SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images / Truth Social
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایران اور قطر کی مشترکہ گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد حسبِ معمول سخت الفاظ سے بھرپور بیان جاری کیا ہے۔
اسرائیل نے ایران میں ساؤتھ پارس میں واقع دنیا کی سب سے بڑے قدرتی گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا اور تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے قطر میں ایک انرجی کمپلیکس پر حملہ کیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ٹرمپ کے غصے میں مزید شدت آ گئی۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف دھمکی آمیز زبان استعمال کی اور کہا کہ انھیں اسرائیل کے حملے کے منصوبوں کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔
امریکی صدر کی استعمال کردہ زبان ہمیں اس جنگ کے رخ کے بارے میں کیا بتاتی ہے اور کیا امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف حکمتِ عملی اور مقاصد ایک ہی ہیں؟
آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
امریکہ کو ’حملے کے بارے میں نہیں معلوم‘ تھا
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ’اس مخصوص حملے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔‘
یہ بات حملے کے بعد اسرائیل میں شائع ہونے والی متعدد اخباری رپورٹس سے بالکل متصادم ہے۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت آحرونوت نے رپورٹ کیا کہ اس حملے پر ’پہلے سے ہی امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی تھی اور… وزیرِاعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان اس پر اتفاق ہوا تھا۔‘
دائیں بازو کے اخبار اسرائیل ہایوم نے اس سے بھی آگے بڑھ کر رپورٹ کیا کہ ’صدر ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام تین خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ (ایران کے ساحلی شہر) عسلویہ میں ہونے والے مجوزہ اسرائیلی حملے پر بات چیت کی تھی۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اکثر ہی امریکی صدر دعوے کرتے رہتے ہیں، جس کے بعد سچ کو کھوجنا آسان کام نہیں رہتا۔
اسرائیلی حملے کو بیان کرنے کے لیے ان کے منتخب کیے گئے الفاظ بھی بہت معنی خیز ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسرائیل نے ’غصّے میں‘ گیس فیلڈ پر ’شدید حملہ‘ کیا۔
یہ وہ طرزِ بیان ہے جو عموماً ایران کی جوابی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، نہ کہ کسی قریبی اتحادی کی سوچے سمجھے فوجی کارروائی کے لیے۔
کیا ٹرمپ یہ کہہ رہے کہ اسرائیل نے ایران میں گیس فیلڈ پر حملہ کر کے کوئی بیوقوفی کی؟
اسرائیل گیس فیلڈ پر اب ’حملے نہیں‘ کرے گا
صدر ٹرمپ اکثر الفاظ لکھنے کے لیے انگریزی زبان میں بڑے حروف (کیپیٹل لیٹرز) کا استعمال کرتے ہیں، مگر اس طویل پوسٹ میں انھوں نے صرف ایک مرتبہ بڑے حروف کا سہارا لیا ہے اور یہ بڑے حروف اسرائیل کے لیے لکھے گئے تھے۔
انھوں نے لکھا کہ ’اس نہایت اہم اور قیمتی ساؤتھ پارس فیلڈ پر اسرائیل کی جانب سے مزید کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا، جب تک کہ ایران نادانی میں نہایت معصوم ملک (قطر) پر حملہ کرنے کا فیصلہ نہ کر لے۔‘
ایک ایسے صدر جو ہمیشہ صورتحال کو قابو میں رکھنا چاہتے ہیں، کیا یہ ان کا ایک وعدہ تھا جو وہ پہلے بھی کر چکے ہیں یا پھر وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو خبردار کر رہے تھے؟
ٹرمپ کی بے ربط اور بہاؤ میں لکھی جانے والی ٹروتھ سوشل پوسٹس کو پڑھ کر یہ جاننا آسان نہیں ہوتا کہ اصل بات کیا ہے۔
لیکن اس میں اُن خبروں کی گونج سنائی دیتی ہے جن کے مطابق جنگ کے اوائل میں ایران کے تیل کے ذخائر پر اسرائیلی حملوں نے ٹرمپ کو ناراض کر دیا تھا۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تو کیا اسرائیل اور امریکہ کے جنگی مقاصد الگ، الگ ہیں؟
صدر ٹرمپ کی ایک پوسٹ سے بہت زیادہ معنی اخذ کرنا شاید غلطی ہوگی۔
اسرائیلی حکام اس بات پر زور دینے کے خواہش مند ہیں کہ دونوں ممالک پوری ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، چاہے کبھی کبھار غیر ارادی طور پر ان میں اختلافات کی جھلک ہی کیوں نہ نظر آئے۔
لندن میں اسرائیلی سفارتخانے کے ترجمان الیکس گینڈلر نے جمعرات کی صبح بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم ایران کی حکومت، پاسدارانِ انقلاب اور ان کے بیلسٹک اور جوہری پروگراموں کے حوالے سے اپنے بیشتر یا تمام اہداف پر بھرپور حد تک ایک رائے رکھتے ہیں۔‘
’ہم ایک ہی چیز چاہتے ہیں۔‘
اگرچہ دونوں اتحادی بہت سے معاملات پر واضح طور پر متفق رہے ہیں لیکن اسرائیل تہران میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش کے معاملے زیادہ مستقل مزاج رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں آج صبح حکام کے شائع ہونے والے بیانات سے اشارہ ملتا ہے کہ اُنھوں نے ساؤتھ پارس حملے کو ایرانی حکومت کی اتھارٹی کو کمزور کرنے کی ایک کوشش کا حصہ قرار دیا ہے۔
ایک حکومتی اہلکار نے یدیعوت آحرونوت اخبار کے یوسی یہوشواع کو بتایا کہ ’شہریوں کو گیس سپلائی بند کی جا رہی ہے اور اس سے بغاوت کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔‘
وزیرِاعظم نیتن یاہو نے ایران کی اسلامی حکومت کو گرانے کی اپنی کئی دہائیوں پر محیط خواہش کبھی نہیں چھپائی، کیونکہ وہ اور بہت سے اسرائیلی اسے ایک ایسی حکومت سمجھتے ہیں، جو یہودی ریاست کو تباہ کرنے کے ارادے رکھتی ہے۔
جہاں امریکہ نے اپنی بیشتر فوجی کارروائیوں کا مرکز ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو کمزور کرنے، اس کی بحریہ کو تباہ کرنے اور حالیہ دنوں میں خلیج کے ساتھ ایران کی طویل ساحلی پٹی پر اہداف کو نشانہ بنانے کو بنایا ہوا ہے، وہیں اسرائیل نے ایران کے رہنماؤں کو قتل کرنے اور ریاستی کنٹرول کے اہم نظاموں پر حملے کرنے کے لیے انتہائی اقدامات کیے ہیں۔ جن میں بسیج کے نیم فوجی یونٹس بھی شامل ہیں جو اس برس کے اوائل میں احتجاجی مظاہروں پر ہونے والے پرتشدد کریک ڈاؤن کے بڑے حصے کی ذمہ دار تھے۔
ایران کو حملے کے ’حقائق کا علم نہیں‘
اپنی پوسٹ میں، صدر ٹرمپ نے اصرار کیا کہ کہ قطر نہ اس حملے میں شامل تھا اور نہ ہی اسے اس کے بارے میں پہلے سے کوئی معلومات تھیں۔
لیکن وہ لکھتے ہیں کہ ’بدقسمتی سے ایران کو اس بات کا علم نہیں تھا‘ اور اسی لیے اس نے ’بلاجواز اور ناانصافی پر مبنی‘ جوابی کارروائی کی۔
ٹرمپ یہاں یقیناً ایران کو ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کر رہے، لیکن وہ یہ تاثر دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایران نے جوابی حملہ کرتے وقت پوری صورتِ حال کو نہیں سمجھا تھا، یعنی تہران نے شاید غلطی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ قطر بھی اس میں شامل ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی گیس فیلڈ کو اُڑانے کی دھمکی
ٹروتھ سوشل کی پوسٹ کے کچھ حصوں میں ٹرمپ کا روایتی انداز نظر آتا ہے، جیسے کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے طاقت کے شدید استعمال کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
وہ خبردار کرتے ہیں کہ ’اگر ایران نے قطر کی ایل این جی کی تنصیبات پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکہ، چاہے اسرائیل کی مدد یا اجازت ہو یا نہ ہو، ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کے پورے حصے کو اتنی شدید طاقت سے تباہ کر دے گا جس کی مثال ایران نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘
ٹرمپ اور ان کے جارح مزاج سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ اس طرح کی دھمکی آمیز بیان بازی کے شوقین ہیں۔ خود کو ’امن کا صدر‘ کہنے والے ڈونلڈ ٹرمپ اکثر اسی قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں۔
اور یہ بات یقینی طور پر درست ہے کہ واشنگٹن ایران اور اس کے عوام کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے جتنا کہ وہ اب تک پہنچا چکا ہے۔
دھمکی آمیز کارروائی کے لیے اسرائیلی رضامندی کا حوالہ کچھ عجیب محسوس ہوتا ہے۔
کیا ٹرمپ بنیامین نیتن یاہو کو مستقبل میں زیادہ مشاورت کرنے کے لیے سرزنش کر رہے تھے؟
ڈونلڈ ٹرمپ کی ’ماگا‘ تحریک (میک امریکہ گریٹ اگین) کے کچھ حلقے پہلے ہی اس بات پر قائل ہیں کہ اس جنگ میں فیصلے امریکہ نہیں بلکہ اسرائیل کر رہا ہے۔ ایسے میں یہ خدشہ موجود ہے کہ صدر کے بعض ناقدین اس بیان کو ایک لغزش سمجھیں۔
لیکن تیل اور گیس کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے، جس کی ایک وجہ اسرائیل اور ایران کے حالیہ جوابی حملے بھی ہیں، اور آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت نہ ہونے کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ بے چین دکھائی دیتے ہیں۔
یہ جنگ مسلسل امریکی انتطامیہ کو ایسے مشکل حالات سے دوچار کر رہی ہے، جس کی شاید اسے توقع نہیں تھی۔
جنگ کے لیے حمایت، جو اسرائیل میں اب بھی بہت زیادہ ہے، امریکہ میں 50 فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ تنازع نیتن یاہو کو ایک اور مدتِ حکومت دلانے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ قریبی فوجی اتحادی ہیں، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ وہ کسی جنگ میں ایک ساتھ لڑ رہے ہیں۔
ان دونوں نے مل کر صرف تین ہفتوں سے بھی کم عرصے میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ جنگ ڈونلڈ ٹرمپ کے اندازے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہو رہی ہے۔
SOURCE : BBC



