Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’کیا ٹرمپ ذہنی طور پر کمانڈر اِن چیف ہونے کے لیے موزوں...

’کیا ٹرمپ ذہنی طور پر کمانڈر اِن چیف ہونے کے لیے موزوں ہیں؟‘: ایران جنگ پر چھ گھنٹے طویل سماعت میں سخت جملوں کا تبادلہ

20
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک گھنٹہ قبل

مطالعے کا وقت: 9 منٹ

ایران جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ بدھ کے روز امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں جہاں حلف کے تحت انھوں نے ڈیموکریٹ قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ چھ گھنٹے پر محیط اس سماعت کے دوران تند و تیز سوالات، جوابات اور سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

جب پیٹ ہیگسیتھ آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، تو اُن کے ہمراہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین اور محکمہ دفاع کے چیف فنانشل آفیسر جولس ہرسٹ بھی موجود تھے۔

اس سماعت کا مقصد امریکی فوج کے لیے 1.5 کھرب ڈالر کے بجٹ کی درخواست سے متعلق سوالات کا جواب دینا تھا۔

ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے سماعت کا آغاز کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے پوچھا کہ ماضی میں فراہم کی گئی فنڈنگ سے امریکی فوج کو کیا فائدہ پہنچا؟

اس کا جواب دیتے ہوئے ہیگستھ نے کہا کہ ’اس فنڈنگ کے باعث انتظامیہ کو امریکی دفاع کے کئی اہم شعبوں میں بہتری لانے کا آغاز کرنے کا موقع ملا، جن میں فوجی اہلکاروں کے لیے رہائشی اور دیگر سہولتوں میں بہتری بھی شامل ہے۔‘

بعد ازاں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سے سوال کیا گیا کہ مجوزہ بجٹ امریکہ کے عالمی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔

جنرل کین نے کہا کہ ’فوج کی جانب سے طلب کیے گئے 1.5 کھرب ڈالر مستقبل کی سلامتی کے لیے ایک ’تاریخی سرمایہ کاری‘ ہیں، جو امریکا کو تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں سبقت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر کے میدانِ جنگ میں جو نئی صورتیں سامنے آ رہی ہیں، ان سب سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کی سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔‘

مائیک راجرز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کانگریس کی کمیٹی میں ڈیموکریٹک رکن ایڈم سمتھ نے سوال کیا کہ ایران کے خلاف جنگ پر امریکہ اب تک کتنے پیسے خرچ کر چُکا ہے اور کیا اراکینِ کانگریس کو جلد مکمل لاگت کی تفصیل فراہم کی جائے گی؟

سماعت میں شریک جُولز ہرسٹ نے بتایا کہ ’اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جن میں بڑا حصہ اسلحے اور گولہ بارود پر خرچ آیا ہے۔‘

ایڈم سمتھ نے کہا کہ وہ اس جواب پر خوش ہیں کیونکہ کانگریس ایک طویل عرصے سے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش میں تھی، مگر اس سے پہلے کوئی بھی واضح تخمینہ سامنے نہیں آیا تھا۔

اس کے بعد انھوں نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے سوال کیا کہ حکومت ایران کی جانب سے جوہری خطرے کے خاتمے کے لیے کیا منصوبہ رکھتی ہے؟

اس کے جواب میں ہیگستھ نے سابق امریکی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایران کے ساتھ ’خراب معاہدے‘ کیے اور سنہ 2016 میں سابق صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے مشترکہ جامع ایکشن پلان جسے ایران جوہری معاہدہ بھی کہا جاتا ہے کا حوالہ دیا۔

اس پر ایڈم سمتھ کے لہجے میں سختی محسوس کی گئی انھوں نے کہا کہ ’یہ ماضی کی باتیں ہیں مستقبل کا کیا لائحہ عمل ہے؟‘

انھوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا واقعی ایران کی جانب سے کوئی فوری جوہری خطرہ موجود تھا جس کے باعث جنگ ناگزیر ہو گئی؟

ہیگستھ نے جواب دیا کہ ایران نے ’اپنی جوہری منصوبوں سے متعلق خواہشات ترک نہیں کی تھیں، اسی لیے امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی کا فیصلہ کیا۔‘

ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس جو کورٹنی نے جنوری میں جاری کی گئی نیشنل ڈیفنس سٹریٹیجی میں وزیرِ دفاع کے جائزے کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ چین ہے اس کے بعد روس اور شمالی کوریا کا نمبر آتا ہے، جبکہ اس مرحلے پر ایران ‘کئی دہائیوں میں پہلے سے زیادہ کمزور اور غیر محفوظ حالت’ میں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تناظر میں ایران کے خلاف جنگ کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی وسائل کا بڑے پیمانے پر استعمال دنیا کے دیگر حصوں میں درپیش خطرات کے مقابلے میں ایک واضح ’عدم توازن‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

اس پر جنرل کین نے جواب دیا کہ صدر قومی طاقت اور فوجی وسائل کا استعمال اس سیاسی اور سلامتی کی صورتحال کے مطابق کرتے ہیں جسے وہ مناسب سمجھتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسے فیصلوں میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ سمجھوتے شامل ہوتے ہیں۔‘

کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جان گارامینڈی نے ایران جنگ کی ’سٹریٹجک سمت‘ پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس جنگ کو صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کے لیے ایک سنگین اور خودساختہ نقصان قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ جنگ کے دوران 13 امریکی فوجی ہلاک، سینکڑوں زخمی اور ہزاروں شہری مارے جا چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایک قابلِ پیش گوئی نتیجہ تھا، انھوں نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کو مخاطب کیا اور یہ الزام عائد کیا کہ ’آپ جنگ کے پہلے دن سے امریکی عوام سے جھوٹ بولتے آئے ہیں اور صدر بھی یہی کرتے رہے ہیں۔‘

گارامینڈی نے مزید کہا کہ ’جنگی حکمتِ عملی ایک حیران کن نااہلی کا مظاہرہ ہے، کیونکہ تہران کی حکومت بدستور قائم ہے، ایران کے میزائل اور ڈرون نظام سلامت ہیں، جبکہ اس جنگ کے نتیجے میں ایران کا چین، روس اور شمالی کوریا کے ساتھ تعاون مزید مضبوط ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور جنگ کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔‘

اس پر ردِعمل دیتے ہوئے ہیگستھ نے گارامینڈی کے بیان کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا، اور اس دعوے کو مسترد کیا کہ صدر ٹرمپ کسی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات ’امریکہ کے دشمنوں کے لیے پروپیگنڈا کا سامان فراہم کرتے ہیں۔‘

ہیگستھ نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے خلاف آپ کی نفرت آپ کی سوچ پر حاوی ہو چکی ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس سیٹھ مولٹن نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے سوال کیا کہ آیا انھوں نے صدر کو ایران پر حملے شروع کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

ہیگستھ نے جواب دیا کہ امریکی صدر کو ’ہر ممکن زاویے سے صورتحال سے آگاہ کیا گیا‘، جس کے بعد انھوں نے گفتگو کا رخ جوہری ہتھیاروں کی طرف موڑتے ہوئے کمیٹی سے کہا کہ وہ ’تصور کریں کہ اگر ایران کے پاس اس وقت جوہری بم ہوتا تو دنیا کی صورت حال کیسی ہوتی۔‘

مولٹن نے براہِ راست سوال کیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ یہ جنگ جیت رہا ہے۔

ہیگستھ نے کہا ’بالکل،‘ اور دعویٰ کیا کہ میدانِ جنگ میں یہ ایک ’حیران کن فوجی کامیابی‘ ثابت ہوئی ہے۔

تاہم مولٹن نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے معاملے پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے ہماری ناکہ بندی کی پھر ہم نے ان کی ناکہ بندی کی ناکہ بندی کی یہ تو بچوں کے کھیل ’ٹیگ، یو آر اِٹ‘ جیسا ہے۔‘ انھوں نے جنرل کین سے پوچھا کہ کیا فوج نے اس صورت حال کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

اس پر جنرل کین نے کہا کہ امریکی فوج ’ہمیشہ فوجی آپشنز کی مکمل رینج پیش کرتی ہے، جنھیں احتیاط سے پرکھا جاتا ہے۔‘

مولٹن نے مزید سوال کیا کہ کیا اس جنگ کے اثرات عام امریکی ٹیکس دہندہ پر مدنظر رکھے گئے ہیں، جن کے مطابق یہ لاگت تقریباً 600 ڈالر فی شہری بنتی ہے۔

ہیگستھ نے جواب دیا کہ یہ جنگ ’برسوں تک نہیں چلے گی‘، اور اس کے برعکس سوال اٹھایا کہ ’ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کی قیمت کیا ہو گی؟‘

کمیٹی کی کارروائی کے دوران وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس سارا جیکبز کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر حالیہ پوسٹس کے حوالے سے تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

جیکبز کے پیچھے موجود ایک معاون نے صدر ٹرمپ کی سابقہ سوشل میڈیا پوسٹس کے کٹ آؤٹس اٹھا رکھے تھے، جن میں ایک وہ اے آئی سے تیار کردہ تصویر بھی شامل تھی (جو بعد میں حذف کر دی گئی) جس میں صدر کو حضرت عیسیٰ کے انداز میں دکھایا گیا تھا۔

سارا جیکبز نے سوال کیا کہ ’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ صدر ذہنی طور پر اتنے مستحکم ہیں کہ کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داری نبھا سکیں؟‘

اس پر ہیگستھ نے جوابی سوال کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ نے یہی سوال چار سال تک جو بائیڈن کے بارے میں بھی پوچھا تھا؟‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ نے ایسا نہیں کیا اور میں اس حد تک توہین آمیز رویے میں شامل ہی نہیں ہوں جو آپ کمانڈر اِن چیف کے خلاف اختیار کر رہی ہیں۔ آپ وہ سوال اب پوچھ رہی ہیں، جبکہ آپ اور آپ کے ساتھی ڈیموکریٹس ایک ایسے صدر کا دفاع کرتے رہے جنھیں بولنے میں دشواری ہوتی تھی۔‘

اس پر سارا جیکبز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن سنہ 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار نہیں تھے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے گذشتہ ہفتے امریکی بحریہ کے سیکریٹری کو اچانک عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔

ہیگستھ نے ابتدا میں سبکدوش ہونے والے جان فیلن کی امریکی فوج کے لیے خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا تاہم کہا کہ بالآخر ’مقاصد کے حصول کے لیے تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے نئی قیادت اور نئی سمت کی ضرورت تھی، اسی لیے ہم نے یہ تبدیلی کی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اعلیٰ فوجی افسران کے معاملے میں یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ آیا وہ دیے گئے مشن کے مطابق کام کر رہے ہیں یا نہیں۔‘

ہیگستھ کے مطابق ’اگر وہ ایسا نہیں کر رہے ہوتے تو پھر تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔‘

یاد رہے کہ یہ سماعت ایک ایسے موقع پر ہوئی جب ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایران پر فضائی حملے دوبارہ شروع کرنا ’وار پاورز ریزولوشن‘ کے قانون کی وجہ سے پیچیدہ ہو گیا ہے۔ یہ 1973 کا قانون امریکی صدر کے فوجی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

اس قانون کے مطابق، کانگریس کی منظوری کے بغیر صدر صرف 60 دن تک امریکی فوج کو مسلح تنازع میں شامل کر سکتا ہے، جس کے بعد کانگریس میں ووٹنگ لازم ہو جاتی ہے۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس اس آخری تاریخ سے کیسے نمٹے گا، جو یکم مئی کو ختم ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے لیے کانگریس میں ووٹنگ ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل ہے، تاہم جنگ جیسا سنگین معاملہ دونوں جماعتوں میں وفاداریوں کا امتحان لے سکتا ہے جس سے ووٹ کا نتیجہ غیر یقینی ہو جائے گا۔

SOURCE : BBC