Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں مانچسٹر ایئرپورٹ میں پولیس اہلکاروں پر تشدد کے ملزم پاکستانی نژاد محمد...

مانچسٹر ایئرپورٹ میں پولیس اہلکاروں پر تشدد کے ملزم پاکستانی نژاد محمد فاہر عماز: ’مجھے مرنے کا ڈر تھا‘

9
0

SOURCE :- BBC NEWS

عماز اور عماد

،تصویر کا ذریعہPA Media

31 جولائی 2025

اپ ڈیٹ کی گئی 3 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 8 منٹ

مانچسٹر ایئرپورٹ پر آتشیں اسلحہ رکھنے والے ایک پولیس افسر پر حملے کے الزام کا سامنا کرنے والے پاکستانی نژاد طالبعلم محمد فاہر عماز نے عدالتی سماعت کے دوران جیوری کو بتایا ہے کہ جب ان کا سر زمین کی طرف دھکیلا گیا تو ان کو لگا کہ وہ مرنے والے ہیں۔

21 سالہ محمد فاہر عماز اور 26 سالہ محمد عماد پر الزام ہے کہ ان نے جولائی 2024 میں ٹرمینل ٹو کے کار پارک پے سٹیشن کے علاقے میں پولیس پر ‘غیر قانونی طور پر انتہائی درجے کا تشدد’ کیا۔

26 سالہ پولیس کانسٹیبل زکری مارسڈن اور ان کی ساتھی اہلکار لیڈیا وارڈ اور ایلی کُک نے عماز کو اس رپورٹ کے بعد گرفتار کرنے کے لیے روکا کہ ان نے ارائیولز ہال میں ایک صارف کو سر مارا تھا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ عماز نے مزاحمت کی اور پھر ان کے بھائی نے مداخلت کی جس کے بعد دونوں نے پی سی مارسڈن پر حملہ کیا۔ روچڈیل کے رہائشی عماز اور عماد مارپیٹ کے الزام سے انکار کرتے ہیں، جس میں پی سی مارسڈن زخمی ہوئے تھے۔

جولائی 2025 کے دوران مانچسٹر ایئرپورٹ پر پیش آنے والے پرتشدد واقعے کے دوران دو خاتون پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کے الزام میں فاہر عماز کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔

20 سالہ محمد فاہر عماز پر 23 جولائی 2024 کو گریٹر مانچسٹر پولیس کی دو اہلکاروں پر حملے کا الزام تھا، جس کی ویڈیو موبائل فون کے ذریعے بنائی گئی اور سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر وائرل ہوئی۔

اپنی گواہی کے دوران عماز نے کیا بتایا؟

لیورپول کراؤن کورٹ میں گواہی دیتے ہوئے عماز نے کہا کہ جب ان کو بازو سے پکڑا گیا تو ان کے جسم میں تناؤ آ گیا اور جب ان نے مڑ کر دیکھا تو ان کو معلوم ہوا کہ سامنے ایک پولیس افسر ہے۔

ان کے وکیل عمران خان نے پوچھا کہ ‘کیا اُس وقت آپ کو معلوم تھا کہ پولیس افسر وہاں کیوں تھا؟’

عماز نے کہا کہ ‘نہیں، مجھے سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا کیونکہ جیسے ہی میں نے پیچھے دیکھا تو مجھے سیدھا مشین کی طرف دھکیل دیا گیا۔’

ان نے کہا کہ پی سی مارسڈن کا ہاتھ ان کے سر اور گردن پر تھا۔

‘میں صرف یہ سوچ رہا تھا کہ یہ آدمی اتنی زیادہ طاقت کیوں استعمال کر رہا ہے؟ جس طرح وہ میری گردن پکڑ رہا تھا، مجھے لگا کہ اگر اس نے مجھے زمین پر گرا دیا تو وہ مجھے اس حد تک مارے گا کہ میں سانس نہیں لے سکوں گا اور مر جاؤں گا۔’

خان نے پوچھا کہ ‘کیا اس نے آپ کو بتایا کہ وہ وہاں کیوں تھا؟’

محمد عماز کو تین ہفتے تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد مجرم قرار دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہPA Media

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس پر عماز نے کہا کہ ‘نہیں، مجھ سے کچھ بھی نہیں کہا گیا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔’

خان نے پوچھا کہ ‘آپ کو یہ خوف کیوں تھا کہ کوئی پولیس افسر آپ کا سر زمین پر رکھ رہا ہے؟’

عماز نے کہا کہ ‘ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ پولیس افسران اپنے اختیارات کا غلط استعمال کریں اور اس کے نتیجے میں لوگ مر جائیں۔’

خان نے پوچھا کہ ‘کیا آپ کو لگا کہ یہ آپ کے ساتھ بھی ہونے والا ہے؟’

تو ان نے جواب دیا کہ ‘ہاں، مجھے واقعی لگا کہ اُس دن میں بھی ان لوگوں میں شامل ہو جاؤں گا۔’

ان نے مزید کہا کہ ‘مجھے اپنے بھائی کی آواز سنائی دی جو چیخ رہا تھا، آہستہ، آہستہ، آہستہ۔ وہ صرف ان سے پُرسکون ہونے کو کہہ رہا تھا۔’

‘میں نے مڑ کر بس یہی دیکھا کہ دو پولیس افسران اسے چہرے پر مار رہے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ بلا وجہ اس کے منہ پر گھونسے مار رہے ہیں۔’

عدالت کو بتایا گیا کہ پچھلے سال ایک اور جیوری نے عماز کو دونوں خواتین پولیس افسران پر حملے کا مجرم قرار دیا تھا۔

پی سی وارڈ کی ناک ٹوٹ گئی تھی جب ایک گھونسے سے وہ گر پڑیں جبکہ ایک اور ضرب لگنے سے پی سی کُک سامان والی ٹرالی سے ٹکرا کر گر گئیں۔

ضرب لگنے سے ’سانس رُک گئی‘ اور ’پیر سے سر دبایا گیا‘

عماز نے وکیل عمران خان کو بتایا کہ ان نے اپنے دفاع میں ردعمل دیا اور ان کو یہ علم نہیں تھا کہ اس پر حملہ کرنے والی افسر خواتین ہیں، اور یہ کہ ‘سب کچھ اتنی تیزی سے ہو رہا تھا کہ میں معمولی تفصیلات سمجھ نہیں سکا۔’

ان نے کہا کہ ان نے پی سی وارڈ کو اس وقت مارا جب ان کو اپنی گردن پر ایک ضرب محسوس ہوئی جس سے ان کی ‘سانس رک گئی۔’

ان نے کہا کہ ‘میں دائیں طرف مڑا اور ساتھ ہی ہاتھ چل گیا۔ مجھے نہیں معلوم وہ کہاں لگا۔ مجھے لگا کہ مجھے اس شخص سے خود کو بچانا ہے۔’

عماز نے کہا کہ ان نے ایک اور افسر پی سی کُک کو ہاتھ اوپر کیے اپنی طرف آتے دیکھا اور ان کو اس وقت تک مارتا رہا جب تک وہ ‘کوئی خطرہ نہ رہیں۔’

ان نے کہا کہ اس کے بعد ان نے پی سی مارسڈن کے سر کے پہلو پر گھونسا مارا کیونکہ ان کو غلطی سے لگا کہ وہ ان کے بھائی پر بندوق تان رہے ہیں، اور ان کو اُس وقت یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ دراصل افسر کا ٹیزر تھا۔

چند لمحوں بعد پی سی کُک نے عماز پر ٹیزر چلایا اور وہ زمین پر گر گئے۔

عماز نے زمین پر لیٹے ہوئے سر اٹھانے اور حرکت کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں پی سی مارسڈن نے ان کے چہرے پر لات ماری اور اپنا پاؤں ان کے سر کے اوپری حصے کی طرف ایسے لائے جیسے وہ پیر سے دبا رہے ہوں۔

ملزم نے کہا کہ ‘میں نے ایک بوٹ کو سیدھا اپنے چہرے کی طرف آتے دیکھا۔ جیسے ہی وہ لگا، سب کچھ بند ہو گیا اور میں چند لمحوں میں بے ہوش ہو گیا۔’

خان نے پوچھا کہ ‘اگر یہ کہا جائے کہ آپ اٹھنے کی کوشش کر رہے تھے تو آپ کیا کہیں گے؟’

عماز نے کہا کہ ‘یہ بالکل غلط ہے۔ میں نے بہت چیخ و پکار سنی اور اس طرف مڑا جہاں سے آواز آ رہی تھی۔’

خان نے پوچھا کہ ‘اس پیر سے مارنے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا وہ وار آپ کے سر پر لگا؟’

عماز نے کہا کہ ‘مجھے یاد ہے کہ اس نے مجھے نیچے کی طرف زمین میں دھکیل دیا۔ میرا خیال ہے کہ اسی سے میں دوبارہ ہوش میں آیا۔’

مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

ویڈیو اور اس پر شدید ردعمل

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ دو پولیس اہلکار ایک نوجوان کو ٹیزر سے نشانہ بناتے ہیں اور اس کے زمین پر گرنے کے بعد اسے لاتیں مارتے ہیں اور گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک دوسری ویڈیو میں ایک شخص پولیس والوں سے کہہ رہا ہے ’ہم نے کچھ نہیں کیا، ہم عام شہری ہیں۔‘

سرخ ٹی شرٹ میں ملبوس ایک باریش نوجوان چار سے پانچ پولیس اہلکاروں کے آگے بار بار یہ الفاظ دہرا رہا ہے جبکہ ان کے ساتھ خواتین اور بچے سامان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

دوسرے زاویے سے بنائی گئی ایک اور ویڈیو میں پولیس اہلکار ٹیزر سے نشانہ بنانے کے بعد نوجوان کو مارتے ہوئے گردن سے دبوچ کر گراتے ہیں اور لاتیں مارتے نظر آتے ہیں۔ اس دوران ایک خاتون کے چیـخنے کی آواز سنائی دیتی ہے کہ ’اس نے کچھ نہیں کیا۔‘

ان کے بالکل پیچھے دو پولیس اہلکار ایک تیسرے نوجوان کو بھی اسی طرح گرا کر مارتے ہوئے گرفتار کر رہے ہیں اور وہ خاتون چیخ رہی ہیں کہ ’اس نے کچھ نہیں کیا، آپ اس طرح گرفتار نہیں کر سکتے۔ بتائیں اس نے کیا کیا ہے؟‘

اس کے ساتھ ہی دو پولیس اہلکار آتے ہیں اور سرخ شرٹ میں ملبوس شخص کے ساتھ ہاتھا پائی کرتے ان کا فون چھینتے ہیں اور ان کی جیبوں سے مزید کئی فون نکالتے ہیں، اس موقع پر وہ شخص پولیس کو بتاتے سنائی دیتے ہیں کہ ’ہم ابھی ابھی جہاز سے اترے ہیں اور یہ فون میرے بھائی کے ہیں۔‘

واقعے کے بعد لیڈز سے تعلق رکھنے والے ایک عینی شاہد عامر منہاس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جب وہ ایئر پورٹ پر ’آمد‘ والے حصے میں آئے تو انھوں نے دیکھا کہ ’پولیس اہلکاروں نے تقریباً 20 سالہ نوجوان کے پاس آ کر اسے کہا کہ وہ ایک مطلوب شخص ہے۔ اس کے بعد انھیں نے اسے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا۔‘

عامر کے مطابق اس موقع پر ایک اور نوجوان نے پولیس کے ساتھ بحث شروع کی جس کے ساتھ ہی لڑائی ہو گئی۔

اس دوان پولیس اہلکاروں نے جس نوجوان کو دیوار کے ساتھ دبوچ رکھا تھا اس نے انھیں مکے مارنے شروع کر دیے جس پر پولیس نے اسے ٹیزر گن سے نشانہ بنایا اور وہ فرش پر گرا، تبھی پولیس اہلکاروں نے اسے لاتیں مارنا شروع کر دیں۔

استغاثہ نے کہا کہ عماز نے کار پارکنگ میں ٹکٹ مشین کے قریب پیچھے سے پکڑے جانے پر مزاحمت کی۔ جس کے بعد طویل اور پرتشدد جھڑپ شروع ہو گئی۔

عدالت میں دکھائی گئی ویڈیو میں عماز کو پی سی لیڈیا وارڈ کو چہرے پر ایک زوردار مکا مار کر زمین پر گراتے دیکھا گیا جس کے نتیجے میں ان کی ناک ٹوٹ گئی جبکہ پی سی ایلی کک کو بھی زمین پر گرایا گیا۔

عماز پر الزام تھا کہ انھوں نے پی سی مارسڈن کو پیچھے سے مکا مارا اور پھر پکڑ لیا، جس کے بعد پی سی کک نے ٹیزر ڈیوائس کا استعمال کیا۔

ویڈیو میں دیکھا گیا کہ پی سی مارسڈن نے زمین پر پڑے عماز پر لات ماری اور ان پر پاؤں رکھا۔

راچڈیل کے رہائشی دونوں بھائیوں نے عدالت میں کہا کہ انھوں نے قانونی طور پر اپنا دفاع کیا یا جو کیا وہ ایک دوسرے کے دفاع میں کیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

SOURCE : BBC