Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پاکستان کے بجائے دیگر ممالک سے چھ لاکھ ڈالر کی ریت درآمد:...

پاکستان کے بجائے دیگر ممالک سے چھ لاکھ ڈالر کی ریت درآمد: افغانستان میں ’بڑھتی تعمیراتی سرگرمیاں‘ کیا ظاہر کرتی ہیں؟

16
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغانستان میں تعمیراتی اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ریت کے استعمال اور درآمد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

طالبان حکومت کی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ چار سال قبل سلیکا ریت (صنعتی ریت) کی درآمدات صرف سات ٹن تھیں لیکن 2025 میں بڑھ کر ساڑھے تین ہزار ٹن ہو گئیں۔

وزارت تجارت اور صنعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ رواں شمسی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں چھ لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی ریت افغانستان درآمد کی گئی۔

ریت افغانستان میں تعمیراتی صنعت، ترقی اور تعمیرِ نو کا اہم جزو ہے اور متعدد افغان تاجروں اور تعمیراتی کمپنی کے ایگزیکٹوز نے بی بی سی کو بتایا کہ اب اس کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ فروخت میں اس اضافے کی بنیادی وجہ تعمیراتی اور رہائشی منصوبوں میں اضافہ ہے۔

وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صنعتی اور تعمیراتی سرگرمیوں میں توسیع کے باعث ایران اور چین سے سلیکا ریت کی درآمد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب ہونے سے قبل اس ریت کا بڑا حصہ پاکستان سے درآمد کیا جاتا تھا۔

سلیکا ریت شیشے، صابن اور ٹائلوں جیسی مصنوعات کی تیاری میں بھی استعمال ہوتی ہے۔

افغانستان میں ریت کیسے نکالی جاتی ہے؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

قندھار میں اعتماد صدیقی کنسٹرکشن کمپنی کے سربراہ بریداد صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تعمیرات میں تین قسم کی ریت استعمال کرتے ہیں جن میں سے دو قدرتی طور پر پائی جاتی ہیں۔

بریداد صدیقی کا کہنا تھا کہ ماضی میں لوگ اپنی ضرورت کی ریت دریا کے کنارے یا دیگر جگہوں سے جمع کرتے تھے لیکن اب ان کے مطابق ان جیسی کمپنیاں اسے ٹھیکیداروں سے خریدتی ہیں اور ریت کے ایک چھوٹے ٹرک پر 1200 افغانی اور ایک بڑے ٹرک پر 4500 افغانی ادا کرتی ہیں۔

زیادہ تر کمپنیاں جو اس ریت کو بڑے پیمانے پر نکالتی ہیں وہ حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں اور حکومت کو ٹیکس اور رائلٹی ادا کرتی ہیں۔

بلخ میں قدرتی ریت کو پروسیس کرنے والی ایک تعمیراتی کمپنی کے سربراہ مرتضیٰ بلخی کا کہنا ہے کہ وہ یہ ریت دو ذرائع سے حاصل کرتے ہیں، ایک دریا کے قریب اور دوسرا نجی زمینوں سے۔

اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہر کمپنی کے پاس وزارت تجارت کا ورک پرمٹ ہے، اس کے بعد یہ وزارت کان کنی کے ساتھ معاہدہ کرتی ہے۔ کانٹریکٹ حاصل کرنے والی کمپنی ایک مخصوص علاقے سے ریت نکالتی ہیں اور حکومت کو ہر مکعب میٹر کے لیے 30 افغانی ادا کرتی ہیں۔

اُن کے بقول جو کمپنیاں اس ریت کو نکالتی اور استعمال کرتی ہیں وہ حکومت میں رجسٹرڈ ہیں اور ان کے کانٹریکٹ منسٹری آف مائنز اینڈ انڈسٹریز کے ساتھ ہیں۔

لیکن بی بی سی کی جانب سے متعدد کوششوں کے باوجود افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت برائے کان کنی نے یہ نہیں بتایا کہ کتنی کمپنیاں اس سیکٹر میں کام کر رہی ہیں اور حکومت کو ان سے کتنی رقم ملتی ہے۔

اگرچہ افغانستان کے پاس ریت وافر مقدار میں موجود ہے لیکن وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرونی ممالک سے بھی ریت درآمد کرتا ہے۔

وزارت تجارت اور صنعت کے ترجمان عبدالسلام جواد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ریت کی برآمدات اور درآمدات دونوں ہیں۔

اُن کے بقول رواں شمسی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں علاقائی ممالک سے چھ لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی ریت اور بجری افغانستان درآمد کی گئی۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دنیا میں ریت کی سمگلنگ

ریت کو دُنیا بھر میں قیمتی چیز سمجھا جاتا ہے اور باضابطہ تجارت کے علاوہ ہر سال اربوں ڈالر مالیت کی ریت دُنیا کے مختلف حصوں میں سمگل کی جاتی ہے۔

سمگلنگ کرنے والے گروہ اس غیر قانونی تجارت میں ڈرانے دھمکانے، رشوت خوری اور تشدد کا راستہ بھی استعمال کرتے ہیں۔

ریت نے جدید دُنیا کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا، یہ کنکریٹ، اسفالٹ، شیشے اور سلیکان میں پائی جاتی ہے۔ یہ ان جگہوں پر بھی پائی جاتی ہے جن کی آپ کبھی توقع نہیں کریں گے۔

دی ورلڈ ان سینڈ کے مصنف ونس بیسر کہتے ہیں کہ ’ہم آرائشی اشیا اور خاص طور پر شراب میں بھی ریت کا استعمال کرتے ہیں۔ ہم پینٹ اور سٹریچ ایبل یا لچکدار مواد بنانے میں بھی ریت کا استعمال کرتے ہیں۔‘

ہر سال تقریباً 50 ارب ٹن ریت اور بجری استعمال ہوتی ہے۔ یہ ایک سینٹی میٹر کی موٹائی کے ساتھ پورے ارجنٹائن کو ڈھانپنے کے لیے کافی ہے۔

نکالی جانے والی ریت کا 90 فیصد تعمیراتی صنعت میں استعمال ہوتا ہے۔ چین اور انڈیا ریت کو سب سے زیادہ استعمال کرنے والے ممالک ہیں۔

لیکن دنیا کی تمام ریت تعمیراتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔ صحرا کی ریت تعمیرات کے لیے زیادہ موزوں نہیں ہوتی تاہم دریا سے حاصل کی جانے والی ریت کنکریٹ کے لیے بہترین ہوتی ہے، یہ کنکریٹ کو مضبوط اور پائیدار بناتی ہے۔

ماحولیاتی کارکن اور ممبئی میں آواز فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر سمیرا عبدالعلی کہتی ہیں کہ ’دنیا میں پانی کے بعد ریت دوسرا سب سے زیادہ نکالا جانے والا وسیلہ ہے اور اب اس تک رسائی کم ہوتی جا رہی ہے۔‘

ریت کی عالمی مارکیٹ 165 ارب ڈالر پر مشتمل ہے لیکن یہ جاننا تقریباً ناممکن ہے کہ اس میں سے کتنا حصہ غیر قانونی طور پر حاصل کیا جاتا ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ ممالک میں اجازت کے بغیر ریت نکالنا غیر قانونی ہے لیکن کوئی ادارہ ریت کی نگرانی نہیں کرتا اور اس لیے کوئی عالمی ڈیٹا موجود نہیں۔

سینٹر فار دی سٹڈی آف ٹیررازم، انٹرنیشنل کرائم اینڈ کرپشن کے ڈائریکٹر لوئیس شیلی کہتے ہیں کہ اسے کسی بھی تعمیراتی جگہ پر بھیجا جا سکتا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ کہاں سے آ رہی ہے اور کوئی یہ پوچھتا بھی نہیں۔

نکالنے میں آسانی، کنکریٹ کے لیے اس کی زیادہ مانگ اور ریت کی خرید و فروخت کی قانونی حیثیت نے غیر قانونی کان کنی کو تھوڑی مخالفت کے ساتھ جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ مقامی سطح پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ استحصال شروع ہو جاتا ہے اور اس میں ریت مافیا ملوث ہوتے ہیں۔

SOURCE : BBC