Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’میرے لیے تو ہر دن ویلینٹائن ڈے ہے‘: گجرات کے فواد جن...

’میرے لیے تو ہر دن ویلینٹائن ڈے ہے‘: گجرات کے فواد جن کی زندگی ضوفشاں نے مکمل کر دی

10
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

’محبت کا رشتہ ابتدا ہی سے ایک دوسرے کا خیال رکھنے سے شروع ہوتا ہے۔ شروع میں لوگ ہمیں کہتے تھے کہ یہ دونوں کیسے اپنی زندگی آگے چلائیں گے۔ مگر جب ہماری شادی ہوئی اور ہم نے ایک دوسرے کو سنبھالا، ایک دوسرے کو سپورٹ کیا تو آج وہی لوگ سب کو ہماری مثال دیتے ہیں۔‘

چہرے پر مسکراہٹ سجائے ضوفشاں نے جب اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھ کر یہ الفاظ ادا کیے تو وہ انتہائی پُراعتماد اور اپنی زندگی سے مطمئن دکھائی دیں۔

اس بات چیت سے پہلے دونوں نے ’ویلینٹائنز ڈے‘ منانے کے لیے کیک کاٹا تھا اور ضوفشاں اپنے شوہر کی جانب سے ملنے والا پھولوں کا گلدستہ میز پر سجا چکی تھیں۔

ضوفشاں جب تک ہمارے سامنے بیٹھی تھیں، تب تک یہ محسوس کرنا بھی مشکل تھا کہ ان میں جسمانی طور پر کوئی کمی ہے۔

دوسری جانب اُن کے شوہر فواد بھی اپنی اہلیہ ضوفشاں سے پیار کا اظہار کرنے سے کبھی نہیں چوکتے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم دونوں کی شادی تو گھر والوں کی پسند سے ہوئی تھی، مگر پھر ہمارا رشتہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط تر ہوتا گیا۔ ہم میاں بیوی سے زیادہ بہترین دوست بنتے گئے۔ ہم نے طے کیا تھا کہ ہم نے ایک دوسرے کی عزت کرنی ہے اور ایک دوسرے کی بات کو اہمیت دینی ہے۔‘

یہ کہانی ایک ایسے جوڑے کی ہے جو اپنی زندگی کو محبت، اعتماد اور وفاداری کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔

14 فروری کو یعنی ’ویلنٹائنز ڈے‘ کو محبت کے اظہار سے منسوب کیا جاتا ہے اوراسی لیے آج ہم آپ کو ملوا رہے ہیں پاکستان کے شہر گجرات کے رہائشی ایک ایسے جوڑے، فواد اور ضوفشاں سے جو محبت کے جذبے سے سرشار ہیں۔

پیدائشی طور پر ہڈی اور جوڑوں کی غلط ساخت کے باعث ضوفشاں کی کمر میں خم ہے جسے طبی زبان میں مسکلوسکیلیٹل ڈس آرڈر کہا جاتا ہے۔

جبکہ اُن کے شوہر فواد بھی پیدائشی طور پر ہاتھ اور پیروں کے ٹیڑھے پن کا شکار ہونے کے باعث اب وہیل چیئر باؤنڈ ہیں۔ تاہم دونوں تعلیم یافتہ ہیں۔

شادی سے پہلے ’فرسٹ ڈیٹ‘

تصویر

فواد اور ضوفشاں کی شادی ایک مکمل ’ارینج میرج‘ تھی۔

فواد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں جس ادارے میں کام کرتا ہوں وہاں ایک میڈم تھیں جنھوں نے ہمارے خاندانوں سے رابطہ کیا اور ہماری شادی کی بات چیت آگے بڑھائی۔ والدین نے دیکھ بھال کر ایک دوسرے کو پسند کر لیا اور پھر ضو(فشاں) اپنے والد کے کہنے پر مجھ سے ملنے آئیں اور یوں ہم نے والدین کی پسند کو قبول کیا۔‘

ضوفشاں اس پہلی ملاقات کو یاد کر کے آج بھی ہنستی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے والد نے کہا کہ میں ایک بار لڑکے سے مل لوں تاکہ اگر مناسب لگے تو ہم رشتہ پکا کر دیں۔ میں ان سے ملنے گئی تو انھوں نے مجھے ایک جوس کا گلاس پلایا۔ میں آج بھی ان کو طعنہ دیتی ہوں کہ پہلی ملاقات میں مجھے جوس پر ٹرخا دیا، کم از کم بریانی تو کھلاتے۔۔۔‘

ہر دن ’ویلنٹائن ڈے‘

تصویر
مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ضوفشاں اور ان کی دو بہنیں اسی جسمانی عارضے میں مبتلا ہیں جبکہ اُن کی ایک بہن اور دو بھائیوں کو یہ عارضہ لاحق نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جسمانی کمزروی کے باوجود ان کے والد نے انھیں تعلیم دلوانے میں کوتاہی نہیں برتی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’عام طور پر ایسے بچوں کی شادی کی ہی نہیں جاتی جو کسی ظاہری جسمانی کمزوری کا شکار ہوں۔ لیکن لوگوں کی یہ سوچ بہت غلط ہے کیونکہ میرے خیال میں جتنا ہم جیسوں کا رشتہ مضبوط ہو جاتا ہے شاید عام لوگوں میں نہ ہو پاتا ہو۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’پھر ہماری شادی گھر والوں کی پسند سے ہوئی اور اب تو لگتا ہے کہ یہ ’لو سٹوری‘ کی بہترین مثال ہے۔ الحمدللہ، شکر اللہ کی ذات کا کہ ہمارا ہر دن ’ویلنٹائن ڈے‘ ہے۔‘

فواد نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ بچپن سے عام بچوں کے ساتھ سکولوں اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور ان کے مطابق اسی تجربے نے ان کی زندگی میں مزید اعتماد پیدا کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میاں بیوی کا ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا اور ایک دوسرے کی خوشی کا خیال رکھنا یہی اصل پیار ہے۔ ضوفشاں کے ساتھ نے میری زندگی مکمل کر دی ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’جب ہماری شادی ہوئی تو لوگ یہی باتیں کرتے تھے کہ یہ دونوں جسمانی طور پر کمزور ہیں، ان کے بچے شاید نارمل نہ ہوں لیکن ہمارے بچے نارمل اور مکمل صحتمند ہیں اور اب وہ سارے لوگ جو پہلے باتیں بناتے تھے اب وہ ہماری مثالیں دیتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’شادی کے بعد دونوں نے طے کیا کہ وہ ایک دوسرے کی عزت کریں گے اور اگر کبھی بحث ہو تو غلطی کرنے والا خود مان لے گا۔‘

صحتمند بچوں کی پیدائش

ضوفشاں کےمطابق شادی کے بعد جب وہ پہلی بار حاملہ ہوئیں تو ان کے دل میں شکر گزاری اور حیرت کے جذبات بیک وقت ابھرے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پہلے پہل تو خود مجھے یقین نہ آیا کہ میں بھی ماں بن سکتی ہوں۔ پھر اپنے رب کی مہربانی پر بہت شکر ادا کیا۔ لوگ ایسے ہی بات کرتے رہے کہ ہمارے بچے صحتمند نہیں ہوں گے کیونکہ ہم جسمانی طور پر کمزور ہیں۔‘

تاہم ضوفشاں کے مطابق اس تمام عرصے میں اُن کے شوہر نے ان کا ہر طرح سے خیال رکھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس دوران فواد نے میری بہت مدد کی۔ میرے کھانے پینے کا چارٹ بنایا اور اس پر عمل کروایا۔ وہ میرے لنچ میں پھل بھیجتے تھے اور یہ یقینی بناتے کہ میری کسی روٹین چیک اپ کی ڈیٹ مس نہ ہو۔‘

فواد کے مطابق بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری ضوفشاں کی ہے جبکہ لاڈ اٹھانے کا کام وہ خود سرانجام دیتے ہیں۔

اظہار محبت میں تحفے، دل کے اندر ’زیڈ اور ایف‘

ضوفشاں سے محبت کا اظہار کرنا ہو تو فواد ان کو سرپرائز دیتے ہیں، خاص طور پر اہم مواقعوں پر جن میں اُن کی سالگرہ اور ویلینٹائنز ڈے بھی شامل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں وہ تمام کام کروں جو ایک عام بندہ کرتا ہے اور اپنی بیگم کو اپنے پیار کا احساس دلاتا ہے تو جب بھی کوئی ایسا خاص موقع آتا ہے تو میں خاموشی سے تیاری کرتا ہوں، گفٹس لیتا ہوں، اور جب میرا سرپرائز ان تک پہنچتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتی ہیں۔‘

ضوفشاں کے مطابق ان کے شوہر بہت خیال رکھنے والے انسان ہیں۔

’فواد خاص مواقع پر اکثر سرپرائز دیتے ہیں، بہت سی تیاریاں کرتے ہیں اور اس خاص دن کا تحفہ سرپرائز کی صورت میں ٹھیک رات 12 بجے میرے ہاتھ میں ہوتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ویسے تو ہر تحفہ ہی منفرد ہوتا ہے لیکن ان کی طرف سے مجھے ایک گولڈ کا پینڈینٹ ملا تھا جس میں ایک دل کے اندر زیڈ اور ایف لکھا ہے۔ وہ میرے لیے سب سے قیمتی تحفہ ہے اور وہ ہر وقت وہ میرے دل کے قریب ہوتا ہے۔‘

تصویر

مختصر ناراضی اور میسیج پر بات چیت

کہا جاتا ہے کہ میاں بیوی میں بحث اور جھگڑے پیار کا انداز ہی ہوتے ہیں تاہم اس جوڑے کا کہنا ہے کہ ان کی ناراضی کبھی لمبی نہیں چلتی۔

فواد کے مطابق ’ہم ایک دن سے زیادہ کبھی ناراض نہیں رہے۔ اگر ضوفشاں روٹھ جائیں تو میں ساتھ بیٹھ کر میسج کرتا ہوں کہ بات نہ بھی ہو تو رابطہ رہے اور یوں تھوڑی دیر میں صلح ہو جاتی ہےاور ہاں بعد میں جس کی غلطی ہوتی ہے وہ خود ہی مان بھی لیتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’میرے سسرال میں مشہور ہو گیا ہے کہ میں اپنی بیگم کے ساتھ تعاون کرتا ہوں، اُن کی بات سنتا ہوں اوریہ بھی دراصل پیار کی اور محبت کی ایک نشانی ہے۔‘

دوسری جانب ضوفشاں کا کہنا ہے کہ شادی کا فیصلہ اُن دونوں کے لیے بہترین فیصلہ رہا اور آج وہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

’میری کزنز کہتی ہیں کہ جس طرح کے بھائی فواد ہیں ہمارے شوہر اتنا خیال رکھنے والے کیوں نہیں ہیں۔‘

جب کہ ان کے شوہر فواد کہتے ہیں کہ ’ ہم دونوں نے آپس میں شادی کے بعد ایک اعتبار کا رشتہ بنایا جو دن بہ دن مضبوط ہوتا گیا اور ہم میاں بیوی سے زیادہ دوست بنتے گئے۔‘

ضوفشاں اور فواد سارا ہفتے صبح جاب اور شام میں گھر اور بچوں کی ذمہ داری کے بعد ویک اینڈ بہت خاص پلان کر کے گزارتے ہیں۔

ضوفشاں بتاتی ہیں کہ ’ہم ایک دوسرے کا ایسا سہارا ہیں کہ میں ان کے کام کرنے میں بہت خوشی محسوس کرتی ہوں۔ ویک اینڈ پر ہم سب مل کر بہت اہتمام سے ناشتہ کرتے ہیں۔ وقت نکال کر گھومنے پھرنے بھی جاتے ہیں اور ایک کوالٹی ٹائم ساتھ گزارتے ہیں۔‘

شادی کے بعد آپ میں سب سے نمایاں تبدیلی کی بات کریں تو وہ کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں وہ بولیں کہ ’مجھ میں شروع سے اعتماد کی بہت کمی رہی، لیکن شادی کے بعد فواد نے مجھے ہر کام کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی، میری ہچکچاہٹ کو دیکھ کر کہتے کہ تمھارے لیے کچھ مشکل نہیں، تم یہ سب باآسانی کر سکتی ہو۔‘

آخر میں انھوں نے کہا کہ ’میں سب کو پیغام دوں گی کہ اگر کسی کا سپیشل چائلڈ ہے یا کسی جسمانی کمی کا شکار ہے تو وہ اس کو وقت دیں اس کو اچھا انسان بنائیں اور اس کو ایجوکیشن دیں۔ تعلیم ہر کسی کے لیے ضروری ہے۔‘

SOURCE : BBC