Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں عمران خان کے بیٹے پر پاکستانی وزرا کی تنقید: کیا قاسم خان...

عمران خان کے بیٹے پر پاکستانی وزرا کی تنقید: کیا قاسم خان نے ’جی ایس پی پلس‘ درجہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا؟

10
0

SOURCE :- BBC NEWS

عمران خان کے بیٹے قاسم خان

،تصویر کا ذریعہx.com/Kasim_Khan_1999 Screen Grab

7 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سامنے اپنے والد کی قید پر تشویش کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور الزام لگایا جا رہا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے لیے وہ جی ایس پی پلس درجہ ختم کرانے کا مطالبہ کیا ہے جو پاکستان کو تجارت کے لیے خصوصی رعایات دیتا ہے۔

عمران خان کے بیٹے پر تنقید کرنے والوں میں سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت کے رہنما اور وزیر بھی شامل ہیں۔ خود قاسم خان وضاحت کر چکے ہیں کہ انھوں نے جی ایس پی پلس درجہ ختم کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

قاسم خان پر تنقید کرنے والوں کا کیا مؤقف ہے اور جی ایس پی پلس درجہ ہے کیا؟ یہ سب بتانے سے پہلے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں کہ قاسم خان نے درحقیقت کہا کیا۔

قاسم خان نے کہا کیا؟

اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قاسم خان کا کہنا تھا کہ انھیں پاکستان میں عدم برداشت اور ظلم و جبر کے بڑھتے ہوئے رحجان پر ’شدید تشویش‘ ہے۔

قاسم خان کے مطابق ’ہم ایک منظم مہم دیکھ رہے ہیں جس کا مقصد آبادی کے مخصوص طبقات کو انسانی حقوق سے محروم کرنا اور انھیں خاموش کرنا ہے۔‘

قاسم خان نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ ان کے والد عمران خان تقریباً ایک ہزار دن سے جیل میں ہیں۔

’تین سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا، میں انھیں دیکھ تک نہیں پایا ہوں۔‘

قاسم خان کے مطابق ان کے والد ’ایک ایسی حکومت کا مرکزی ہدف ہیں جو اختلاف رائے کو ایک سیاسی یا نظریاتی اختلاف نہیں سمجھتی، بلکہ ایک سنگین جرم سمجھ کر اسے کچل دینا چاہتی ہے۔‘

عمران خان، بیٹے، قاسم، سلیمان

،تصویر کا ذریعہX/IMRAN KHAN

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

قاسم خان نے بتایا کہ ان کے والد عمران خان کو ایک ایسی کوٹھڑی میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جو در اصل سزائے موت کے قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھی۔

قاسم خان کے مطابق ان کے والد پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ظلم کیا جا رہا ہے اور ’اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جن حالات میں عمران خان کو قید میں رکھا گیا ہے وہ اس قدر غیر انسانی ہیں کہ تشدد کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔‘

قاسم خان کا کہنا تھا کہ عدم برداشت کا سلسلہ صرف ان کے والد تک محدود نہیں۔

انھوں نے بتایا: ’پاکستان نے اپنے توہینِ مذہب کے قوانین کو اس حد تک سخت کردیا ہے کہ اب ان کے تحت عمر قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ شہریوں کو دہشت گرد قرار دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے نفرت کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔‘

قاسم خان نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر ’اس ظلم کو فوراً ختم کرائے اور میرے والد سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرایا جائے۔‘

ایک منٹ سات سیکنڈ دورانیے کی قاسم خان کی یہ تقریر اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے اور خود انھوں نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی ہے۔

اس میں کہیں بھی پاکستان کے جی ایس پی پلس درجے کی بات تک نہیں ہوئی، تاہم اسی تقریر کے کلپ سوشل میڈیا پر شیئر کر کے یہ الزام لگایا جا رہا ہے قاسم خان نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے جی ایس پی پلس درجہ ختم کرانے کی بات کی۔

اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ جی ایس پی پلس ہے کیا۔

جی ایس پی پلس درجہ کیا ہے؟

جی ایس پی جنرلائزڈ سکیم آف پریفیرینسز کا مخفف ہے۔ یہ بنیادی طور پر یورپی یونین کی طرف سے کسی ملک کو دی جانے والی ایسی سہولت ہے جس کے تحت یورپی ممالک ترقی پذیر ممالک کی مصنوعات کو درآمدی ڈیوٹی پر رعایت دیتے ہیں۔

اس سکیم کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں بنیادی جی ایس پی، جی ایس پی پلس، اور ایوری تھنگ بٹ آرمز (اسلحے کے علاوہ سب کچھ) شامل ہیں۔ پاکستان کو سنہ 2014 میں جی ایس پی پلس کا درجہ دیا گیا تھا جس کے تحت کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کی ایسی دو تہائی مصنوعات جن پر درآمدی ڈیوٹی لگنی ہوتی ہے، اُن پر سے ڈیوٹی کو کم کر کے صفر فیصد پر لایا جاتا ہے۔

کراچی میں ٹیکسٹائل فیکٹری کا منظر

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

یہ درجہ ملنے کے بعد پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات میں اضافہ ہوا۔

تاہم یہ تجارتی درجہ حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے اس ملک کو چند شرائط پر عمل کرنا پڑتا ہے۔

اگر کسی ملک کو یہ درجہ دیا گیا ہے تو اسے انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات کے تحفظ اور طرزِ حکمرانی میں بہتری سمیت 27 بین الاقوامی معاہدوں کا نفاذ کرنا ہوتا ہے۔

قاسم خان پر تنقید

مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے قاسم خان کے بیان کی ویڈیو شیئر کر کے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس درجہ ختم کرنے کی بات کی۔

ان میں ایک اکاؤنٹ عمران خان کی بہن نورین خانم کے نام سے بھی ہے۔

noreen_khanum@ کے ہینڈل والا یہ اکاؤنٹ اگرچہ ویریفائیڈ ہے، یعنی ایکس پر تصدیق کے بعد اسے ’بلیو ٹِک‘ ملا ہوا ہے لیکن در حقیقت یہ اکاؤنٹ عمران خان کی بہن نورین خانم کے استعمال میں نہیں۔

اسی اکاؤنٹ سے ماضی میں یہ پوسٹ بھی کی جا چکی ہے کہ عمران خان کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے۔ جس پر تحریک انصاف نے اس اکاؤنٹ کو جعلی قرار دیا تھا۔

اس اکاؤنٹ نے ایکس پر قاسم خان کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: ’عمران خان کے بیٹے قاسم خان یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کا جی ایس پی درجہ ختم کرانے سے متعلق ایک کانفرنس میں شریک ہوئے۔ وہاں انھوں نے ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ کا حوالہ دیا۔ خاص طور پر اپنے والد کی قید کے حوالے سے۔‘

خواجہ آصف کا ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہx.com/KhawajaMAsif

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ایکس اکاؤنٹ سے اسی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا گیا: ’اگر (عمران خان کے) بیٹے اپنے والد کے بارے میں واقعی اتنے فکرمند ہیں تو یورپی یونین سے پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ ختم کرانے کی مہم چلانے کے بجائے انھیں چاہیے کہ اپنی محبت اور وابستگی کا عملی ثبوت دیں اور پاکستان آ کر اُن سے ملاقات کریں۔‘

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ’پی ٹی آئی والے پھر بھی باز نہیں آئے۔ انھوں نے سنہ 2024 میں کال دی کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ واپس لیا جائے۔‘

وزیر اطلاعات کے مطابق ’یہ جی ایس پی پلس سٹیٹس واپس کروا کر ایکسپورٹرز کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔‘

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے ایک اور رہنما محسن رانجھا نے ایکس پر لکھا: ’قاسم خان! آپ کا بین الاقوامی فورمز پر جا کر پاکستان کے خلاف بات کرنا نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔‘

محسن رانجھا کا مزید کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے جی ایس پی پلس درجے کو نشانہ بنا کر آپ نے واضح کر دیا ہے کہ ذاتی مفادات کی خاطر آپ اپنے ہی ملک کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے تیار ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر سیاسی تجزیے کرنے اور ’دی پاکستان ایکسپیریئنس‘ کے نام سے پوڈکاسٹ و انٹرویوز کرنے والے شہزاد غیاث نے لکھا: ’کس قدر قابل نفرت بات ہے کہ گولڈ سمتھ خاندان (قاسم خان کی والدہ کا خاندان) کی دولت سے فائدہ اٹھانے والا شخص لاکھوں غریب پاکستانیوں کی زندگیاں تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

جبکہ دیگر صارفین کی جانب سے بھی اسی موضوع کی تنقیدی پوسٹس کی گئیں۔

قاسم خان، زلفی بخاری

،تصویر کا ذریعہX/@sayedzbukhari

جی ایس پی پلس درجے کی بات آئی کہاں سے؟

تاہم جہاں بہت سے صارفین یہ الزام لگاتے ہوئے تنقید کر رہے ہیں کہ قاسم خان نے پاکستان کے لیے جی ایس پی درجہ ختم کرنے کی بات کی وہیں ایسے صارفین بھی ہیں جو وضاحت کر رہے ہیں کہ قاسم خان نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔

اگرچہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سامنے تقریر میں قاسم خان نے جی ایس پی کا نام تک نہیں لیا تاہم اسی مرکزی ایونٹ کی سائیڈ لائنز پر ایک اور ایونٹ بھی ہو رہا تھا جس کا عنوان تھا ’پاکستان کا جی ایس پی درجہ، انسانی حقوق کی شرائط پر عمل درآمد اور احتساب۔‘

یہاں بھی قاسم خان اور تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے خطاب کیا اور یہ وہ ایونٹ تھا جہاں پاکستان کے جی ایس پی پلس درجے پر بات کی گئی۔

قاسم خان اور زلفی بخاری کی اس گفتگو کی ویڈیو عمران خان کے نام سے منسوب ویری فائیڈ یو ٹیوب چینل پر شیئر کی گئی ہے۔

ویڈیو کے تھمب نیل پر لکھا ہے ’عمران خان کے بیٹے ۔۔۔ میدان میں آ گئے! دنیا کے سب سے بڑے فورم یو این میں گونج۔‘

عمران خان کے یو ٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی گئی اس ویڈیو میں قاسم خان اپنے والد کی قید، پاکستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور الیکشن میں مبینہ دھاندلی پر بات کر رہے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ گفتگو ہو کس جگہ رہی ہے۔

اسی ویڈیو میں 24 منٹ اور 35 سیکنڈ پر قاسم خان کہتے ہیں ’جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان نے وعدہ کیا تھا کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کرے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے والد کی بلا جواز گرفتاری، ان کی قید تنہائی، طبی سہولیات کی عدم فراہمی، اہل خانہ سے ملاقاتوں پر پابندی اور عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل ان معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔‘

یہ وہ گفتگو ہے جہاں جی ایس پی پلس کا ذکر ہے تاہم واضح رہے کہ اس میں بھی قاسم خان کی جانب سے جی ایس پی پلس درجہ ختم کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

عمران خان کے یو ٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی گئی اسی ویڈیو میں آگے چل کر زلفی بخاری بھی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان کی پارٹی کے رہنما اور ان کے دور میں وزیر رہنے والے زلفی بخاری بھی پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام لگاتے ہیں۔

انھوں نے بھی جی ایس پی پلس درجے کی بات کی، لیکن یہ بات جی ایس پی پلس درجہ ختم کرنے کی نہیں بلکہ اسے برقرار رکھنے کی تھی۔

ویڈیو میں 35 منٹ اور 29 سیکنڈ پر زلفی بخاری کہتے ہیں: ’پاکستان کے پاس جی ایس پی پلس کا درجہ برقرار رہنا چاہیے۔‘

آگے چل کر ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان سے یہ درجہ واپس لیا جاتا ہے تو یہ قدم ’تباہ کن ہو گا، نہ صرف محنت کرنے والے (اس درجے کے) مستحق 25 کروڑ عوام کے لیے، بلکہ مجموعی طور پر پورے ملک کے لیے۔‘

زلفی بخاری نے بھی جی ایس پی پلس درجہ ختم کرنے کی بات نہیں کی، البتہ احتساب اور نگرانی کے ایسے نظام کی بات ضرور کی جو ’یقینی بنائے کہ پاکستان انسانی اور سیاسی حقوق کی پاسداری کر رہا ہے۔‘

تحریک انصاف کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے جاری پوسٹ میں کہا گیا: ’عمران خان کو اہل خانہ، ڈاکٹروں، وکلا اور سیاسی جماعت کے اراکین سے ملاقات کی اجازت نہ دے کر (پاکستان فوج کے سربراہ) عاصم منیر ہر ہفتے پاکستان کے قوانین اور عدالت کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہیں۔

’اس کے باوجود قاسم خان اور زلفی بخاری نے اقوام متحدہ کی میٹنگ میں پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کا درجہ برقرار رکھنے کی مکمل حمایت کی۔‘

زلفی بخاری کے مطابق جس ایونٹ میں انھوں نے اور قاسم خان نے جی ایس پی سٹیٹس کی بات کی وہ اقوام متحدہ کا ہی ایک سائیڈ ایونٹ تھا۔

SOURCE : BBC