Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں کیا یہ چاکلیٹ سونے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے؟

کیا یہ چاکلیٹ سونے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے؟

10
0

SOURCE :- BBC NEWS

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

مشروم چاکلیٹ کے ایک برانڈ ایلس نے تین سال پہلے اپنی لانچ سے لے کر اب تک وسیع پیمانے پر مقبولیت حاصل کر لی ہے۔

اس کی اصل چاکلیٹ پروڈکٹ کا نام نائٹ کیپ ہے اور وہ اب امریکہ بھر کے دو ہزار سٹورز میں دستیاب ہے۔ اس میں شامل اجزا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اچھی نیند میں مدد کرتے ہیں۔

نائٹ کیپ ایلس مشرومز کی شریک بانی شارلٹ کروز اور لنڈسے گڈسٹین نے تیار کیا، اس میں مشروم اور کیمومائل شامل ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سکون آور ہیں۔ اس میں میگنیشیم اور زنک بھی شامل ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جسم میں میلاٹونن کی سطح کو بڑھاتے ہیں۔ میلاٹونن وہ قدرتی ہارمون ہے جو نیند لانے میں مدد کرتا ہے۔

اس پروڈکٹ میں تھیانین بھی شامل ہے۔ یہ ایک امینو ایسڈ ہے جو قدرتی طور پر سبز چائے میں پایا جاتا ہے۔ یہ جسم کو سکون دینے کے لیے جانا جاتا ہے اور نیند میں مدد دیتا ہے۔

نیو یارک شہر میں رہنے والی کروز کہتی ہیں: ’ہم نے نیند لانے والی چاکلیٹ کا فارمولا بنانے میں شاید سب سے زیادہ وقت لیا، کیوں کہ نیند ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، نیند نہ آنے کی لاکھوں مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔‘

’ہم نے ہومیوپیتھک ڈاکٹروں، پی ایچ ڈی محققین، اور مصنوعات بنانے والے ماہرین کے ساتھ مل کر ایک ایسا پروڈکٹ تیار کیا جو نیند متاثر کی سبھی وجوہات سے نمٹتا ہے۔‘

ایسی مصنوعات کی مانگ بڑھ رہی ہے جو نیند لانے میں مدد دیں اور کروز اور گڈسٹین اس بڑھتی طلب کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

ریشی مشروم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سلیب اوبلس نے 1003 امریکیوں کا سروے کیا، اس سے معلوم ہوا کہ تقریباً 47 فیصد امریکی نیند کے لیے کسی نہ کسی چیز کی مدد لیتے ہیں۔ ان میں ادویات کے بجائے میلاٹونن جیسے قدرتی سپلیمنٹس سب سے زیادہ عام ہیں۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

برطانیہ میں نیند میں مدد کے لیے طبی مصنوعات پر اںحصار جاری ہے جبکہ نیند نہ آنے کا قدرتی علاج سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے۔

آئیکیا کی سنہ 2025 کی سلیپ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور برطانیہ وہ ملک ہیں جو نیند کے معیار کی درجہ بندی میں سب سے کم درجے پر ہیں۔

نیند بڑھانے والے سنیکس (ہلکی پھلکی غذائیں)، جیسے کہ ایلس مشرومز نائٹ کیپ چاکلیٹ، ان نئی قسم کی مصنوعات کا حصہ ہیں جن میں سپلیمنٹس کے فوائد کو ایک خوش ذائقہ پراڈکٹ کی صورت پیش کیا گیا ہے۔

کروز کہتی ہیں کہ جب نیند کے لیے آپ چاکلیٹ لیتے ہیں تو اس کا مزا بھی آتا ہے، لیکن کیپسول لینے سے احساس ہوتا ہے کہ آپ دوائی لے رہے ہیں اور اس کا مزا نہیں آتا۔

یہی وجہ ہے کہ ’نیند لانے والی مٹھائیوں‘ میں مقابلہ بازی بڑھ رہی ہے۔

تھیانین اور میلاٹونن کے ذریعے نیند لانے والی دیگر مصنوعات بھی آ چکی ہیں۔ جیسے کہ گڈ نائٹ ڈارک چاکلیٹ بارز، لیگون کی نائٹ بائٹس میں تھیانین اور میگنیشیم ہے، جبکہ گڈ ڈے چاکلیٹ بلینڈڈ میں میگنیشیم، تھیانین اور کیمومائل شامل کیا گیا ہے۔

سکون آور ریشی مشرومز بہت سے چاکلیٹس، جیلز، اور مشروبات میں بھی فعال جزو ہیں۔

شارلٹ کروز (بائیں) لنڈسی گوڈسٹین (دائیں)

،تصویر کا ذریعہLeslie Kirchhoff

لیکن کیا ان مقبول مصنوعات کے پیچھے کوئی قابل اعتماد سائنسی بنیاد موجود ہے؟

سائنسی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ میگنیشیم اور میلاٹونن نیند کے لیے فائدہ مند ہیں، لیکن جہاں تک کیمومائل جیسے اجزاء کا تعلق ہے، تو نیند پر ان کے مثبت اثرات اگر موجود بھی ہوں تو وہ عموماً عارضی ہوتے ہیں اور اکثر اوقات محض پلیسبو (وہم پر مبنی) اثر کے مترادف ہوتے ہیں۔

برطانیہ میں میلاٹونن صرف ڈاکٹر کے نسخے پر دیا جاتا ہے اور وہ بھی نیند کے مسئلے سے دوچار افراد کو مختصر مدت کے لیے۔

ریشی مشروم پر موجودہ تحقیق بہت کم ہے جس سے مضبوط سائنسی نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اگرچہ ایشیائی طب میں اسے ہزاروں سال سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

جہاں تک تھیانین کا تعلق ہے، اس پر تحقیق ابھی جاری ہے۔ غذا میں تھیانین کا استعمال اس وقت سے بڑھا جب سنہ 1960 میں جاپان نے خوراک میں اس کے استعمال کی منظوری دی۔

امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے سنہ 2005 میں تھیانین کو کھانوں اور مشروبات میں استعمال کرنے کی اجازت دی، لیکن یورپ اور برطانیہ میں معاملہ زیادہ پیچیدہ ہے۔

وہاں تھیانین صرف اس صورت میں قابل قبول ہے جب وہ قدرتی طور پر سبز چائے سے حاصل کیا گیا ہو، لیکن اگر وہ کیمیائی طور پر تیار کیا گیا ہو تو اس کا استعمال ممنوع ہے۔

اب تک کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نیند پر تھیانین کا اثر محدود ہے۔ بی بی سی سے بات کرنے والے ماہرین نے اس کے استعمال میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کی اسسٹنٹ پروفیسر میلانی اسٹیئرنز بتاتی ہیں کہ عام کھانوں میں تھیانین کی مقدار کم ہوتی ہے، لیکن تحقیق کے لیے جو مقدار استعمال کرائی جاتی ہے وہ کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

پروفیسر میلانی یونیورسٹی میں سلیپ ریسرچ لیباریٹری کی ڈائیریکٹر بھی ہیں۔ ان کے مطابق: ’چاکلیٹ میں شامل تھیانین کتنی مؤثر ہے، ابھی اس پر تحقیق نہیں ہوئی اور نہ اس کے مؤثر ہونے کی زیادہ توقع ہے۔‘

نیویارک کی بینگہیمٹن یونیورسٹی کی محقق اور اسسٹنٹ پروفیسر لینا بیگداش خوراک، مزاج اور نیند کے باہمی تعلق کا مطالعہ کر رہی ہیں۔

وہ خبردار کرتی ہیں کہ جو لوگ نیند بہتر کرنے والی مصنوعات استعمال کر رہے ہیں، اگر وہ تھیانین کا استعمال کریں گے تو ان کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔

وہ روزانہ یہ خوراک لینے کے معاملے پر اعتدال کا مشورہ دیتی ہیں۔

کیٹ لیتھرلی

،تصویر کا ذریعہPetra Gatto

ڈاکٹر کیٹ لیتھرلی سلیپ کنسلٹنٹ ہیں اور یہی نکات ان کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ ایک مسئلہ یہ ہے ہر غذائی جزو کے اثرات ظاہر ہونے کا وقت مختلف ہے۔ مثال کے طور پر، میلاٹونن کو نیند سے دو گھنٹے پہلے لینا چاہیے، جبکہ ایلس مشرومز کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نائٹ کیپ چاکلیٹ کا اثر اسے کھانے کے 15 سے 45 منٹ بعد شروع ہوتا ہے۔

لیتھرلی اس بات پر بھی سوال اٹھاتی ہیں کہ تھیانین کو جب خوراک میں شامل دیگر اجزا جیسے چکنائی، شکر اور پروٹین کے ساتھ شامل کیا جائے تو اس کا کیا اثر ہوتا ہے۔

لندن میں مقیم لیتھرلی کہتی ہیں: ’مجھے لگتا ہے کہ ان میں سے کچھ دعوے قبل از وقت ہو سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ درست وقت، مناسب خوراک، سب سے مؤثر ترکیب، اور مختلف افراد پر اس کے اثرات کا بہتر تعین کیا جا سکے۔‘

وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ لوگوں نے نیند میں مدد دینے والی مصنوعات استعمال کرنا شروع کر دیں تو بعض لوگوں کی توجہ یہ جاننے سے ہٹ سکتی ہے کہ انھیں نیند کم آنے کی اصل وجہ کیا ہے۔

اس بات سے ایلس مشرومز کی کروز بھی اتفاق کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’آپ چاہے نائٹ کیپ کی چار چاکلیٹس کھا لیں، لیکن اگر آپ رات دیر تک فون پر ٹک ٹاک دیکھ رہے ہیں، تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘

گڈ فوڈ سٹوڈیو ایک ایسی کمپنی ہے جو کاروباری افراد کو نئی غذائی مصنوعات تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔ شیف سے غذائی مشیر بننے والے امیر موسوی اسی کمپنی سے وابستہ ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ لوگوں میں اپنی ذہنی اور جسمانی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سائنسی طریقے آزمانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

خود موسوی بھی روزانہ کی بنیاد پر کئی سپلیمنٹ لیتے ہیں، پٹھے بنانے کے لیے کریٹین، توجہ کا ارتکاز بڑھانے کے لیے لائنز مین، تناؤ کم کرنے کے لیے اشواگنڈھا اور شام کے وقت سکون کے لیے ریشی مشروم۔

گذشتہ سال وہ ذہنی تناؤ کا شکار رہے اور انھوں نے نیند کے لیے تھیانین سپلیمنٹ بھی لیا۔

انھوں نے بجلی سے چلنے والے بیڈ کور بھی خریدا ہے جو ان کے جسم کے درجہ حرارت کے مطابق ٹھنڈا یا گرم ہو جاتا ہے۔ موسوی کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی نیند بہتر ہوئی ہے۔

SOURCE : BBC