SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپ ڈیٹ کی گئی ایک گھنٹہ قبل
مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ کا دعویٰ ہے کہ ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
نیب کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بدھ کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے خلاف ریڈ نوٹس جاری ہونے کی اطلاع دی ہے۔
چیئرمین نیب کے مطابق ریڈ نوٹس ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں کرپشن کے مقدمات کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔
ریڈ نوٹس دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کی جانے والی ایک درخواست ہوتی ہے، جس کا مقصد کسی شخص کو تلاش کرنا، اس کی حوالگی یا قانونی کارروائی تک عارضی طور پر اس کو گرفتار کرنا ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ انٹرپول کے مطابق ریڈ نوٹس کوئی ’بین الاقوامی وارنٹِ گرفتاری‘ نہیں۔
بی بی سی نے اس حوالے سے انٹرپول کے پریس آفس سے رابطہ کیا ہے تاہم اب تک انٹرپول نے نیب چیئرمین کے دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
دریں اثنا صحافیوں سے بات چیت کے دوران نیب کے ڈی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کے خلاف 900 ارب روپے سے زیادہ کی مبینہ کرپشن پر تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیئرمین ملک ریاض اس وقت متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق ان کی ریئل اسٹیٹ کمپنی دبئی ساؤتھ میں رہائشی اور تجارتی تعمیرات پر مشتمل ایک بڑا پروجیکٹ شروع کر چکی ہے جو کہ المکتوم ایئرپورٹ کے قریب واقع ہے۔
گذشتہ برس جنوری میں بھی نیب نے دعویٰ کیا تھا کہ ’حکومتِ پاکستان قانونی چینلز کے ذریعے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات سے رابطے کر رہی ہے۔‘
ریڈ نوٹس کیا ہے؟
انٹرپول کی ویب سائٹ کے مطابق ریڈ نوٹس دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کی جانے والی درخواست ہوتی ہے، جس کے ذریعے کسی فرد کو ڈھونڈنے، اس کی حوالگی یا دیگر قانونی کارروائی کے لیے عارضی گرفتاری کا کہا جاتا ہے۔
انٹرپول کے مطابق ریڈ نوٹس کا مطلب بین الاقوامی وارنٹِ گرفتاری نہیں ہوتا۔
انٹرپول کی ویب سائٹ کے مطابق ریڈ نوٹس ان افراد کے لیے جاری کیے جاتے ہیں جو اس کے رکن ممالک یا کسی بین الاقوامی ٹربیونل کو مطلوب ہوں۔ تاہم ان افراد کی گرفتاری کے لیے رُکن ممالک اپنے قوانین کا استعمال کرتے ہیں۔
انٹرپول کے مطابق ریڈ نوٹس رکن ملک کی درخواست پر شائع ہوتے ہیں، جس کا مقصد عوام کی مدد سے کسی فرد کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔
تاحال انٹرپول کی طرف سے جاری کردہ ریڈ نوٹسز کی فہرست میں ملک ریاض یا ان کے بیٹے کا نام موجود نہیں ہے۔
ملک ریاض کی پاکستان واپسی مشکل کیوں؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نیب کے سابق پراسیکیوٹرعمران شفیق کہتے ہیں کہ ریڈ نوٹس انٹرپول کے ذریعے جاری کیا جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے ملک میں کسی مقدمے میں مطلوب ہے اور ایک اشتہاری ہے۔
تاہم انھوں نے مزید بتایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انٹرپول ریڈ نوٹس پر عمل کر کے اس شخص کو گرفتار کرلے گا، بلکہ وہ ’رُکن ملک کو بتاتا ہے کہ یہ بندہ مطلوب ہے اور آپ کی حدود میں ہے۔‘
’وہ ملک بھی مطلوب شخص کو اپنی عدالت میں پیش کرتا ہے، جہاں اسے پورے قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ وہ شخص کہہ سکتا ہے کہ اس کے خلاف کیا کارروائی ہو رہی ہے اور کیوں ہو رہی ہے۔‘
پھر اس ملک کی عدالت ہی فیصلہ کرتی ہے کہ مطلوب شخص کی حوالگی کرنی ہے یا نہیں۔
ماضی میں نیب کے ساتھ بطور ڈپٹی پراسیکیوٹر منسلک رہنے والے والے وکیل منصف جان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ریڈ نوٹس جاری ہونے کے بعد جس ملک میں ملزم ہے وہاں کے ادارے ہی اسے گرفتار کرتے ہیں، جس کے لیے اس حکومت کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ اس سارے عمل میں حکومتوں کے آپسی تعلقات بہت معنی رکھتے ہیں اور ’آج کل پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کے درمیان تعلقات زیادہ اچھے نظر نہیں آتے، اس لیے میرا نہیں خیال کے ریڈ نوٹس پر عملدرآمد ہوگا۔‘
ملک ریاض کو درپیش قانونی مشکلات
ملک ریاض اور ان کی کمپنی بحریہ ٹاؤن گذشتہ کئی برسوں سے قانونی مشکلات کا شکار ہے اور انھیں القادر ٹرسٹ کیس میں مفرور بھی قرار دیا جا چکا ہے۔
ان کے خلاف دیگر الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں کراچی، راولپنڈی اور نیو مری میں سرکاری اور نجی اراضی پر قبضے کے الزامات بھی شامل ہیں۔
اگست 2025 میں بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز کی نیلامی بھی کی گئی تھی۔ ملک ریاض ماضی میں اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔
گذشتہ برس انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک بیان جاری کیا تھا، جسے پڑھ کر تاثر ملتا ہے کہ وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھیں کسی مقدمے میں گواہی دینے کو کہا جا رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
القادر ٹرسٹ کیس میں انھیں مفرور قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ وہی مقدمہ ہے جس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو 14 برس اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سات سال قید کی سزا سُنائی گئی۔
قومی احتساب بیورو کا الزام ہے کہ یہ القادر یونیورسٹی کی زمین عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ملک ریاض کی جانب سے عطیہ نہیں کی گئی تھی بلکہ یہ ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک مبینہ خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ جو 190 ملین پاؤنڈز کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس سوسائٹی کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔
ملک ریاض نے اپنے طویل بیان کی پہلی سطر میں لکھا تھا کہ ’میرا کل بھی یہ فیصلہ تھا، آج بھی یہ فیصلہ ہے کہ چاہے جتنا مرضی ظلم کر لو، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا۔‘
ان کے اس بیان میں کہیں ایک دھمکی بھی چھپی تھی کہ’میں ضبط کر رہا ہوں لیکن دل میں ایک طوفان لیے بیٹھا ہوں، اگر یہ بند ٹوٹ گیا تو پھر سب کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔ یہ مت بھولنا کہ پچھلے 30، 35 سال کے سب راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں۔‘
SOURCE : BBC



