Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پاکستانی آئل ٹینکر ’کراچی‘ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے لمبا...

پاکستانی آئل ٹینکر ’کراچی‘ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے لمبا راستہ کیوں چنا؟

26
0

SOURCE :- BBC NEWS

آبنائے ہرمز

،تصویر کا ذریعہGallo Images/Orbital Horizon/Copernicus Sentinel Data 2025

57 منٹ قبل

مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بی بی سی اردو کو تصدیق کی ہے کہ ’ایک پاکستانی تیل بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور اگلے 24 گھنٹوں میں پاکستانی بندرگاہ پر پہنچ جائے گا۔‘

بی بی سی اردو کے نامہ نگار روحان احمد کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے سفارتی چینل نے ایرانی ہم منصب کے ساتھ کام کیا۔‘

’کراچی نامی ایک جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور اگلے 24 گھنٹے میں اس کے پاکستانی بندرگاہ پہنچنے کی توقع ہے۔‘

یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے تہران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ اس کے بعد سے عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی آئل ٹینکر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی خبر سب سے پہلے بین الاقوامی نشریاتی ادارے بلومبرگ نے دی تھی۔

بلومبرگ نے سوموار کی دوپہر بتایا تھا کہ ایک پاکستانی ٹینکر خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر گیا ہے اور پاکستان کی جانب گامزن ہے۔

بحری جہازوں کی نقل و حمل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’میرین ٹریفک‘ نے سوموار کے روز دعویٰ کیا تھا کہ ایفرا میکس ٹینکر کراچی، جو ابوظہبی سے خام تیل لے کر جا رہا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش کی بعد سے اپنا خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) سگنل نشر کرتے ہوئے یہاں سے گزرنے والا پہلا غیر ایرانی کارگو ہے۔

میرین ٹریفک کے مطابق 237 میٹر لمبا خام تیل کا ٹینکر 15 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بج 33 منٹ پر ایران کے خصوصی اقتصادی زون میں داخل ہوا اور شام سات بج کر 43 منٹ پر اس نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا۔

’ایران دوست ممالک کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ دینے سے متعلق طریقہ کار پر غور کر رہا ہے‘

اسحاق ڈار کی جانب سے پاکستانی جہاز کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے متعلق تصدیق سے قبل ایک ایرانی سفارتکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کے نامہ نگار روحان احمد کو بتایا تھا کہ ’ایران دوست ممالک اور ایران کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لینے والے ممالک کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ دینے سے متعلق طریقہ کار پر غور کر رہا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان ان ممالک میں شامل ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’بالکل، پاکستان ہمارے قریبی دوست ممالک میں سے ایک ہے۔‘

عباس عراقچی

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

یاد رہے کہ سوموار کے روز ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیلی رجیم کی جارحیت کے مقابلے میں حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

عباس عراقچی کے ایکس اکاؤنٹ سے اردو زبان میں جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’ان بابرکت، الٰہی اور روحانی دنوں اور گھڑیوں میں، میں حکومت اور عوامِ پاکستان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے امریکہ اور صہیونی رجیم کی جارحیت کے مقابلے میں عوام اور حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار کیا۔‘

پاکستانی ٹینکر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے لمبا راستہ کیوں چنا؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی ویریفائی، جو کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کئی جہازوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، نے بھی پاکستانی جہاز کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی تصدیق کی ہے۔

ان کے مطابق یہ بحری جہاز پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی ملکیت ہے۔

میرین ٹریفک کے ٹریکنگ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بی بی سی ویریفائی کے جوشوا چیتھم لکھتے ہیں کہ ’پاکستانی جہاز ایران کے خصوصی اقتصادی زون میں داخل ہونے کے بعد قشم اور لاراک جزائر کے درمیان سفر کرتا ہوا، ایرانی ساحل کے نزدیک سے ہوتا ہوا جنوب کی طرف بڑھا جو کہ نسبتاً لمبا اور غیر معمولی راستہ ہے۔‘

بی بی سی نے امریکی دفاعی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن میں بطور سینئر محقق کام کرنے والے امریکی بحریہ کے سابق کپتان بریڈلی مارٹن سے جہاز کے اس غیر معمولی راستہ کے انتخاب کے متعلق سوال کیا۔

بریڈلی مارٹن کا کہنا تھا کہ جہاز کی جانب سے لمبے راستے کا انتخاب اس جانب اشارہ ہو سکتا ہے کہ جہاز ’شاید ایران کی جانب سے وہاں سے گزرنے کے حوالے سے دی گئی کچھ ہدایات پر عمل کر رہا ہو۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی جہاز کی جانب سے اس راستے کا انتخاب بارودی سرنگوں کی موجودگی کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، یا یہ بھی ہو سکتا کہ اس کے لیے یہ راستہ ایران نے چنا ہو تاکہ علاقے میں موجود دیگر جہازوں میں سے اسے باآسانی پہچانا جا سکے۔‘

امریکہ میں قائم مرکز برائے بحری تجزیہ کے تحقیقی سائنسدان جوناتھن شروڈن اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’جہاز کا راستہ اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ اس علاقے میں بارودی سرنگیں موجود ہیں یا یہ کہ ایران نے اسے اس لیے چنا کیونکہ اس آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا تاثر دینا چاہتا ہے۔‘

آبنائے ہرمز

،تصویر کا ذریعہMarine Traffic

’دو انڈین بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملی‘

اتوار کے روز امریکہ میں بی بی سی کے نشریاتی پارٹنر سی بی ایس سے نیوز سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران سے کئی ممالک نے رابطہ کیا ہے جو آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایران ان ممالک سے بات چیت کے لیے تیار ہے جو آبنائے ہرمز سے جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔‘

اس کے بعد فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انڈیا کے وزیرِ خارجہ جے شنکر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کی وجہ سے انڈین بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد ملی ہے۔

جے شنکر کا کہنا تھا کہ نئی دہلی اور تہران کے مابین ہونے والے مذاکرات میں سنیچر کو دو انڈین پرچم بردار گیس ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کے کچھ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔‘

انڈین جہاز آبنائے ہرمز سے کیسے گزرے؟

انڈیا میں رجسٹرڈ مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے دو جہاز، نندا دیوی اور شیوالک، سنیچر کے روز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

بی بی سی تمل نے بحری جہازوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں جہاز انڈیا کی ریاست گجرات کی ایک بندرگاہ کے قریب پہنچ رہے ہِں۔

بحری جہازوں کی سفری معلومات کے مطابق نندا دیوی اور شیوالک پر قطر کی ایک بندرگاہ سے گیس لوڈ کی گئی تھی۔

اس کے بعد دونوں نے نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اپنا خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) سگنل بند کر دیا۔

بحری جہاز اے آئی ایس سگنل کا استعمال اپنی لوکیشن بتانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے جہازوں کی نقل و حرکت کو آن لائن ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز

،تصویر کا ذریعہMarine Traffic

اوپر دیا گیا نقشہ اس راستے کی پیش گوئی کرتا ہے جو ان جہازوں نے لیا ہو گا۔

14 مارچ کو جب گیس ٹینکرز نے اپنے اے آئی ایس سگنلز بند کیے تو اس وقت علاقے میں دو انڈین جنگی جہاز بھی دکھائی دے رہے تھے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز ایک اہم سمندری تجارتی راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل پہنچایا جاتا ہے۔

تنازع شروع ہونے کے بعد سے خطے میں کئی بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے گذشتہ ہفتے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے اپنے ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھنا چاہیے۔

یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے اندازوں کے مطابق ہر ماہ تقریباً 3000 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں۔

2025 میں اس راستے سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرا۔ یہ سالانہ توانائی کی تجارت میں تقریباً 600 بلین ڈالر کے برابر ہے۔

یہ تیل صرف ایران سے ہی نہیں آتا بلکہ دوسرے خلیجی ممالک جیسے عراق، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی آتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تخمینے کے مطابق 2022 میں آبنائے ہرمز سے بہنے والے تقریباً 82 فیصد خام تیل اور مائع ہائیڈرو کاربن ایشیائی ممالک کی طرف روانہ ہوئے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ٹینکروں کے لیے کافی گہرا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ میں تیل اور گیس کے بڑے پروڈیوسرز اور ان کے صارفین استعمال کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ممالک کو اپنے ساحلی خطوں سے 12 ناٹیکل میل (13.8 میل) تک سمندری حدود کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے۔

اس کے تنگ ترین مقام پر، آبنائے ہرمز اور اس کی بحری گزرگاہیں مکمل طور پر ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہیں۔

SOURCE : BBC