SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہHeidi Spöhel/RDB/ullstein bild via Getty Images
’اج ویکھ لیا قنون تے اودھا احترام (آج دیکھ لیا قانون اور اس کا احترام)‘۔
اندرون ِ لاہور کی چھتوں پر جمع لوگوں میں سے بڑی عمر کے ایک شخص نے جوں ہی بلند آوازمیں یہ نعرہ لگایا، تھوک کپڑے کی ایک بڑی مارکیٹ کا افتتاح کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھتے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد اعظم خان باہر نکل کر کھڑے ہوئے اور مجمعے کو سلیوٹ کیا۔
یہ 14 مئی 1953 تھا، لگ بھگ 70 روزہ مارشل لا کا آخری دن۔
سکندر خان بلوچ نے ماہ نامہ ’حکایت‘ کے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ مسجد وزیرخان کے اردگرد دکانیں سیاسی وجوہات کی بنا پر خالی کرا لی گئی تھیں۔ فوج نے متبادل دکانیں دو ہفتوں کے اندر تعمیر کر دیں اور کپڑے کی یہ بڑی مارکیٹ ’اعظم کلاتھ مارکیٹ‘ کہلائی۔
چھ مارچ 1953 کو پچھلے کئی روز سے پنجاب اوربالخصوص اس کے دارالحکومت لاہور میں، میں جاری فسادات کے بعد لاہور کا انتظام سنبھالنے والے فوجی دستے امنِ عامہ ہی معمول پر نہیں لائے تھے بلکہ انھوں نے شہر کی صورت بھی بدل ڈالی تھی۔
حسن عسکری رضوی اپنی کتاب ’ملٹری، سٹیٹ اینڈ سوسائٹی ان پاکستان‘ میں لکھتے ہیں کہ ’یہ فسادات کئی قدامت پسند اور روایتی اسلامی جماعتوں کی قیادت میں ہوئے، جن کا مقصد احمدیوں کو غیر مسلم قرار دلوانا اور اُس وقت کے وزیرِ خارجہ چودھری ظفراللہ خان کو عہدے سے ہٹوانا تھا، جو احمدی تھے۔‘
اپنی کتاب ’قوم، ملک، سلطنت’ میں علی عثمان قاسمی لکھتے ہیں کہ جب 1952–53 میں پنجاب میں ایک شدید احمدی مخالف تحریک پھوٹی، تو حکومت اور اس مہم کی قیادت کرنے والے مذہبی گروپ شاعرمحمد اقبال کو نظریاتی بنیاد کے طور پر استعمال کرنے لگے۔‘
’حکومت نے ایک تحریروں کا مجموعہ شائع کیا جس کا عنوان تھا ’اقبال اور ملا‘ تاکہ اقبال کی مذہبی قدامت پسند طاقتوں سے نفرت کو اجاگر کیا جا سکے۔ مذہبی و سیاسی گروپوں نے بھی اقبال کی احمدیوں کے خلاف تحریریں دوبارہ شائع کیں تاکہ اپنے مطالبات کی توجیہہ پیش کی جا سکے، یعنی احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر سیاسی اور مذہبی طور پر خارج کرنا۔‘

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تب کے واقعات پر لکھی جانے والی رضی الدین رضی اور شاکرحسین شاکرکی کتاب ’پاکستان 58 سال‘ سے پتا چلتا ہے کہ گو کہ اس تحریک کی بنت کی ابتدا ایک ڈیڑھ سال پہلے ہی ہو گئی تھی لیکن 1953 کے مہینے فروری کے آخرسے مارچ کی ابتدا تک مظاہرین پرامن سے پرتشدد ہو چکے تھے۔
’پولیس پر حملے ہو رہے تھے، گرفتاریاں بھی ہو رہی تھیں اور پولیس کی درخواست پر تین مارچ کو فوجی دستے لاہور پہنچ گئے تھے اور مختلف علاقوں میں گشت شروع کر دیا تھا۔‘
اس دوران ’سید فردوس شاہ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، مظاہرین کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ پانچ مارچ کو قتل، لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے۔ احمدیوں اور حکومت سے متعلق دکانیں اور املاک جلا دی گئیں۔ آٹھ اومنی بسوں اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اوردو ڈاک خانے بھی جلا دیے گئے۔ شہر میں کام کاج تقریباً رک گیا۔‘
’چھ مارچ کو جلوسوں کا سلسلہ مسجد وزیر خان کی طرف بڑھنے لگا۔ تمام سرکاری دفاتر میں کام معطل ہو گیا۔ کوتوالی کو مشتعل ہجوم نے گھیر لیا اور چھتوں سے آنسو گیس پھینکی گئی۔ لاہور سے مغل پورہ جانے والی ریلوے لائن مزدوروں کے ہجوم کی وجہ سے بند ہو گئی۔ ریلوے اسٹیشن پر ہجوم جمع ہو گیا۔ ٹریفک سگنل جلا دیے گئے۔ قتل اور املاک جلانے کے واقعات بھی ہوئے۔‘

علی عثمان قاسمی اپنی کتاب ’احمدیز اینڈ دی پالیٹکس آف ایکسکلوژن‘ میں لکھتے ہیں کہ ’فسادات کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اگر حکومتِ پنجاب نے احمدیوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو بھڑکانے والوں کے خلاف سخت اور جارحانہ پالیسی اختیار کی ہوتی تو مذہبی تحریکیں اس قدر طاقت ور نہ ہو پاتیں۔‘
لیکن سید سمیع احمد، ’ہسٹری آف پاکستان اینڈ دی رول آف دی آرمی‘ میں بتاتے ہیں کہ ’ممتاز دولتانہ، جو اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے، نے ہنگاموں کو ہوا دی اور تیز کیا تاکہ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت پر دباؤ ڈال سکیں۔‘
قاسمی کے مطابق انتظامی اقدامات کی ناکافی نوعیت، چاہے وہ سیاسی مصلحت کے تحت جان بوجھ کر ہو یا غفلت اور نااہلی کے باعث اور مرکزی حکومت کی طرف سے علما کے مطالبات کو باضابطہ طور پر مسترد کرنے میں ہچکچاہٹ کے سبب، فروری 1953 کے اختتام تک حکومت کو بغاوت سے نمٹنے کے لیے پرتشدد اور جابرانہ طریقے اختیار کرنا پڑے۔
’اگرچہ وسطی پنجاب کے کئی اضلاع میں بدامنی پھیلی ہوئی تھی، لیکن لاہور میں یہ سب سے زیادہ شدید تھی۔ صوبائی بیوروکریسی اس تحریک کو ملنے والی بڑے پیمانے کی حمایت کا اندازہ نہ لگا سکی، اور اس غلط اندازے کے باعث وہ عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرنے اور اسے مؤثر طور پر نافذ کرنے میں ناکام رہی، جس سے مظاہرین کو اکٹھا ہونے کا موقع ملا۔‘
’جب تک حکام کو صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوا، عوامی احتجاج کو محدود کرنے کے قانونی اور ’غیر جابرانہ‘ طریقے بڑی حد تک غیر مؤثر ہو چکے تھے۔‘
چھ مارچ کو سہ پہر 1:30 بجے مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔

جوزف مناٹر اپنی کتاب ’مارشل لا ان انڈیا، پاکستان اینڈ سیلون‘ میں لکھتے ہیں کہ چونکہ ’پاکستان ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں دو ڈومینین ریاستوں میں سے ایک کے طور پر وجود میں آیا تھا، اس لیے اسے انڈیا کی طرح وہ تمام قوانین بھی ورثے میں ملے جو تقسیم کے وقت نافذ العمل تھے۔ انہی قوانین میں مارشل لا بھی شامل تھا۔‘
سنہ 1942 میں سندھ میں کامن لا کے اصول کے تحت مارشل لا نافذ کیا گیا تھا، اور بعد میں سندھ پاکستان کا ایک صوبہ بن گیا۔ چنانچہ جب 1953 میں مارشل لا نافذ کرنے کی ضرورت پیش آئی تو انھوں نے اسی تازہ نظیر کی پیروی کی اوربغیر کسی نئی قانون سازی کے، کامن لا کے اصول کے تحت مارشل لا نافذ کیا۔
تاہم ، نو مئی کو ایک آرڈیننس کے ذریعے مارشل لا کے تحت کیے گئے اقدامات کو تحفظ (انڈیمنٹی) فراہم کیا گیا۔
لیکن مبصرین کے مطابق حالات کچھ ایسے سیدھے بھی نہیں تھے۔
’اِف ٹروتھ بی ٹولڈ، این آلٹرنیٹ ہسٹری آف پاکستان‘ سول سرونٹ حق نواز اختر کی کتاب ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کابینہ کا کراچی میں اجلاس جاری تھا جب کسی نے سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا سے حالیہ صورتحال کے بارے میں سوال کیا۔
’وہ کابینہ روم سے باہر گئے اور تقریباً 15–20 منٹ بعد واپس آئے اور کہا:’میں نے جی او سی جنرل اعظم خان سے بات کی اور ان سے کہا کہ صورتِ حال کو قابو میں کریں۔ جنرل اعظم خان نے کہا کہ وہ اس وقت تک کوئی اقدام نہیں کر سکتے جب تک انھیں مکمل اختیار حاصل نہ ہو۔ اس پر میں نے انھیں بتایا کہ انھیں مکمل اختیار حاصل ہے۔ چنانچہ اعظم خان نے مارشل لا نافذ کرنے اور ہنگاموں کو دبانے کے لیے اپنے دستے حرکت میں لانے اور انتظامیہ کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کا فیصلہ کر لیا۔‘
اختر کے مطابق ’یوں ایک سول افسر نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ لاہور کو جنرل آفیسر کمانڈنگ کے حوالے کرنے سے پہلے کابینہ کے فیصلے یا منظوری کا انتظار کرے! یہ بھی معلوم نہیں کہ کابینہ کے کسی رکن نے اس نکتے پر کوئی اعتراض اٹھایا تھا یا نہیں۔‘
لارنس زیرنگ اپنی کتاب ’پاکستان ایٹ دی کراس کرنٹ آف ہسٹری‘ میں اس کی وجہ یوں بیان کرتے ہیں: ’اسکندر مرزا کو سیکرٹری دفاع مقرر کیا گیا اور جب ایوب خان نے فوج کی کمان سنبھالی تو مرزا نے ان کے ساتھ شراکت اختیار کی۔‘
’دونوں نے نئی ریاست کی ضروریات پر بات کی اور اس بات پر اتفاق رائے قائم کیا کہ قوم کو کس راستے پر چلنا چاہیے۔‘
’مرزا نے سیاستدانوں کے ساتھ صبر کا کم مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ایوب خان کے خیالات بھی اسی سمت میں تھے، لیکن وہ چاہتے تھے کہ فوج کو ایک تسلیم شدہ جنگی قوت کے طور پر قائم ہونے کا وقت ملے، لہٰذا سیاسی حکمت عملی کا کام اپنے ساتھی مرزا پر چھوڑ دیا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
البتہ ڈی کلاسیفائی یا افشا کی گئی دو امریکی سفارتی دستاویزات سے ایوب خان کے خیالات اور جذبات کا علم ہوتا ہے۔
23 دسمبر1952 کو امریکن کونسل جنرل ریلے اے گبسن کے ساتھ لاہور میں اپنی ملاقات میں ایوب خان نے کہا کہ ’فوج نہ تو سیاست دانوں کو ہتھے سے اکھڑنے دے گی نہ عوام کو۔‘
13 فروری 1953 کو گبسن کے ساتھ ہی اپنی ملاقات میں ایوب خان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’سیاست دانوں یا عوام کی جانب سے (مرکز میں) موجودہ حکومت کو ہٹانے کا کوئی خطرہ نہیں لیکن اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو فوج مارشل لا لگا دے گی اور حالات سنبھال لے گی۔‘
قاسمی لکھتے ہیں کہ ’برطانوی ہائی کمیشن کے افسران سے ذاتی ملاقاتوں میں اسکندر مرزا اور جنرل اعظم خان نے جمہوریت کے لیے اپنے طنز و تحقیر کا کوئی پردہ نہیں رکھا۔‘
’مرزا نے صاف الفاظ میں کہا کہ جمہوریت پنجاب کے لیے مناسب نہیں۔ ایوب خان نے بھی ایک اعلیٰ وکیل کے بارے میں بتایا جو مارشل لا کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے آیا، جسے اعظم نے کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا اور سخت تفتیش کی۔ وکیل کو تحریری معافی کے بعد ہی رہا کیا گیا اور اسے ہدایت دی گئی کہ اپنے ساتھیوں کو خبردار کرے کہ جو اعظم کی اتھارٹی پر سوال کریں ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔‘
چھ مارچ کو، اس سے پہلے کہ دولتانہ ناظم الدین سے رابطہ کرتے، مرکزی حکومت اور اس کی کابینہ پنجاب میں مارشل لا نافذ کرنے پر غور کر رہی تھی۔ فوج نے بھی اس سلسلے میں اپنا فیصلہ کر لیا تھا۔
چھ مارچ کی صبح، اعظم خان گورنر کے پاس گئے تاکہ انھیں فوجی کنٹرول سنبھالنے کے لیے کہا جا سکے۔ لیکن چونکہ گورنر کے پاس قانونی اختیار نہیں تھا، اعظم خان نے چیف آف سٹاف، جنرل ناصر علی خان کو راولپنڈی کے جنرل ہیڈکوارٹر میں فون کیا اور بتایا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فوج مداخلت کرے اور قانون و نظم قائم کرے، ورنہ دیر ہو جائے گی۔
ان کا پیغام سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا تک پہنچا، جنھوں نے 12:15 پر اعظم خان کو فون کر کے پوچھا کہ صورتحال کتنی سنگین ہے اور کیا ان کے پاس مطلوبہ فوجی طاقت موجود ہے۔
قاسمی کے مطابق اعظم خان نے مرزا کو بتایا کہ فیصلہ کن کارروائی میں مزید تاخیر انسانی جانوں اور املاک کے بھاری نقصان کا سبب بنے گی۔ مرزا نے انہیں بتایا کہ کابینہ ابھی مسئلے پر غور کر رہی ہے لیکن اعظم خان کو تیار رہنے کی ہدایت دی۔
’کراچی میں مرکزی حکومت کو صوبائی حکومت پر مکمل عدم اعتماد تھا، اس لیے ناظم الدین نہیں چاہتے تھے کہ دولتانہ کو فوج کے کنٹرول کے منصوبے کا پتہ چلے۔‘
تحقیقات کے دوران میں ’ناظم الدین نے دلیل دی کہ دولتانہ سے بات چھپانے کی وجہ ان پر عدم اعتماد نہیں بلکہ سیکرا (خفیہ) فون کا ناکارہ ہونا تھا؛ عام فون لائن پر انتہائی خفیہ معاملات پر بات کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ آپریٹرز تحریک کے ساتھ ہمدرد ہو سکتے تھے۔‘
اس کے علاوہ، وہ دولتانہ کی کچھ مانگوں پر راضی نہیں ہونا چاہتے تھے جو الٹی میٹم کی طرح لگ رہی تھیں۔ اگر یہ الٹی میٹم قبول ہو جاتا، تو ناظم الدین کو خدشہ تھا کہ دولتانہ اس فیصلے کو عوام کے سامنے فخر کے ساتھ اعلان کر دیں گے۔
’دولتانہ نے پھر بھی بیان جاری کر دیا، اور اس نے مارشل لا نافذ کرنے کا راستہ ہموار کر دیا۔ تقریباً 12:45 پر، اعظم خان کو اسکندر مرزا کا ایک اور فون آیا، جس میں بتایا گیا کہ کابینہ نے پنجاب میں مارشل لا نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اعظم خان نے پھر اس فیصلے کو وزیر اعلیٰ اور گورنر تک پہنچایا۔‘
مارشل لا نافذ ہونے سے پہلے، 4—5 مارچ کے درمیان پولیس کی فائرنگ سے 11 افراد ہلاک ہوئے، اور دیگر دنوں میں فائرنگ سے 14 زخمی افراد بھی فوت ہوئے، جس سے کل ہلاکتیں 25 اور زخمیوں کی تعداد 100 ہو گئی۔ یہ سرکاری اعداد و شمار تھے۔
،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
’کامیاب مارشل لا‘ کے چرچے اور خواجہ ناظم الدین کی برطرفی
سب سے زیادہ پریشانی کا مرکز اندرون شہر اور وزیر خان مسجد تھا۔
اعظم خان نے اس علاقے میں اپنی کارروائی کا ذکر کچھ یوں کیا: ’جب مارشل لا نافذ ہوا، میں نے اسی دن شام 6 بجے تک والڈ سٹی (اندرون شہر) کے تمام علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ وزیر خان مسجد کے فولادی دروازے کھولنا مناسب نہیں تھا جہاں لوگ خود کو بند کر چکے تھے، میں نے ان کی بجلی، لاؤڈ اسپیکر اور پانی کی سپلائی روک دی، اور کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ دی۔ یہ بالکل وہی تھا جو میں نے 5 مارچ کی صبح وزیر اعلیٰ کے گھر میں اجلاس میں تجویز کیا تھا۔‘
اگرچہ اعظم خان یہ تسلیم کرتے رہے کہ وہ متحدہ کمان اپنے کنٹرول میں نہیں چاہتے، لیکن انھوں نے پنجاب کی انتظامیہ کی کمزور پالیسیوں اور بے دلی سے کیے اقدامات پر سخت تنقید کی۔
24 مارچ 1953 کو خواجہ ناظم الدین نے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ میاں ممتاز دولتانہ کو تشدد کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے الزام میں برطرف کر دیا۔ اس کے بعد 17 اپریل 1953 کو گورنر جنرل غلام محمد نے خود خواجہ ناظم الدین کو بھی برطرف کر دیا۔
سٹیون آئی ولکنسن نے اپنی کتاب ’آرمی اینڈ نیشن‘ میں لکھا ہے کہ ’سول قیادت نے فوج کو بعض مقاصد کے لیے استعمال کیا، جیسے لاہور میں نسبتاً کامیاب مارشل لا نافذ کرنا، جس سے نہ صرف کچھ سینیئر افسران بلکہ ملک کے بہت سے لوگوں کو بھی یقین ہو گیا کہ فوج ملک کے بعض مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے۔‘
’ملٹری، سٹیٹ اینڈ سوسائٹی ان پاکستان‘ میں رضوی بتاتے ہیں کہ ’فوجی حکام چند ہی دنوں میں حالات کو معمول پر لے آئے اور اس کے بعد شہری حالات کو بہتر بنانے کے لیے ’کلینر لاہور مہم‘ شروع کی۔ مئی کے وسط میں جب شہر دوبارہ سول انتظامیہ کے حوالے کیا گیا تو لاہور ایک نئی اور زیادہ صاف ستھری شکل میں نظر آ رہا تھا۔‘
رضوی نے اپنی کتاب ’دی ملٹری اینڈ پالیٹکس ان پاکستان‘ میں انگریزی اخبار ڈان کے 16 مئی 1953 کے ایک اداریے کا حوالہ دیا ہے۔
اس اداریے میں لکھا ہے: ’لاہور میں فوجی حکومت کی یادیں ابھی طویل عرصے تک باقی رہیں گی، اور شہر کو جو نئی شکل ملی ہے اور لوگوں میں جو نظم و ضبط کا احساس فوج نے پیدا کیا ہے، وہ میجر جنرل اعظم خان اور ان کے ساتھیوں کے کیے گئے اچھے کام کی واضح گواہی دیں گے۔‘
،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
سہیل ظہیر لاری اپنی کتاب ’واٹ اے لائف‘ میں لکھتے ہیں کہ ’فوج نے نہ صرف فسادات کو قابو کیا بلکہ شہر کی صفائی بھی شروع کر دی۔‘
’فوج نے نظم و ضبط اور احتساب قائم کیا۔ سرکاری دفاتر وقت پر کھلنے لگے اور افسران لوگوں کے مسائل سنتے تھے۔ قیمتوں کو قابو میں رکھا گیا۔ کھانے پینے کی دکانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ تار کی جالیاں لگائیں تاکہ کھانے کی اشیا پر مکھیاں نہ بیٹھ سکیں۔ شہر کو صاف کیا گیا، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ہوا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی گئی۔‘
’سرکاری عمارتوں کو رنگ کیا گیا، سڑکوں کی مرمت کی گئی، غیر مجاز تعمیرات گرا دی گئیں اور درخت لگائے گئے، یہاں تک کہ لاہور ایک فوجی چھاؤنی کی طرح صاف اور منظم دکھائی دینے لگا۔‘
’اس سے فوج کو بہت مقبولیت ملی، کیونکہ انھوں نے چند ہی دنوں میں شہر کے لیے وہ کچھ کر دکھایا جو شہری انتظامیہ برسوں میں بھی نہ کر سکی تھی۔‘
’اسی لیے جب 1958 میں ایوب خان نے مارشل لا نافذ کیا تو عوام نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ تاہم اس بار فوج نے لاہور کی طرح گڑبڑ کو درست کر کے واپس جانے کے بجائے اقتدار اپنے پاس ہی رکھا۔‘
SOURCE : BBC



