Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں فضائی حملے، ٹینک اور چوکیاں تباہ کرنے کے دعوے: پاکستان اور افغان...

فضائی حملے، ٹینک اور چوکیاں تباہ کرنے کے دعوے: پاکستان اور افغان طالبان کی ’جھڑپوں‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

10
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

27 فروری 2026، 08:09 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی ایک گھنٹہ قبل

مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ’بلا اشتعال‘ حملوں کے بعد پاکستان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا جس میں افغان طالبان رجیم کے 133 اہلکار ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں افغان طالبان کے دو کور ہیڈ کوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز، دو ایمو نیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈ کوارٹر، دو سیکٹر ہیڈ کوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینک، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دی گئی ہیں۔

بی بی سی آزادانہ ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہX/@TararAttaullah

پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپیں جمعرات کی رات کو شروع ہوئی تھیں اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

جمعرات کی رات کو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ افغان طالبان نے اسے چند روز قبل پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بمباری کا جواب قرار دیا تھا۔

طالبان کے سرکاری عہدیداروں نے جمعرات کی شام کے حملوں کو پکتیکا، خوست اور ننگرہار میں اس ہفتے کے شروع میں پاکستانی فضائی حملوں کا ’بدلہ‘ قرار دیا، جن میں طالبان حکام کے مطابق کم از کم 18 افراد مارے گئے تھے۔

طالبان کے فوجی ترجمان مولوی وحید اللہ محمدی نے کہا کہ ’جوابی کارروائی‘ جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً آٹھ بجے شروع کی گئی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ افغان طالبان نے پاکستان کی متعدد پوسٹس اپنے قبضے میں لے لی ہیں اور ان کی کارروائیوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

افغان وزارتِ دفاع کے بیان میں کیا ہے؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان میں ’جوابی کارروائیوں‘ سے متعلق افغان وزارت دفاع کے بیان میں ڈیورنڈ لائن کے اطراف پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

افغان وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ پکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار، کنڑ اور نورستان کے قریب سرحد پر پاکستانی فوج کے ساتھ چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں 55 پاکستانی فوجی مارے گئے جن میں سے کچھ کی لاشوں کو افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔

افغان وزارتِ دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں پاکستانی فوج کے دو اڈے اور 19 چوکیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ فوجی ٹرکوں سمیت بھاری فوجی سازو سامان بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔

بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ننگرہار کے پناہ گزین کیمپ پر پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 33 افراد زخمی ہوئے۔

پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے طالبان کی جانب سے پاکستانی فوج کی چوکیوں پر قبضے کے دعوے کو بھی مسترد کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل کے رہائشیوں نے جمعے کو شہر بھر میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنیں۔

پاکستان کے سرحدی علاقوں میں لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں اور انھیں محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کو کہا گیا ہے۔

پاکستان نے اس سے قبل تصدیق کی تھی جمعرات کو رات گئے افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی فوج کی چوکیوں پر حملے کے دوران دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے تصدیق کی تھی کہ افغان طالبان کے ’بلا اشتعال‘ حملوں کے جواب میں کارروائی کے دوران تین پاکستانی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس وقت سرحد کی صورتحال کیا ہے؟

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے مختلف شہروں میں کارروائیوں کے بعد افغان طالبان کے ترجمان نے سرحد پر پاکستانی فوج کے خلاف دوبارہ کارروائیاں شروع کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم کچھ دیر بعد اُنھوں نے ایکس پر اپنا یہ بیان حذف کر دیا۔

پاکستانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان حکومت نے دوبارہ کسی مہم جوئی کی کوشش کی تو اس کا دوبارہ بھرپور جواب دیا جائے گا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ ’افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت ہے۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افواج وطن کے دفاع کے لیے الرٹ ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’افغان طالبان نے حملہ کر کے بھیانک غلطی کی، انھیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔‘

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور اب کھلی جنگ ہوگی۔‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انھوں نے افغان طالبان پر ’ساری دنیا کے دہشتگردوں کو افغانستان میں اکٹھا‘ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کابل کی عبوری حکومت نے ’دہشتگردی کو ایکسپورٹ‘ کیا ہے۔

ادھر افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کابل، قندھار اور پکتیکا میں پاکستانی حملوں کی مذمت کی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’افغان اپنے مکمل اتحاد سے اپنی سرزمین کا دفاع کریں گے اور جرات کے ساتھ جارحیت کا جواب دیں گے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہX/@KarzaiH

کشیدگی کی ابتدا کیسے ہوئی؟

سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان میں عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے انٹیلیجنس بیس فضائی حملوں میں تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا، جس میں اسی سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا تھا۔

افغان طالبان نے اس حملے کو سرحدی حدود کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

افغان طالبان کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

افغان طالبان کی وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا تھا اور ان حملوں کو افغانستان کی علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا تھا۔

دونوں ممالک کے مابین اکتوبر میں بھی سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں، جس میں فریقین نے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کیے تھے۔ تاہم دوست ممالک کی ثالثی میں دوحہ اور پھر استنبول میں مذاکرات کے بعد دونوں فریق جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے۔

لیکن حالیہ عرصے میں پاکستان میں تواتر کے ساتھ ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاکستانی حکام نے ایک بار پھر ان واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کے دعوے کیے تھے۔

SOURCE : BBC