Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پرادا کی ’میڈ اِن انڈیا‘ کولہاپوری چپل فروخت کے لیے پیش، قیمت...

پرادا کی ’میڈ اِن انڈیا‘ کولہاپوری چپل فروخت کے لیے پیش، قیمت ڈھائی لاکھ پاکستانی روپے کے برابر

17
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

30 جون 2025

اپ ڈیٹ کی گئی 7 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

فیشن کی دنیا کے مشہور برانڈ پرادا نے کولہاپوری چپل جیسی چپل متعارف کروانے پر گزشتہ برس شدید تنقید کا سامنا کرنے کے بعد اب انڈیا میں بننے والی ان چپلوں کے ڈیزائن سے متاثر ہو کر بنائی گئی چپلیں دوبارہ فروخت کے لیے پیش کی ہیں۔

اطالوی کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ چپلیں جن کی ممکنہ قیمت ساڑھے سات سو یورو رکھی گئی ہے، انڈیا میں مہاراشٹرا اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں کاریگروں نے تیار کی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ ان چپلوں کے صرف 2,000 جوڑے ہی بنائے جائیں گے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب رواں سال گرمیوں میں میلان میں منعقدہ فیشن ویک میں ماڈلز نے بالکل ویسی چپلیں پہنیں جیسی انڈین ریاستوں مہاراشٹرا اور کرناٹک میں دہائیوں سے پہنی جا رہی ہیں۔

پرادا کی جانب سے میلان فیشن ویک میں ان چپلوں کے استعمال کے بعد انڈیا میں ایک تنازع کھڑا ہو گیا تھا جس کے بعد اطالوی فیشن برانڈ پرادا نے تسلیم کر لیا کہ ان کی چپلوں کا نیا ڈیزائن انڈیا میں بننے والی کولہاپوری چپلوں سے متاثر ہے۔

پرادا نے ان چپلوں کو ’لیدر فُٹ ویئر‘ کا نام دیا تھا لیکن اس کے انڈیا سے تعلق کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا جس کے بعد انڈیا میں اطالوی فیشن برانڈ کے خلاف ثقافتی تخصیص کے الزامات بھی منظرِ عام پر آئے تھے۔

ہاتھ سے بنائی گئی یہ چپلیں دنیا بھر میں پرادا کی 40 دکانوں اور آن لائن فروخت کی جا رہی ہیں۔

پرادا کے مطابق ان چپلوں میں روایتی تکنیک، جدید ڈیزائن اور اعلیٰ معیار کے مواد کو یکجا کیا گیا ہے، جس سے وہ چیز تخلیق ہوتی ہے جسے اس نے ’انڈین ورثے اور جدید لگژری کے درمیان ایک مکالمہ‘ قرار دیا ہے۔

میلان فیشن ویک میں کولہاپوری

،تصویر کا ذریعہReuters

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پرادا نے کولہاپوری چپلیں بنانے کے کام سے وابستہ بھارت کے آٹھ اضلاع کے کاریگروں کے لیے ایک تین سالہ تربیتی پروگرام کا بھی اعلان کیا ہے۔

یہ پروگرام، جو دو بھارتی ڈیزائن اداروں کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے، 180 کاریگروں کو چھ ماہ تربیت دے گا اور کمپنی کے مطابق، ان میں سے کچھ کاریگروں کو اٹلی میں پرادا گروپ اکیڈمی میں مزید تربیت حاصل کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔

خیال رہے کہ 2025 کے میلان فیشن ویک میں پرادا کی ایسی چپلوں کی نمائش کے بعد سوشل میڈیا پر انڈین صارفین نے شدید اعتراض کیا تھا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے لکھا تھا کہ ’پرادا کولہاپوری چپل ایک لاکھ 20 ہزار انڈین روپے میں فروخت کر رہی ہے اور یہ ڈیزائن اس نے انڈیا کی چمار کمیونٹی سے چُرایا۔‘

ایک اور صارف ہرش گوئنکا اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’پرادا کولہاپوری کی طرح نظر آنے والی چپلیں ایک لاکھ انڈین روپے سے زیادہ میں فروخت کر رہی ہے۔ ہمارے کاریگر کے ہاتھوں سے بنائی گئی یہ چپلیں 400 انڈین روپے میں فروخت ہوتی ہیں۔‘

اس تنقید پر ردِعمل دیتے ہوئے پرادا نے بی بی سی کو ایک بیان میں تسلیم کیا کہ یہ چپلیں روایتی انڈین ڈیزائن سے متاثر ہیں۔

بیان میں پرادا کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی نے ’ہمیشہ ہنرمندی، ثقافت اور ڈیزائن کی روایات کا احترام‘ کیا اور وہ ’اس موضوع پر مہاراشٹرا کے چیمبر آف کامرس، انڈسٹری اینڈ ایگریکلچر سے رابطے میں ہے۔‘

مہاراشٹرا کے چیمبر نے پرادا کو ایک خط بھی لکھا تھا ان کاریگروں کو اس ڈیزائن کا کریڈٹ نہیں دیا جا رہا جن کی نسلیں اس ڈیزائن کو بنا رہی ہیں۔

ان چپلوں کا نام مہاراشٹرا کے ایک شہر کے نام پر رکھا گیا تھا اور اس کی جڑیں 12ویں صدی سے ملتی ہیں۔

سنہ 2019 میں انڈین حکومت نے کولہاپوری چپل کو جیوگرافیکل انڈیکیشن کی حیثیت دی تھی۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق جیوگرافیکل انڈیکیشن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی پروڈکٹ نے کسی خاص جگہ یا خطے میں جنم لیا تھا۔

اس تنازع کے کھڑے ہونے کے بعد کولہاپور میں متعدد کاریگروں نے پرادا کی جانب سے ان کے ڈیزائن کو بغیر کریڈٹ دیے استعمال کرنے پر دُکھ کا اظہار کیا ہے۔

کولہاپوری چپل کی ایک کاریگر پربھا ستپوتے نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا کہ ’یہ چپلیں چمڑے کا کام کرنے والے کاریگر انتہائی محنت سے بناتے ہیں اور ان کا نام کولہاپوری کے نام پر ہی رکھنا چاہیے۔ کسی اور کی محنت کا فائدہ نہ اُٹھائیں۔‘

انڈین کاروباری شخصیت ہرش گوئنکا اس پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انڈیا میں ہاتھوں سے چپلیں بنانے والے کاریگر مشکل سے چند سو روپے کماتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ ہار رہے ہیں جبکہ بڑے برانڈز ہماری ثقافت سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔‘

کولہاپوری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ کسی عالمی برانڈ پر انڈیا کی ثقافتی تخصیص کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔

2025 کے کانز فلم فیسٹول میں بالی وڈ کی اداکارہ عالیہ بھٹ نے ایک ساڑھی پہنی تھی اور گوچی نے اسے ’گاؤن‘ کا نام دیا تھا۔

رواں برس مئی میں ٹک ٹاک پر مقبول ہونے والے ٹرینڈ پر بھی اس وقت تنقید ہوئی تھی جب لوگوں نے دوپٹے کو سکینڈینیوین سکارف کا نام دینا شروع کر دیا تھا۔

تاہم کولہاپور میں کچھ کاریگروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرادا کی طرف سے ان کے ڈیزائن کے استعمال پر انھیں فخر ہے۔

کولہاپور میں مقیم کاروباری شخصیت دلیپ مورے کا کہنا تھا کہ ’کاریگر خوش ہیں کیونکہ ان کے کام کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔‘

SOURCE : BBC