اکتوبر 2023 کے بعد سے رفح غزہ کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم گزرگاہ بن چکی ہے، کیونکہ یہ انھیں مصر تک پہنچنے کا بنیادی راستہ فراہم کرتی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے سات اکتوبر سے دو دیگر گزرگاہیں ایریز (بیت حانون چوکی) اور کرم ابو سالم بند کر رکھی ہیں۔
یوں رفح غزہ تک انسانی امداد پہنچانے کا واحد راستہ بھی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق اسرائیلی ریٹائرڈ جنرل امیر افیفی نے جنوری میں روئیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل رفح میں فلسطینی شہریوں کے لیے کیمپ قائم کرے گا۔
افیفی نے وضاحت کی کہ ’تعمیر نو‘ منصوبے کے تحت بنائے جانے والے گھروں میں چہرہ پہچاننے والی ٹیکنالوجی اور نگرانی کے آلات نصب کیے جائیں گے۔
امن کونسل اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی مدد سے جس حماس کو غیر مسلح کرنا چاہتی ہے، یہ رہائشی منصوبہ اسی حماس کی تعمیر کردہ زیر زمین سرنگوں کے اوپر بنایا کیا جائے گا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں خطرات موجود ہیں، یہ بات ہیرو سوسائیتیو نوسوانتو نے کہی، جو انڈونیشیا کی یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں امن اور انسانی حقوق کے ماہر ہیں۔
ہیرو سوسائیتیو نے کہا ہے کہ رفح ایسا علاقہ ہے جہاں حماس کی سرنگوں کا ایک گھنا اور پیچیدہ جال موجود ہے۔ انھوں نے اسے ’حماس کے لیے حساس علاقہ‘ قرار دیا۔
سنیچر 21 فروری کو ایک آن لائن گفتگو میں ہیرو سوسائیتیو نے مزید کہا: ’جب زیر زمین سرنگیں ختم کی جائیں گی تو حماس انڈونیشین فوج کو اپنا دشمن، مخالف یا حریف سمجھ سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی استحکام فورس کا بنیادی کام استحکام قائم کرنا ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ واضح نہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ زیر زمین سرنگیں ایک خطرہ ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امن کے قیام میں مدد دینے کے لیے آنے والی انڈونیشین فوج کو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونا پڑ جائے۔‘
انھوں نے نشاندہی کی کہ اگر یہ تجزیہ درست ہوا تو انڈونیشین فوج بالواسطہ طور پر حماس اور اسرائیلی فوج کے تنازع میں فریق بن جائے گی، اور ’ہم ایک جال میں پھنس سکتے ہیں۔ یہ خطرناک ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہیرو سوسائیتیو کے مطابق رفح میں زیر زمین سرنگیں نہ صرف حماس کے لیے دفاع کا ایک ہتھیار ہیں بلکہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی علامت بھی سمجھی جاتی ہیں۔
انھیں اس بات پر تشویش ہے کہ یہاں حماس سے کوئی تصادم ہوا تو انڈونیشین فوج کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس بات کا خطرہ ہے کہ انڈونیشین فوج کو نہ صرف ایسی تباہ کن کارروائیاں کرنی پڑیں جن سے شہریوں کو نقصان پہنچے، بلکہ علاقے میں متحارب اور غیر متحارب افراد کے درمیان تمیز کرنے میں بھی انڈونیشین فوج کو شدید مشکلات پیش آئیں گی۔
ہیرو سوسائیتیو نے مزید کہا: ’اگرچہ ابتدا سے ہی تصدیق کر دی گئی ہے کہ غزہ بھیجی گئی انڈونیشین فوج غیر متحارب ہو گی، لیکن مجھے نہیں یقین کہ ان کے پاس اسلحہ نہیں ہو گا۔ خاص طور پر رفح جیسے علاقوں میں۔‘
انڈونیشین حکومت کا کیا مؤقف ہے؟
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوجونو نے دعویٰ کیا کہ بین الاقوامی استحکام فورس میں انڈونیشیا کی موجودگی کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات انھوں نے جمعہ 20 فروری کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔
سوجونو نے یہ سوال بھی مسترد کر دیے کہ کیا انڈونیشین فوج حماس کو غیر مسلح کرنے یا زیر زمین سرنگیں ختم کرنے میں حصہ لے گی۔
سوجونو کا مزید کہنا تھا: ’استحکام فورس کے اختیار سے متعلق رہنما اصول شریک ممالک کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج حدود سے بھی سخت شرائط نافذ کر سکیں۔‘
انھوں نے کہا: ’ہم نے استحکام فورس کو اپنی حدود سے آگاہ کر دیا ہے، یعنی یہ کہ انڈونیشیا کوئی فوجی آپریشن نہیں کرے گا اور نہ ہی غیر مسلح کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لے گا۔‘
،تصویر کا ذریعہBettmann/Getty Images
سوجونو نے کہا کہ غزہ میں انڈونیشی فوج جو کام کرے گی، وہ ہے ’دونوں جانب (فلسطینی اور اسرائیلی) شہری آبادی کا تحفظ اور انسانی امداد کی کوششوں میں حصہ لینا۔‘
انڈونیشین وزارت خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ غزہ میں موجود انڈونیشین فوجیوں کو اسلحہ استعمال کرنے کی اجازت صرف اپنی حفاظت کے لیے اور اپنا مینڈیٹ پورا کرنے کے لیے ہوگی۔ یہ بیان ان خدشات کے بعد آیا کہ انڈونیشین فوج ممکنہ طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر سکتی ہے۔
ان مختلف پابندیوں کے باوجود، سوجونو نے اس بات کی تردید نہیں کی کہ غزہ میں موجودگی کے دوران انڈونیشین فوج کو بڑے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا: ’بہر حال یہ ایک عسکری کارروائی ہے اور ظاہر ہے کہ خطرات موجود ہیں۔ اس کے لیے ہمیں واضح قواعد بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ انڈونیشین فوجی خود نقصان اٹھائیں۔‘
بی بی سی انڈونیشیا نے فوج اور وزارت دفاع سے انٹرویو کی درخواست کی، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
غزہ میں انڈونیشین فوج کے اخراجات کون برداشت کرے گا؟
اخراجات کے معاملے پر کئی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے۔ ان میں قومی ادارہ برائے تحقیق سے منسلک بین الاقوامی تعلقات کی ماہر دیوی فورتونا انور بھی شامل ہیں۔
دیوی کا کہنا ہے کہ گذشتہ دہائیوں میں انڈونیشین فوج کی امن مشنز میں شمولیت کی مالی معاونت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کرتی رہی ہے، کیونکہ یہ کارروائیاں نیویارک میں قائم اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
دیوی نے مزید کہا: ’اگر غزہ میں یہ مشن اقوام متحدہ کے امن مشن کے حصے کے طور پر قائم کیا جاتا ہے تو اسے سلامتی کونسل کی منظوری ملے گی، فوجی نیلے ہیلمٹ پہنیں گے اور کارروائیوں کے اخراجات اقوام متحدہ برداشت کرے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’لیکن اگر یہ مشن اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار کے باہر ہوا تو فوج بھیجنے والی ریاست یا فوج کی میزبانی کرنے والے علاقائی حکام اس کے اخراجات برداشت کریں گے۔ تاہم، غزہ اس قابل نہیں ہے کہ اخراجات اٹھا سکے۔‘
،تصویر کا ذریعہBettmann/Getty Images
سوجونو نے کہا کہ غزہ میں انڈونیشین فوج کی کارروائیوں کے اخراجات حکومت اور وہ تمام فریق برداشت کریں گے جنھوں نے امن کونسل کی حمایت کی ہے۔
انھوں نے مزید کہا: ’امن کونسل میں کچھ فریق ایسے بھی ہیں جو بین الاقوامی امن فورس کے اخراجات میں حصہ ڈالنے کے پابند ہیں۔ یہ رقوم تمام کارروائیوں کی معاونت کے لیے استعمال کی جائیں گی۔‘
انھوں نے کہا: ’لیکن چونکہ انڈونیشیا فوج بھیجنے والا ملک بھی ہے تو یقینی طور پر اس عمل پر اخراجات آئیں گے۔‘
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اقوام متحدہ کی 2017 کی دستاویزات کے مطابق امن مشن میں شامل ایک فوجی کو کم از کم ایک ہزار 410 امریکی ڈالر ماہانہ تنخواہ دی جاتی تھی، جو تقریباً دو کروڑ 30 لاکھ انڈونیشین روپیہ بنتی ہے۔
فوجی کی یہ تنخواہ سلامتی کونسل کی جانب سے اس کے ملک کی حکومت کو منتقل کی جاتی ہے اور حکومت یہ رقم فوجی کو ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔
انڈونیشیا اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والا ملک
انڈونیشین فوج کا اقوام متحدہ امن مشنز میں شامل ہونے کا ریکارڈ طویل ہے۔ پہلی بار انڈونیشیا سنہ 1957 میں مصر کے مشن میں شریک ہوا۔
اس کے بعد سے انڈونیشین حکومت نے کئی ایسے ممالک میں فوجی بھیجے ہیں جو جنگ کا شکار ہیں یا حال ہی میں جنگ سے نکلے ہیں جیسے کانگو، ویتنام، بوسنیا، مقدونیہ، جارجیا، عراق، کویت، شام، لائبیریا، سیارا لیون، سوڈان اور لبنان۔
سنہ 2012 میں انڈونیشیا کی فوج نے ایک خصوصی ایجنسی بنائی جو سلامتی کونسل کی نگرانی میں کارروائیوں کے لیے فوجیوں کے انتخاب اور تربیت کی ذمہ دار ہے۔ اسے امن بحالی کے مشن کا مرکز کہا جاتا ہے۔
ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1957 سے سنہ 2020 تک انڈونیشیا نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لیے تقریباً 45 ہزار فوجی بھیجے۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بین الاقوامی تعلقات کی ماہر دیوی فورتونا انور نے بتایا کہ درحقیقت انڈونیشیا نے ایسے بیرون ملک مشنز میں بھی فوج بھیجی ہے جو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جانب سے شروع نہیں کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق ایک واقعہ سنہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں پیش آیا، جب انڈونیشیا نے اپنی مسلح افواج کے ارکان کو ویتنام بھیجا۔
دیوی نے کہا: ’سنہ 1973 سے 1975 کے درمیان امریکہ اور ویتنام میں جنگ کے خاتمے کے بعد ہونے والی مفاہمت کی نگرانی کے لیے ایک بین الاقوامی کمیٹی برائے نگرانی (آئی سی سی ایس) موجود تھی۔ یہ اقوام متحدہ کے تحت نہیں تھی۔ انڈونیشیا اور تین دیگر ممالک نے اس میں شمولیت اختیار کی۔‘
انڈونیشین فوج کو دیگر تین ممالک کے ساتھ مل کر جنوبی ویتنام میں جنگ بندی پر عمل در آمد کرانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اس میں امریکی افواج کے خلاف لڑنے والی ویت کانگ فورسز کے ڈھانچے کو ختم کرنا بھی شامل تھا
لیکن اس وقت ویتنام میں انڈونیشین مسلح افواج کا مشن مشکل کا شکار ہوا۔ جنگ کم نہیں ہوئی اور سنہ 1975 میں کمیونسٹ گروہوں نے شہر بون می تھوٹ پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
اُس وقت کے انڈونیشین وزیر خارجہ آدم ملک نے ویتنام میں انڈونیشین مسلح افواج کے کردار کو ‘بے فائدہ’ قرار دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ ‘اگر حالات مزید خراب ہوتے رہے تو ہم انڈونیشین فوج کو واپس جکارتہ بلا لیں گے۔’
بعد میں ویت کانگ کی جانب سے ایک ہیلی کاپٹر پر میزائل حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار انڈونیشین فوج کے کرنل لیونارڈ گوناوان ہلاک ہوگئے۔ تھے۔
حالیہ برسوں میں بھی اقوام متحدہ امن مشنز میں شامل ہونے والے انڈونیشین فوجی متنازع علاقوں میں خطرے سے دور رہنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔
جون 2020 میں ریپبلک آف کانگو میں مشن کے دوران ایک انڈونیشین فوجی فرسٹ سارجنٹ راما واحدی ہلاک ہوئے۔ اکتوبر 2024 کو لبنان میں اقوام متحدہ کے تحت خدمات انجام دینے والے دو انڈونیشین فوجی اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔
انڈونیشیا کی عسکری صلاحیت اور غزہ میں لاحق خطرات
دیوی فورتونا انور نے کہا کہ وہ فوجی جو تنازع کا شکار علاقوں میں بھیجے جاتے ہیں، ہمیشہ بڑے خطرات کا سامنا کرتے ہیں کیونکہ وہاں کی صورتحال ’پہلے ہی غیر محفوظ‘ ہوتی ہے۔
اس کے باوجود دیوی نے انڈونیشین مسلح افواج کی مہارتوں یا مقامی آبادی کے ساتھ ان کے رابطے کی صلاحیت پر کوئی شک ظاہر نہیں کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایک منفرد، اگرچہ طنزیہ پہلو یہ ہے کہ انڈونیشین فوج شہریوں کے ساتھ نمٹنے میں پہلے ہی بہت مہارت رکھتی ہے، کیونکہ وہ دفاعی شعبے سے باہر مختلف شہری امور میں حصہ لینے کی عادی ہے۔
دیوی نے کہا: ’انڈونیشیا میں فوجی ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، وہ سکولوں میں پڑھا سکتے ہیں، ڈاکٹر کے طور پر کام کر سکتے ہیں، کسان بن سکتے ہیں، گا سکتے ہیں، کھانا پکا سکتے ہیں، اور مقامی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنے حالیہ بیان میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ حماس بین الاقوامی استحکام فورس کی آمد قبول کرے گی، بشرطیکہ اس کے فوجی، جن میں انڈونیشیا کے فوجی بھی شامل ہیں، غزہ کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔
انھوں نے مزید کہا: ’ہم ایسی امن فوج چاہتے ہیں جو جنگ بندی کی نگرانی کرے، اس کے نفاذ کو یقینی بنائے، اور غزہ کی پٹی پر قابض فوج اور ہمارے عوام کے درمیان ایک رکاوٹ کے طور پر کام کرے۔‘
SOURCE : BBC



