Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’کسی امریکی فوجی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے‘: ٹرمپ نے ایران میں...

’کسی امریکی فوجی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے‘: ٹرمپ نے ایران میں تباہ ہونے والے طیارے میں سوار دوسرے رُکن کے ریسکیو کی تصدیق کردی

31
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں تباہ ہونے والے طیارے کے لاپتہ رُکن کو ریسکیو کرنے کی تصدیق کردی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ریسکیو کیے گئے ’قابلِ احترام کرنل‘ کو چوٹیں آئی ہیں، تاہم وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ریسکیو مشن کے لیے درجنوں امریکی طیارے بھیجے گئے تھے۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ معجزانہ مشن پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے بعد کیا گیا ہے، ہم اس کی فوری تصدیق نہیں کرنا چاہ رہے تھے، کیونکہ ہم اپنے دوسرے ریسکیو مشن کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔‘

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی ’کسی امریکی فوجی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔‘

امریکی صدر کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران کسی امریکی اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

اس سے قبل امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو امریکی حکومت کے متعدد ذرائع نے بتایا تھا عملے کے رُکن کو اتوار کو علی الصبح ایران کے دُور دراز کے علاقے سے ریسکیو کیا گیا۔

امریکی حکام نے تصدیق کی تھی کہ ایران کے دُوردراز علاقے میں گرنے والے اس طیارے کے پائلٹ کو جمعے کے روز ریسکیو کر لیا گیا تھا۔ تاہم عملے کے دوسرے رُکن کی تلاش کے لیے ایران کے جنوبی علاقے میں امریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے تلاش کا عمل جاری تھا۔

امریکہ کے اس کامبیٹ سرچ اینڈ ریسکیو (یعنی سی ایس اے آر) مشنز میں جہاز اور نچلی پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹرز بھی شامل تھے۔

ایرانی حکام نے امریکی طیارے کے عملے کی رُکن کو زندہ ڈھونڈ نکالنے پر 66 ہزار ڈالرز کا انعام بھی رکھا تھا۔

خیال رہے کہ جمعے کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا تھا ایران میں مبینہ طور پر ایک امریکی جیٹ مار گرایا گیا ہے اور پائلٹ کی تلاش جاری ہے۔ بعدازاں امریکہ نے تصدیق کی تھی کہ جمعے کو اس کے ایف-15 ای لڑاکا طیارے کو جنوبی ایران کی فضائی حدود میں مار گرایا گیا تھا۔

کامبیٹ سرچ اینڈ ریسکیو کیا ہوتا ہے؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سادہ الفاظ میں سی ایس اے آر مشنز وہ عسکری کارروائیاں ہیں جن کا مقصد دشمن کے علاقوں میں مار گرائے گئے طیاروں کے پائلٹس یا تنہا فوجیوں کو ڈھونڈ کر انھیں بچانا ہوتا ہے۔

روایتی سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں انسانی ہمدردی یا آفات کے بعد کی جاتی ہیں۔ مگر سی ایس اے آر مشنز دشمن یا خطرناک ماحول میں کی جاتی ہیں۔

ایران میں موجودہ ریسکیو کوشش ایک ایسی کارروائی ہے جو ’دشمن کے علاقے کے اندر‘ گہرائی میں کی گئی ہے۔

یہ مشنز وقت کے لحاظ سے انتہائی حساس ہوتے ہیں کیونکہ دشمن فورسز بھی اسی علاقے میں پہنچ سکتی ہیں۔ ان کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ امریکی اہلکاروں کو تلاش کریں۔

امریکی عسکری سٹریٹجسٹ اور سابق اعلیٰ سفارتکار جیمز جیفری شام کے لیے خصوصی نمائندہ اور آئی ایس آئی ایل کے خلاف بین الاقوامی فوجی اتحاد کے لیے خصوصی ایلچی رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سب سے خطرناک فوجی مشن ہے جس کا مجھے علم ہے۔‘

جدید دور میں سی ایس اے آر مشنز زیادہ تر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ری فیولنگ طیارے موجود ہوتے ہیں اور دیگر جنگی طیارے علاقے میں گشت اور ممکنہ حملوں کے لیے تیار رہتے ہیں۔

جیفری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایئر فورس کے سپیشل آپریشنز کے لوگ ہوتے ہیں جنھیں تقریباً ڈیلٹا فورس اور نیوی سیل ٹیم سِکس کے معیار تک تربیت دی جاتی ہے لیکن ان کے پاس طبی مہارت بھی ہوتی ہے۔

’اگر انھیں لگے کہ پائلٹ زندہ ہو سکتا ہے تو وہ تلاش کا عمل ترک نہیں کرتے۔‘

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جمعے کو ایران سے سامنے آنے والی تصدیق شدہ ویڈیو میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹر اور کم از کم ایک ری فیولنگ طیارہ ایران کے صوبے خوزستان کے اوپر پرواز کرتا ہوا دکھائی دیا تھا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ایسے ریسکیو مشنز کی تاریخ

فضائی جنگ کے دوران ریسکیو مشنز پہلی عالمی جنگ میں بھی کیے گئے تھے جب پائلٹ فرانس میں مار گرائے گئے طیاروں میں سوار ساتھیوں کو بچاتے تھے۔

امریکی فوج کی پیرا ریسکیو یونٹس اپنی تاریخ 1943 کے اسی مشن سے جوڑتی ہیں۔ اس وقت دو فوجی سرجنز اس وقت کے برما (میانمار) میں زخمی فوجیوں کی مدد کے لیے پیراشوٹ کے ذریعے اترے تھے۔

سمتھسونیئن ایئر اینڈ سپیس میگزین کے مطابق دنیا میں پہلی بار ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو ایک سال بعد ہوا جب ایک امریکی لیفٹیننٹ نے جاپانی محاذ میں پھنسے چار فوجیوں کو بچایا۔ یہ کسی جنگ میں ہیلی کاپٹر کے پہلے عملی استعمال کا واقعہ تھا۔

جنگ کے فوراً بعد امریکہ میں باضابطہ سرچ اینڈ ریسکیو یونٹس قائم کیے گئے۔ لیکن جدید سی ایس اے آر کی بنیاد ویتنام جنگ کے دوران رکھی گئی تھی۔

بیٹ 21 نامی ایک مشن میں شمالی ویتنام کے علاقے میں مار گرائے گئے طیارے کے ایک پائلٹ کو نکالنے کی کوشش کے دوران کئی طیارے تباہ ہوئے اور متعدد امریکی اہلکار مارے گئے تھے۔

اس جنگ نے سی ایس اے آر مشنز کی وسعت اور پیچیدگی میں بہت اضافہ کیا اور اس تجربے نے اُن حکمتِ عملیوں اور طریقہ کار کو بہتر بنانے میں مدد دی جو آج بھی ریسکیو کارروائیوں کی بنیاد ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیا میں ہزاروں مشنز نے جدید ’کامبیٹ سرچ اینڈ ریسکیو‘ آپریشنز کے طریقہ کار کو تشکیل دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی فضائیہ کی پیرا ریسکیو ٹیمیں

اگرچہ امریکی فوج کی ہر شاخ سی ایس اے آر صلاحیت رکھتی ہے لیکن فوجی اہلکاروں کو تلاش کرنے اور انھیں ریسکیو کرنے کی بنیادی ذمہ داری امریکی فضائیہ کی ہے۔

یہ کام ان اہلکاروں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے جنھیں پیرا ریسکیو ٹیم کہا جاتا ہے، جو امریکی فوج کی خصوصی آپریشنز کمیونٹی کا حصہ ہیں۔

پیرا ریسکیو کا باضابطہ مقصد یہ بیان کیا گیا ہے: ’ہمارا کام دوسروں کی جان بچانا ہے۔‘

ان کا کام امریکی فوجیوں سے کیے گئے وعدے کا حصہ سمجھا جاتا ہے کہ انھیں میدان جنگ میں کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

یہ اہلکار بطور جنگجو اور پیرا میڈک انتہائی اعلیٰ تربیت حاصل کرتے ہیں اور ایک ایسے تربیتی عمل سے گزرتے ہیں جسے امریکہ کی فوج میں سب سے مشکل تربیتی کورس سمجھا جاتا ہے۔

انتخاب اور تربیت کا یہ عمل تقریباً دو سال پر محیط ہوتا ہے۔ اس میں پیراشوٹ اور ڈائیونگ ٹریننگ، بنیادی انڈر واٹر ڈیمولیشن، سروائیول، ریزسٹنس اور ایوئیژن ٹریننگ اور ایک مکمل سول پیرا میڈک کورس شامل ہوتا ہے۔

ایف 117 سٹیلتھ طیارہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کے علاوہ انھیں جنگی طب، پیچیدہ ریکوری آپریشنز اور اسلحے کی خصوصی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ ملٹری نیوز ویب سائٹ سوفریپ کے مطابق تاریخی طور پر تقریباً 80 فیصد افراد اس کورس کو مکمل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

زمین پر یہ ٹیمیں خصوصی تربیت یافتہ کامبیٹ ریسکیو آفیسرز کی قیادت میں کام کرتی ہیں، جو مکمل پیرا ریسکیو آپریٹر ہوتے ہیں اور ریسکیو مشنز کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

جب کسی طیارے کو دشمن کے علاقے کے اوپر مار گرایا جاتا ہے تو اُس جہاز کا پائلٹ اور عملہ بھی ایسی صورتِ حال کے لیے خصوصی تربیت رکھتے ہیں۔

تھنک ٹینک ڈیفینس پرائیرٹیز میں سینئر فیلو جینیفر کیواناگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان کی پہلی ترجیح زندہ رہنا اور گرفتاری سے بچنا ہوتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ پائلٹس اس بات کی تربیت بھی رکھتے ہیں کہ اگر وہ جسمانی طور پر قابل ہوں اور اتنے زخمی نہ ہوں کہ حرکت نہ کر سکیں تو وہ ایجیکشن سائٹ سے جلد از جلد دور ہو جائیں اور خود کو اس طرح چھپائیں کہ دشمن کی نظر سے دور رہ سکیں۔

کیواناگ کہتی ہیں کہ انھیں ایسی سروائیول تکنیکوں کی بھی تربیت دی جاتی ہے جن کی مدد سے وہ کچھ عرصہ کھانے یا پانی کے بغیر رہ سکیں۔

حالیہ امریکی ریسکیو مشنز

عراق اور افغانستان کی جنگوں کے دوران پیرا ریسکیو ٹیموں کو بڑے پیمانے پر تعینات کیا گیا، جہاں انھوں نے ہزاروں ایسے مشنز انجام دیے جن کا مقصد زخمی امریکی اور اتحادی فوجیوں کو ریسکیو کرنا یا نکال کر محفوظ مقام تک پہنچانا تھا۔

مثال کے طور پر 2005 میں امریکی فضائیہ کی پیرا ریسکیو ٹیمیں ایک امریکی نیوی سیل کو نکالنے کے مشن میں شامل تھیں جو زخمی تھا اور ایک افغان گاؤں میں پناہ لینے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس نیوی سیل کی ٹیم پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا تھا اور ان کے دیگر تین ساتھی مارے گئے تھے۔ اسی واقعے پر فلم لون سروائیور بنائی گئی تھی۔

گذشتہ دہائیوں میں مار گرائے گئے امریکی پائلٹوں کو بچانے کے مشنز بہت کم ہوئے ہیں۔

1999 میں سربیا میں مار گرائے گئے ایف 117 سٹیلتھ طیارے کے پائلٹ کو پیرا ریسکیو ٹیم نے تلاش کر کے ریسکیو کیا تھا۔

1995 میں بوسنیا میں ایک مشہور واقعے میں امریکی پائلٹ کو چھ دن تک گرفتاری سے بچنے کے بعد فضائیہ اور میرین کور کے مشترکہ سی ایس اے آر مشن کے ذریعے ریسکیو کیا گیا تھا۔

مختصر ویڈیوز

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

  • کبوتر

  • آرٹیمس کی روانگی

  • پلوامہ، زعفران

  • اسرائیل، وزیر

  • اصفہان

  • سینی ہندو

  • دفاعی نظام

  • سپرم وہیل

  • زمین کی تصویر

  • خارگ

  • منجیت سنگھ

  • ایرانی ماں

  • چاہبہار

  • تل ابیب

SOURCE : BBC