SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہAman/BBC
انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں، مزدوروں کی ایک ٹیم احتیاط سے ایک صدیوں پرانے شاہی باورچی خانے کی بحالی کر رہی ہے، جو کبھی سابق نوابی ریاست اودھ کے حکمرانوں کے لیے شاہی پکوان بنایا کرتا تھا۔
لکھنؤ کے وسیع ’چھوٹا امام باڑہ کمپلیکس‘ جو ایک مقبرہ اور اجتماع گاہ ہے کے اندر واقع یہ باورچی خانہ ایک مختلف قسم کی شاہی وراثت کی یاد دلاتی ہے۔
سنہ 1837 میں سابق اودھ حکمران محمد علی شاہ نے اسے تعمیر کیا تھا اور یہ جگہ صرف اشرافیہ ہی نہیں بلکہ عوام کو بھی کھانا فراہم کرتی تھی۔
اپنے عروج پر یہاں کے کھانے شاہی خاندان اور عام لوگوں دونوں کے لیے تیار کیے جاتے تھے، خاص طور پر مذہبی اجتماعات اور خاص مواقع پر۔
انڈیا میں اب شاہی خاندان نہیں ہیں اور اودھ، جو کبھی نیم خودمختار مسلم نوابوں کی نوابی ریاست تھی، اب صرف وسطی اتر پردیش کا ایک تاریخی خطہ ہے۔
پھر بھی کچھ روایات ان سلطنتوں سے زیادہ عرصہ زندہ رہی ہیں جنھوں نے انھیں قائم کیا تھا۔
تقریباً 200 سال بعد بھی، یہ باورچی خانہ محض ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ آج بھی استعمال میں ہے۔ یہ رمضان اور محرم کے مقدس مہینوں میں ہزاروں لوگوں کو کھانا فراہم کرتا ہے، اور یوں کمیونٹی سروس کی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
،تصویر کا ذریعہASI
مؤرخین کے مطابق 1839 میں محمد علی شاہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی جو اُس وقت ایک برطانوی تجارتی ادارہ تھی کو 36 لاکھ روپے دیے، جو اُس زمانے میں ایک بہت بڑی رقم سمجھی جاتی تھی۔ شرط یہ تھی کہ کمپنی اودھ کے نوابوں کے تعمیر کردہ یادگاروں کی دیکھ بھال کرے گی، جبکہ باورچی خانہ اُس فنڈ سے حاصل ہونے والے سود پر چلتا رہے گا۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سنہ 1947 میں انڈیا کے آزاد ہونے کے بعد یہ رقم ایک مقامی بینک میں منتقل کر دی گئی۔
آج یہ باورچی خانہ حسین آباد ٹرسٹ کے زیرِ انتظام ہے جو ریاستی حکومت کی نگرانی میں کام کرتا ہے اور وہی سود استعمال کر کے باورچی خانے کے انتظامات اور اخراجات پورے کرتا ہے۔
یہ وراثت آج بھی زندہ ہے، کیونکہ یہاں اب بھی کھانے وہی معیار کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں جو نسلوں پہلے طے کیے گئے تھے۔
لیکن کھانے سے آگے بڑھیں تو عمارت ایک مختلف کہانی سناتی ہے۔
وہ نفیس نقش و نگار اور مشہور اینٹوں کی دیواریں، جو کبھی باورچی خانے کی پہچان تھیں، اب خستہ حالی کا شکار ہیں، دیواروں سے پلستر جھڑ رہا ہے اور فرش کے کچھ حصے بیٹھنے لگے ہیں۔
اسی تشویشناک زوال نے مقامی باشندوں کے ایک گروہ کو بھارتی آثارِ قدیمہ سروے سے رجوع کرنے پر مجبور کیا، جیسا کہ سپرنٹنڈنگ ماہرِ آثارِ قدیمہ آفتاب حسین بتاتے ہیں۔
ادارے نے گذشتہ اکتوبر میں بحالی کا کام شروع کیا اور امید ہے کہ یہ منصوبہ مارچ کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔
لیکن یہ منصوبہ صرف ایک بوسیدہ ڈھانچے کو بچانے کے بارے میں نہیں ہے۔
اس بحالی کو منفرد بنانے والی بات یہ ہے کہ باورچی خانے کو بالکل اُس کی اصل حالت میں واپس لایا جا رہا ہے، چونے پر مبنی اصل گارا (lime mortar) دوبارہ تیار کیا جا رہا ہے اور دیواروں کے نفیس نقش و نگار محفوظ کیے جا رہے ہیں۔
حسین کے مطابق ’ہم بجھایا ہوا چونا بطور بنیاد استعمال کر رہے ہیں۔ اسے ایک ماہ تک بھگویا جاتا ہے اور پھربیل گری کا گودا، کالی دال، قدرتی گوند (گوند کتیرا)، گڑ اور سرخ اینٹوں کی دھول کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔‘
مزدوروں نے احتیاط سے یہ مقامی گارا دوبارہ تیار کیا ہے، جو مغلیہ دور میں عام استعمال ہوتا تھا لیکن جدید تعمیرات میں اب زیادہ تر سیمنٹ نے اس کی جگہ لے لی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’لکھوری اینٹیں‘ — باریک، پکی ہوئی مٹی کی اینٹیں جو اودھی طرزِ تعمیر کی خاص پہچان ہیں بھی استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ ڈھانچے کی اصل شکل برقرار رہے۔
،تصویر کا ذریعہAman/BBC
،تصویر کا ذریعہAman/BBC
اودھ کی شاہی نسل کے افراد کے لیے یہ بحالی ذاتی طور پر نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
یاسر عباس، جو سابق حکمرانوں کے وارث ہیں کہتے ہیں کہ یہ کام نہ صرف ایک تاریخی ڈھانچے کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس ’صدیوں پرانی روایت اور ثقافت کو قائم رکھنے‘ کے لیے بھی ہے جس کی نمائندگی یہ باورچی خانہ کرتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا ’ہم پر فرض ہے کہ اس بادشاہ کی وصیت پوری کریں جس نے کھانے کی خدمت کی یہ روایت شروع کی تھی۔‘
مؤرخ روشن تقی کہتے ہیں کہ بادشاہ نے یہ یقینی بنانے کا عزم کیا تھا کہ باورچی خانہ کبھی بند نہ ہو۔
کھانے پکانے کے بڑے پیمانے کو سنبھالنے کے لیے، انھوں نے چھوٹے امام باڑے کے دونوں طرف دو یکساں باورچی خانے تعمیر کیے ایک ڈیزائن جو اودھی طرزِ تعمیر میں موجود ہم آہنگی کی جھلک بھی دکھاتا ہے۔
یہ ’جڑواں باورچی خانوں‘ کا تصور آج بھی کارآمد ثابت ہو رہا ہے۔
تقی کے مطابق ’اس رمضان میں، جب ایک باورچی خانے میں بحالی کا کام جاری تھا، دوسرے میں کھانا پکانا جاری رہا۔‘
کئی مقامی لوگوں کے لیے یہ باورچی خانے صرف کھانا پکانے کی جگہ سے بڑھ کر ہیں۔
80 سالہ سید حیدر رضا اس جگہ کو اپنے دل کے قریب رکھتے ہیں، کیونکہ وہ دہائیوں سے یہاں آتے رہے ہیں۔
انھوں نے کہا ’میں بچپن سے چھوٹے امام باڑے آتا رہا ہوں تاکہ محرم کے دوران تبرک (شاہی نذرانہ) اور رمضان میں سحری اور افطار حاصل کر سکوں۔‘
’بچپن میں ہم بڑے بڑے برتن دیکھتے تھے جن میں کھانا پک رہا ہوتا تھا۔ سب لوگ پیٹ بھر کر کھاتے تھے اور کھانا کبھی کم نہیں پڑتا تھا۔‘
،تصویر کا ذریعہAman/BBC
ہر رمضان میں، یہ باورچی خانہ غریبوں، بیواؤں اور اُن لوگوں کو کھانا فراہم کرتا ہے جو اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔
روزانہ تقریباً 700 کوپن تقسیم کیے جاتے ہیں اور پکا ہوا کھانا 16 قریبی مساجد میں بھیجا جاتا ہے تاکہ ضرورت مندوں اور نمازیوں دونوں کو کھلایا جا سکے۔
کھانے سادہ مگر پیٹ بھرنے والے ہوتے ہیں، جن میں گوشت کے سالن، روٹیاں، کباب، پھل اور مٹھائیاں شامل ہیں، جو لکھنؤ کی بھرپور کھانوں کی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔
محرم کے دوران، مینو بدل جاتا ہے۔ پہلے نو دنوں میں کھانے سادہ اور زیادہ تر سبزی پر مبنی ہوتے ہیں میٹھے پراٹھے، دالیں اور آلو کا سالن بنیادی پکوانوں میں شامل ہیں۔ باقی 40 دن کے سوگ کے دوران، مزیدار گوشت کے سالن اور کباب شامل کیے جاتے ہیں۔
باورچی خانے کے انچارج مرتضیٰ حسین راجو کے مطابق، مینو حتیٰ کہ کھانے کی مقدار بھی سابق حکمران کی وصیت میں درج ہے۔
مورخ روشن تقی کہتے ہیں ’اس میں نہ صرف پکوانوں کی اقسام درج ہیں بلکہ ان کا وزن اور معیار بھی۔ یہ معیار آج بھی سختی سے اپنائے جاتے ہیں۔‘
لکھنؤ کے رہائشیوں کے لیے یہ تسلسل ایک مانوس سکون کی طرح ہے۔ بحالی صرف ایک عمارت کی مرمت کے بارے میں نہیں بلکہ ایک ایسی روایت کو قائم رکھنے کے بارے میں ہے جو نسلوں سے جاری ہے۔
رضا، جو دہائیوں سے اس باورچی خانے میں آتے رہے ہیں، اسے سب سے بہتر انداز میں بیان کرتے ہیں ’اس جگہ کی روح آج بھی وہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کھانا اب بھی محمد علی شاہ کی طرف سے بھیجا جا رہا ہو۔‘
SOURCE : BBC



