Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں مانسہرہ میں ’مزاح بانٹنے والا‘ شہری پولیس اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک:...

مانسہرہ میں ’مزاح بانٹنے والا‘ شہری پولیس اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک: مشتعل ہجوم نے بالاکوٹ تھانہ نذرِ آتش کر دیا

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

Muhammad Sohail

،تصویر کا ذریعہMuhammad Sohail

دو مارچ، پیر کی شام خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے قصبے بالاکوٹ میں افطاری کے وقت یہ اطلاع ملی کہ سوشل میڈیا پر مشہور محمد جاوید مہانڈری کو ایک پولیس اہلکار نے گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔ یہ خبر جیسے علاقے کے لوگوں پر بجلی بن کر گری۔

اطلاع ملتے ہی عوام بڑی تعداد میں تھانہ بالاکوٹ اور مقامی ہسپتال کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ کچھ ہی دیر میں ہجوم مشتعل ہوا اور پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی گئی۔

محمد جاوید مہانڈری کے بھتیجے اور مقدمے کے مدعی محمد سہیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں جب محمد جاوید کی زخمی ہونے کی اطلاع پا کر ہسپتال پہنچے تو دس سیکنڈ کے اندر اندر ہی انھوں نے دم توڑ دیا تھا۔ ہسپتال میں عوام کا جم غفیر تھا۔ لوگ مشتعل تھے۔ پولیس موقع پر نہیں تھی۔‘

ان کے مطابق ’لوگ چاہتے تھے کہ لاش کا جلدی سے پوسٹ مارٹم ہو مگر اس میں تاخیر ہورہی تھی۔ لوگ چاہتے تھے کہ بتایا جائے کہ قاتل پولیس اہلکار کو گرفتار کیا گیا کہ نہیں مگر ان کو ایسی کوئی اطلاع فراہم نہیں کی جارہی تھی جس پر عوام کا غم وغصہ بڑھ گیا اور پھر افسوسناک واقعہ پیش آیا۔‘

ایس پی بالاکوٹ صابر خان کا کہنا تھا کہ ’محمد جاوید مہانڈری علاقے کے مجذوب اور ہردلعزیز شخصیت تھی۔‘ ان کے مطابق ’وہ میرے بھی دوست تھے۔ ہمیں بھی ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر انتہائی دکھ اور افسوس ہے۔ محمد جاوید مہانڈری کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس میں پولیس کی کوئی بھی عفلت نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے واقعہ کی اطلاع چھ بجکر سات منٹ پر ملی اور میں بیس منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گیا جبکہ مجھ سے پہلے تھانہ بالاکوٹ کے ایس ایچ او نے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔ مگر سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط اطلاعات نے افسوسناک صورتحال پیدا کی۔‘

صابر خان کا کہنا تھا کہ ملزم پولیس کانسٹیبل ضرور ہے مگر جس پستول سے قتل کیا گیا وہ بھی سرکاری نہیں بلکہ ذاتی پستول ہے۔ انھوں نے کہا کہ جہاں پر قتل کے ملزم کے خلاف کاروائی ہوگی وہاں پر غلط اطلاعات پھیلانے، اشتعال پیدا کرنے اور گھیراؤ جلاؤ پر بھی کارروائی کی جائے گی۔

محمد جاوید مہانڈری کے قتل کا مقدمہ ان کے بھتیجے کی درخواست پر درج کیا گیا جبکہ عدالت نے ملزم کو دو روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا ہے۔

درج مقدمے میں کیا تفصیلات ہیں؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

محمد جاوید مہانڈری کے قتل کا مقدمہ ان کے بھتیجے محمد سہیل کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔

درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’مجھے افطاری کے وقت یہ اطلاع ملی کہ میرے چچا محمد جاوید کو کسی شخص نے گولی مار کرزخمی کردیا ہے۔ اس اطلاع پر میں بالاکوٹ ہسپتال پہنچا تو موقع پر موجود محمد حفیظ اور خائستہ خان نے بتایا کہ میرے چچا کنٹری کلب ہوٹل کے صحن میں افطاری کے لیے موجود تھے کہ شام چھ بجے پولیس کانسٹیبل نے پستول نکال کر لوڈ کرتے ہوئے ارادہ قتل کر کے پیٹ کے دائیں جانب فائر کیا۔’

درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ان کو علاج کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے۔

درج مقدمہ میں کہا گیا کہ محمد جاوید مہانڈری کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔ ملزم نے طیش میں آکر گولی ماری ہے۔ اس واقعے کے عینی شاہدین بھی موجود ہیں۔

محمد سہیل کا کہنا تھا کہ عینی شاہدین نے محمد جاوید مہانڈری کو افطاری کے لیے تھانے بلایا۔ مجھے بتایا کہ ملزم پولیس اہلکار بھی افطاری پر مدعو تھا۔ جب پولیس اہلکار موقع پر پہنچا تو اس موقع پر محمد جاوید مہانڈری نے تھوڑا مزاح کے انداز میں استفسار کیا کہ کدھر بلا لیا ہے۔ جس پر ملزم قریب آیا اور اس نے پستول نکال کر ان کے ساتھ لگا کر فائر کردیا تھا۔‘

اس واقعہ کی ویڈیو بھی وائرل ہوچکی ہے۔ موقع پر افطاری کی ویڈیو بن رہی تھی۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب ملزم پولیس اہلکار موقع پر پہنچتا ہے تو محمد جاوید اس کو دیکھ کر کچھ کہتے ہیں جو کہ ویڈیو میں تو سمجھ نہیں آرہا مگر محمد سہیل نے بتایا کہ یہ ایک بے ضرر مزاح والی بات تھی۔

Muhammad Javaid Mohandriwala

،تصویر کا ذریعہMohammad Sohail

محمد سہیل کے مطابق اکثر اوقات ایسے ہوتا ہے کہ جب ہنسی مذاق میں محمد جاوید کو کوئی بندہ برا لگ جائے تو وہ پھر جب بھی ملتا ہے تو اس پر وہ غصہ ضرور کرتے ہیں۔ یہ بات سب جانتے ہیں اور سب کو پتا ہے اس لیے کوئی خفا نہیں ہوتا بلکہ ہمارے بالاکوٹ کے لوگ تو ان کو راضی کرتے ہیں کہ وہ غصہ نہ کریں۔’

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب ملزم پولیس اہلکار آتا ہے تو اس وقت ہنسی مذاق ہو رہا ہوتا ہے اور محمد جاوید کے قریب آکر اس کے سینے پر دائیں جانب پستول رکھ کر فائر کردیتا ہے۔ محمد جاوید نیچے گر جاتے ہیں اور بظاہر ایسے لگ رہا ہوتا ہے کہ موقع پر بھی کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ کیا ہوتا ہے۔

ویڈیو میں محمد جاوید کی آواز آتی ہے کہ قران کا واسطہ ہے وہ نیچے گرے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر آواز آتی ہے کہ اس کو گولی لگ گئی ہے۔ اللہ کرے کہ یہ بچ جائے۔

محمد سہیل کا کہنا تھا کہ ان کو چاروں نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد ملزم پولیس اہلکار فرار ہوجاتا ہے۔ ‘میری اطلاع یہ ہے کہ وہ فوری طور پر اس چوکی میں جاتا ہے جہاں پر وہ فرائض ادا کررہا ہوتا ہے۔ وہاں پہنچ کر وہ خود کو گرفتاری کے لیے پیش کردیتا ہے۔’

صابر خان کا دعویٰ ہے کہ ملزم پولیس اہلکار کو متعلقہ ایس ایچ او واردات کے فوراً بعد گرفتار کرلیتے ہیں۔

محمد سہیل کا کہنا تھا کہ موقع کے چاروں گواہ ابھی تک سکتے کی حالت میں ہیں۔ ان چاروں ہی نے محمد جاوید کو ہسپتال پہنچایا تھا اور جب یہ بات پھیل گئی اور ہسپتال میں عوام کی بڑی تعداد پہنچ گئی تو اس وقت لوگ مشتعل ہوئے تو یہ چاروں بھی موقع سے فرار ہو گئے تھے۔ ‘مجھے نہیں پتا کہ یہ چاروں نماز جنازہ میں شریک ہوئے کہ نہیں البتہ مجھے یہ پیغام ملا ہے کہ ان چاروں نے کہا ہے کہ جو واقعہ ہوا ہے اس سے متعلق وہ گواہی دیں گے۔’

’رمضان آرہا ہے مجھے تنگ نہیں کرنا‘

Mohammad Sohail

،تصویر کا ذریعہMohammad Sohail

محمد جاوید مہانڈری نے رمضان سے قبل سوشل میڈیا کے لیے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا تھا۔ جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’میں اپنے لوگوں سے بہت محبت کرتا ہوں اور لوگ بھی مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ مگر اب رمضان آرہا ہے تو مجھے تنگ نہیں کرنا، میں بھی کسی کو تنگ نہیں کروں گا۔‘

اپنے پیغام میں محمد جاوید مہانڈری کا کہنا تھا کہ ’رمضان میں میں بھی نماز پڑھوں گا، روزے رکھوں گا، تروایح پڑھوں گا۔ آپ سب لوگوں نے بھی عبادت کرنی ہے اور ہم اب چاند رات کو ملیں گے۔‘

محمد سہیل کہتے ہیں کہ محمد جاوید مہانڈری نے شادی نہیں کی تھی۔ سوگواران میں ان کے دو بھائی ہیں۔ ان کے مطابق وہ طبع تفریح والے تھے۔ لوگ ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے تھے اور یہ بھی لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کرتے۔ جب ہنسی مذاق کے دوران کوئی بات محمد جاوید کو بُری لگتی تو وہ غصہ بھی کرتے تھے مگر ان کے غصے کا بھی کوئی بُرا نہیں مناتا تھا کہ سب جانتے تھے کہ یہ خاص شخصیت کے مالک ہیں اور سب ان سے محبت کرتے تھے۔’

محمد سہیل کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے لوگ ان کو اپنے پاس بلاتے۔ وہ ان لوگوں پر بھی غصہ کرتے تھے۔ وہ بھی ان کی با ت کا برا نہیں مناتے تھے۔

محمد سہیل کا کہنا تھا کہ محمد جاوید کا اپنا کوئی بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں تھا مگر لوگ اپنے سوشل میڈیا کے لیے ان کو بلاتے اور ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور اس کو سوشل میڈیا پر چلاتے تھے جو کہ بہت زیادہ دیکھا جاتا تھا۔ اس دوران کئی ویڈیوز ایسی ہیں جس میں وہ غصہ کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعہ والے دن بھی ویڈیو بن رہی تھی۔ موقع کے چار گواہ اور محمد جاوید افطاری پر پہلے پہنچ گئے تھے جب کہ ملزم پولیس اہلکار بعد میں پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد جاوید علاقے میں خوشیاں بانٹتے تھے۔ یہاں تک کے انتخابات کے دنوں میں مزاح میں ان کو امیدوار نامزد کیا گیا اور انھوں نے باقاعدہ اپنا منشور بھی پیش کیا اور تقاریر بھی کیں۔

محمد جاوید مہانڈری کے نماز جنازہ کو بالاکوٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا نماز جنازہ قرار دیا جارہا ہے۔ ان کو تین مارچ کو شام کے وقت سپرد خاک کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کا کہنا ہے کہ محمد جاوید مہانڈری کا قتل اتنہائی ظالمانہ فعل ہے۔ وہ تو اللہ والا تھے۔ وہ تو ہر ایک میں ہنسے بانٹتے تھے۔ اس واقعہ پر قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ ملزم کو عدالت سے سزا دلوائی جائے گی۔‘

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا کہ ‘میرے پیارے دوست محمد جاوید مہانڈری کے قتل نے بہت دکھ دیا ہے۔ ضلع مانسہرہ کے ہر چھوٹے بڑے سے ان کے بہت اچھے تعلقات اور گپ شپ تھی۔ یہ بہت بڑا ظلم ہوا ہے۔ پولیس افسران سے بات ہوئی ہے۔ ملزم پولیس کی حراست میں ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ان کے قاتل کو عدالت سے قرار واقعی سزا ملے گی۔

SOURCE : BBC