SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہgettyimages
جب کاغذ پہ لکھی تحریر ایک کپتان کو یہ بتلا رہی ہو کہ اس کی مخالف ٹیم نہ صرف کھیل ہی کے ہر شعبے میں اس کی ٹیم سے برتر ہے بلکہ ماضی کے تمام عالمی مقابلوں میں بھی اس پہ لگ بھگ ناقابلِِ تسخیر ریکارڈ رکھتی ہے تو اس کپتان کو وہ تحریر مٹا کر وہاں اپنا جواب رقم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
کرکٹ بہرحال ایک کپتان کی گیم ہے جہاں بھلے برینڈن میکلم جیسے احباب واکی ٹاکی سے لمحہ بہ لمحہ میدان تک اپنی کھسر پھسر پہنچانے کا اہتمام کرتے رہیں، گراؤنڈ پہ حتمی فیصلہ کپتان ہی کا ٹھہرتا ہے اور وہی آخری نتیجے کا ذمہ دار بھی کہلاتا ہے۔
سلمان آغا چونکہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے مروجہ روٹ کے بالکل برعکس چلتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ سے اِس طرف وارد ہوئے ہیں سو کھیل کی ان باریکیوں سے بھی شناسائی رکھتے ہیں جو عموماً ٹی ٹوئنٹی تھنک ٹینکس کے ادراک سے پرے گزر جاتی ہیں مگر بازی کے حتمی فیصلے میں بہت نتیجہ خیز ہو سکتی ہیں۔
مثلاً ایشیا کپ میں ابھیشک شرما کی یلغار کے خلاف فہیم اشرف کی میڈیم پیس کا استعمال ایسی ہی باریک چال تھی جو بھلے پاکستان کے لیے جیت نہ بھی لا سکی مگر پہلے دو یکطرفہ مقابلوں کے برعکس فائنل کو آخری اوور تک کھینچ گئی اور کروڑوں شائقین کی نبض تھامے رکھی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ ڈیٹا پہ جائیے تو بہت جگمگاتے اعدادوشمار انڈین بیٹنگ کی سپن کے خلاف مہارت کی گواہی دیتے نظر آئیں گے۔ مگر پچھلے دو برس میں گوتم گمبھیر کی کوچنگ نے اس زریں انڈین ریکارڈ کو خود ہی سے الجھا کر رکھ چھوڑا ہے۔
اب یہی انڈین کرکٹ ہے جو سپن پچز پہ ہی اوپر تلے نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ سے ہوم سیریز ہار جاتی ہے۔
ایسے میں اگر کوئی یہ سوچے کہ پاکستان کو دو پیسرز کے ہمراہ میدان میں اترنا چاہیے تو اسے ہاردک پانڈیا کی وہ خواہش بھی یاد رہنی چاہیے جو دو روز پہلے نمیبیا کے خلاف میچ کے بعد اُنھوں نے ظاہر کی ’ہم مزید بیٹنگ دوست پچز کی توقع رکھتے ہیں۔‘
قصہ مختصر، یہ انڈین بیٹنگ سپن سے زیادہ پیس کے خلاف اپنا جلوہ جگانا پسند کرتی ہے۔ یہی انڈیا کی سب سے بڑی قوت ہے اور یہی ادراک سلمان آغا کی بھی سب سے بڑی قوت بن سکتا ہے کہ وہ انڈین بلے بازوں کو ان کی مرغوب غذا سے دور رکھیں اور نامانوس ہوا میں سانس لینے پہ مجبور کیے رکھیں۔
بھلے ہی پاکستانی ٹیم میچ سے دو ہفتے پہلے ہی کولمبو جا چکی ہو، انڈین ٹیم بہرحال اس قابل ہے کہ وہ مختلف طرح کی کنڈیشنز سے جلد مانوسی پا سکتی ہے۔
باقی جہاں تک بات ہے ’آر پریما داسا سٹیڈیم کولمبو‘ کی تو وہ دونوں ٹیموں کے لیے ہی یکساں اجنبی کنڈیشنز ہوں گی کیونکہ پاکستان نے بھی اپنے پہلے دونوں ورلڈ کپ میچز سنہالیز سپورٹس کلب کولمبو میں کھیلے ہیں۔
آر پریماداسا سٹیڈیم میں جو ورلڈ کپ میچز ابھی تک کھیلے گئے ہیں، وہاں پہلے مقابلے میں پیس اور سپن کو یکساں مدد ملی جبکہ دوسرے میں سپن کا پلڑا بھاری رہا اور جمعے کی صبح زمبابوین فاسٹ بولرز کے سوا کسی کو کچھ نہ ملا۔
اس ریکارڈ کی روشنی میں دو پیسرز کے لیے دلیل لائی جا سکتی ہے مگر یہ دیکھنا پھر بھی لازم رہے گا کہ پیس کی تائید کے لیے پچ پہ کچھ گھاس چھوڑی گئی ہو۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن اگر پچ پہ گھاس نہ ہوئی تو یہاں فہیم اشرف بھی شاہین آفریدی سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکیں گے کیونکہ ان پچز پہ رفتار بولر سے زیادہ بلے باز کی طرف دار ہوتی ہے۔
اپنے موجودہ سپن بولنگ اٹیک کے ہمراہ پاکستان کسی بھی بیٹنگ لائن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
انڈین بلے باز بھی اس خطرے سے مستثنیٰ نہیں ہیں مگر نتیجہ خیزی کے لیے لازم ہو گا کہ حالیہ ایشیا کپ مقابلوں کی طرح جذبات میں بہہ نکلنے کے بجائے حواس کو برقرار رکھا جائے اور اپنی تمام تر بھڑاس گیند اور بلے کی زبان میں دکھائی جائے۔
گو یہ بحث لایعنی ہے کہ ٹاس پہ مصافحے کی روایت نبھائی جائے گی یا آنکھوں سے انگارے برسائے جائیں گے مگر یہ خارج از امکان نہیں کہ سٹیڈیم میں دونوں ٹیموں کے سپورٹرز کے بِیچ تُند نعرے گرج سکتے ہیں۔
ایسے نعروں کے ہنگام حواس مٹھی میں اور توجہ گیند پہ رکھنا اگرچہ بہت مشکل ہو گا مگر سلمان آغا ایسے کپتان ہیں جو اس مشکل کو ممکن بنا سکتے ہیں۔
رہی بات پریشر کی تو وہ اب سارا انڈیا ہی پہ جا چکا ہے کہ پاکستان تو یہاں صرف میچ کھیلنے کو راضی ہو کر ہی آئی سی سی سے ایک لڑائی جیت چکا۔
SOURCE : BBC



