Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’کپل شرما جتنے وسائل ملیں تو شاید اس سے بہتر شو کر...

’کپل شرما جتنے وسائل ملیں تو شاید اس سے بہتر شو کر سکتا ہوں‘: تابش ہاشمی نے اپنی پہلی فلم کے ڈائیلاگز کی تیاری کیسے کی؟

47
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

تابش ہاشمی کا شمار بڑے سٹینڈ اپ کامیڈینز اور میزبانوں میں ہوتا ہے، اُن کا ٹاک شو ’ہنسنا منع ہے‘ اور کرکٹ شو ’ہارنا منع ہے‘ نہ صرف پاکستان میں مقبول ہے بلکہ بیرون ملک بھی اسے پسند کیا جاتا ہے۔

اور عید الفطر پر وہ فلم ’آگ لگے بستی میں‘ کے ذریعے اپنے فلمی کریئر کا بھی آغاز کر چکے ہیں۔

بی بی سی اُردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں تابش ہاشمی کا کہنا ہے کہ کامیڈی اور ٹی وی ہوسٹنگ سے فلموں تک پہنچنے کا سفر اُن کے لیے ایک دلچسپ تجربہ رہا ہے۔

اس انٹرویو میں انھوں نے فلم میں ولن بننے کے فیصلے پر تو روشنی ڈالی ہی، ساتھ ساتھ ٹی وی ہوسٹنگ، سٹینڈ اپ کامیڈی، سوشل میڈیا اور دیگر موضوعات پر کُھل کر بات کی۔

تابش ہاشمی کہتے ہیں کہ ماہرہ خان اور فہد مصطفیٰ جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کرنا اُن کے لیے ایک خوشگوار تجربہ تھا۔

ان کے مطابق دونوں اداکاروں نے سیٹ پر کہیں بھی سپر سٹار ہونے کا تاثر نہیں دیا۔ ’ان کا رویہ بہت دوستانہ تھا جس کی وجہ سے کام کرنے میں مزہ آیا۔‘

تابش کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ کئی سال سے ٹی وی پر کام کر رہے ہیں اس لیے اُن کی کوشش ہوتی تھی کہ سیٹ پر بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں۔ اُن کے مطابق وہ کیمرے کے سامنے ڈائیلاگ ادا کرنے سے پہلے دوستوں اور گھر والوں کو سُنا کر جاتے تھے، اور یہی اُن کی تیاری کا طریقہ تھا۔

عام طور پر ٹی وی اور سٹیج کے کامیڈین اپنی پہلی فلم میں یا تو مزاحیہ کردار ادا کرتے ہیں یا ہیرو کے روپ میں نظر آتے ہیں، لیکن تابش ہاشمی نے اس کے برعکس ڈیبیو فلم میں ایک ولن کا کردار قبول کیا۔ اس پر اُن کا کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی کامیڈی کا سنجیدہ انداز ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہ@tabishhashmi

’میں دوسرے کامیڈینز سے خود کو اس لیے الگ سمجھتا ہوں کیوںکہ میں سنجیدہ سے سنجیدہ بات بغیر ایکسپریشن کے کر جاتا ہوں، جب کوئی سنجیدہ انداز میں مزاحیہ بات کرتا ہے تو اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ فلم میں بھی میں نے ایسا ہی کیا، باقی کردار مزاحیہ ہیں اور میں سب سے زیادہ سنجیدہ ہوں، اور اسی سے مزاح پیدا ہوتا ہے۔‘

تابش ہاشمی نے مزید بتایا کہ وہ خود کو نان ایکٹر نہیں سمجھتے۔ ’سٹینڈ اپ کامیڈین بھی اداکار ہی ہوتے ہیں کیونکہ وہ روزمرہ زندگی کے کرداروں کا مشاہدہ کر کے انھیں سٹیج پر پیش کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم پورا دن لوگوں کو دیکھتے ہیں، اُن کے انداز اور لہجے کو نوٹ کرتے ہیں اور پھر سٹیج پر اُن کی نقل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہوسٹنگ بھی ایک کردار ہوتا ہے۔ اس لیے میں خود کو کبھی نان ایکٹر نہیں سمجھتا۔‘

کارپوریٹ ملازمت سے کامیڈی تک

تابش ہاشمی نے اپنے کیریئر کا آغاز ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت سے کیا تھا۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ مزاح اور پبلک سپیکنگ کا شوق انھیں طالب علمی کے زمانے سے تھا، کالج اور یونیورسٹی کے مباحثوں میں حصہ لیتے ہوئے انھوں نے مزاح کا استعمال شروع کیا اور اسی وجہ سے انھیں کامیابیاں ملنے لگیں۔

’یونیورسٹی ختم ہونے کے بعد سٹیج پر جانے اور جیتنے کی طلب ختم نہیں ہو رہی تھی، اس لیے میں نے سٹینڈ اپ کامیڈی شروع کر دی۔‘

بعد میں کچھ عرصہ ذاتی مصروفیات اور خاندانی حالات کی وجہ سے وہ سٹیج سے دور رہے لیکن پھر دوبارہ کامیڈی کی طرف لوٹ آئے۔

’جب لوگوں نے دوبارہ ہنسنا شروع کیا تو مجھے لگا کہ یہ وہی نشہ ہے جو پہلے تھا، پہلے ناشپاتی پرائم والوں کی نظر پڑی اور میں نے ’ٹو بی آنیسٹ‘ ہوسٹ کیا، جس کے بعد جیو ٹی وی والوں نے ’ہنسنا منع ہے‘ دے کر مجھے ٹی وی شو کا میزبان بنا دیا۔‘

’کرکٹ شو بڑی کامیابی تھی‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہ@tabishhashmi

تابش ہاشمی گذشتہ چند برسوں سے کرکٹ پر مبنی پروگرام ‘ہارنا منع ہے’ بھی ہوسٹ کر رہے ہیں، ان کے مطابق یہ پروگرام ان کے ٹی وی کیریئر کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس شو کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی سنجیدہ کرکٹ پروگراموں سے مختلف ہے۔

’شو میں ہم ایسے بات کرتے ہیں جیسے چند دوست چائے کی میز پر بیٹھ کر کرکٹ پر گفتگو کر رہے ہوں، شاید یہی وجہ ہے کہ یہ شو پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی بہت مقبول ہے۔‘

ان کے مطابق سب سے دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ان کے شو کے تینوں مہمانوں کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے مدعو کر لیا، عبدالرزاق کو بطور کوچ اور محمد عامر اور عماد وسیم کو بطور کھلاڑی۔

’کپل شرما سے موازنہ میرے لیے اعزاز ہے‘

تابش ہاشمی کے شو ’ہنسنا منع ہے‘ کا اکثر انڈین کامیڈین کپل شرما کے شو سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اس موازنے کو منفی انداز میں نہیں لیتے۔

’پاکستان میں عموماً پہلے کوئی شخص مشہور ہوتا ہے ، پھر اسے ہوسٹنگ ملتی ہے، جیسے نعمان اعجاز اور عمران اشرف، شاید میں واحد مثال ہوں جو ہوسٹنگ سے مشہور ہوا۔ اس لیے اگر میرا موازنہ ایشیا کے سب سے مقبول شو سے ہو رہا ہے تو یہ میرے لیے اعزاز ہے۔‘

تابش ہاشمی کا کہنا تھا کہ اگر انھیں کپل شرما جیسے وسائل اور بڑی ٹیم میسر ہوں تو وہ شاید اس سے بہتر پروگرام بھی کر سکیں۔

تابش ہاشمی کا کہنا ہے کہ ماضی میں انور مقصود اور معین اختر جیسے فنکار مزاح کے ذریعے سیاسی موضوعات پر آسانی سے بات کر لیتے تھے، مگر آج یہ کام کچھ زیادہ حساس ہو چکا ہے۔

’کامیڈی میں اگر آپ کبھی نشانے سے ہٹ جائیں تو شکایات آ جاتی ہیں۔ لیکن میرے خیال میں جتنی سیاسی درستی کامیڈین سے توقع کی جاتی ہے، اتنی اگر سیاست دانوں سے کی جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔‘

کراچی بمقابلہ لاہور، تابش کس شہر کو اپنا سمجھتے ہیں؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کراچی میں پیدا ہونے والے تابش ہاشمی اس وقت لاہور میں مقیم ہیں، ان کے مطابق دونوں شہروں کے ساتھ ان کی وابستگی ہے لیکن بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے لاہور بہتر نظر آتا ہے۔

’کراچی میرا شہر ہے، میری جڑیں وہاں ہیں۔ لیکن انفراسٹرکچر اور سکیورٹی کے لحاظ سے لاہور بہت آگے نظر آتا ہے۔‘

تابش ہاشمی نے کراچی کی حالت کے بارے میں بھی کئی بار کھل کر بات کی ہے، ان کا کراچی کے مئیر مرتضیٰ وہاب کے ساتھ انٹرویو کافی وائرل بھی ہوا جس میں انھوں نے شہر کے کئی مسائل کی جانب نشاندہی بھی کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ شہر کے مسائل پر بات کرنا کسی کے خلاف نہیں بلکہ کراچی کی بہتری کے لیے ہے۔

’اگر آپ لوگوں سے پوچھیں تو زیادہ تر یہی کہیں گے کہ کراچی پہلے سے بہتر نہیں ہوا، ہمیں صرف یہ چاہیے کہ شہر بہتر ہو جائے، چاہے جس طرح بھی ہو۔‘

سوشل میڈیا کے بارے میں رائے دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف یہ پلیٹ فارم فنکاروں کے لیے مواقع پیدا کرتا ہے لیکن دوسری طرف اس پر بہت زیادہ منفی مواد بھی موجود ہے۔

نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ سٹینڈ اپ کامیڈی میں آنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ پہلے مالی طور پر خود مختار ہوں۔

’شروع میں یہ شعبہ روزگار کا ذریعہ نہیں بنتا، جب آپ شوق سے کام کریں گے تو کامیابی خود آ جائے گی۔‘

SOURCE : BBC