Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں سرحدی حملے اور سفارتی جمود: پاکستان اور افغانستان کا تصادم کیا رُخ...

سرحدی حملے اور سفارتی جمود: پاکستان اور افغانستان کا تصادم کیا رُخ اختیار کرے گا؟

14
0

SOURCE :- BBC NEWS

پاکستان، افغانستان کشیدگی

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستان اور افغانستان کے مابین جمعرات اور جمعے کو ہونے والی سرحدی جھڑپوں اور پاکستان کی افغانستان کے مختلف شہروں میں حملوں کے دعوؤں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ’بلا اشتعال‘ حملوں کے بعد اس نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا جس میں افغان طالبان کے 133 اہلکار ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ پکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار، کنڑ اور نورستان کے قریب سرحد پر پاکستانی فوج کے ساتھ چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں 55 پاکستانی فوجی مارے گئے جن میں سے کچھ کی لاشوں کو افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا‘ اور اب ’کھلی جنگ‘ ہوگی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انھوں نے افغان طالبان پر ’ساری دنیا کے دہشتگردوں کو افغانستان میں اکٹھا‘ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کابل کی عبوری حکومت نے ’دہشتگردی کو ایکسپورٹ‘ کیا۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین اس تصادم کا آغاز سنیچر کی شب ہوا تھا جب پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائی کی تصدیق کی تھی۔

افغان طالبان نے اس کا جواب دینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد افغان طالبان کے مطابق جمعرات کی شب آٹھ بجے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دونوں ممالک کے مابین صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پاکستان میں شدت پسندوں کی جانب سے کی جانے والی پے در پے کارروائیوں اور اس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان دوحہ معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اُن کی سرزمین پاکستان کے خلاف ہونے والے مسلسل حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے جبکہ افغانستان کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا اندورنی مسئلہ ہے جسے وہ حل کرنے میں ناکام رہا۔

ایسے میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ افغانستان میں موجود غیر تسلیم شدہ حکومت دہشت گرد عناصر کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے جو دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے نائن الیون جیسے یا اُس سے بھی بدتر حالات پیدا کر دیے ہیں جس کے نتائج دنیا بھر کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔‘

افغان طالبان

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر آمدورفت اور تجارت گذشتہ کئی ماہ سے معطل ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف تند و تیز بیانات اور الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں، تو ایسے میں سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کب تک انتہائی کشیدہ تعلقات برداشت کر سکتے ہیں؟ کیا حالات ابھی بھی معمول پر لانے کی گنجائش باقی ہے یا پھر پاکستان کے خیال میں ماضی کی طرح افغانستان میں حکومت کی تبدیلی ہی مسئلے کا حل ہے؟

پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے، اور چین سے لے کر امریکہ تک سب ممالک کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد گروپ موجود ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم فرنٹ لائن سٹیٹ ہیں اور ہمیں اپنی عوام کے ساتھ بحیثیتِ ذمہ دار ملک دنیا کو بھی خطرے سے بچانا ہے۔‘

’افغانستان میں نائن الیون جیسے حالات‘: کیا پاکستان اور دنیا کے لیے خطرہ واقعی بڑھ رہا ہے؟

افغان طالبان

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

صدر آصف علی زرداری نے افغانستان کے حوالے سے اپنے حالیہ بیان میں عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ جب دہشت گرد گروہوں کو سرحدوں سے باہر جگہ، سہولت یا استثنیٰ دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ نے افغانستان میں داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ سمیت متعدد شدت پسند تنظیمیوں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔ پاکستان کے علاوہ افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک جیسا کہ تاجکستان، ایران، ازبکستان اور چین بھی افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی پر پریشان ہیں۔

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان افغانستان میں موجودہ خطرات سے نمٹنے کے لیے دوسرے ممالک سے مدد لے سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے وہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ’پاکستان دہشت گردوں اور دنیا کے مابین ایک دیوار ہے اور بار بار ہونے والے حملے اس دیوار کو کمزور کر رہے ہیں۔ دہشت گرودں کا ہدف صرف کوئٹہ اور لاہور نہیں ہے بلکہ یہ لندن اور نیویارک تک ہے اور یہ ہم سے ہو کر پہنچیں گے۔‘

وانا کیدٹ کالج پر حملے کے بعد کے مناظر

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

ہانگ کانگ میں ریسرچ فیلو سید فخر کاکاخیل کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے اس اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا ہے کہ داعش اور ٹی ٹی پی خطے کے علاقائی ممالک کے ساتھ ساتھ روس اور دنیا کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ شام کا محاذ بند ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں موجود جنگجو افغانستان کا رُخ کر رہے ہیں اور ایسے میں کسی بڑے حملے کے خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مسئلہ دراصل یہ ہے کہ دنیا بھر کو دیگر تنازعات کا سامنا ہے جیسا کہ روس یوکرین تنازع، ایران، امریکہ کشدگی۔۔۔ ایسے میں افغانستان دنیا کی ترجیح نہیں ہے لیکن حالیہ رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں یہاں کے حالات دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔‘

یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جیلوں میں قید ٹی ٹی پی اور داعش سے منسلک سینکڑوں مشتبہ افراد کو رہا کیا گیا تھا۔

افغانستان میں تعینات رہنے والے سابق پاکستانی سفیر منصور خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں اور ایسے میں علاقائی ممالک کو مل کر یہ کوشش کرنا ہو گی افغان طالبان سے بات چیت کی جائے۔

کیا افغانستان میں رجیم چینج (حکومت کی تبدیلی) مسئلے کا حل ہے؟

مبصرین کے مطابق صدر زرداری کے حالیہ بیان کے بعد یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے، اور اسی دوران افغانستان کی عبوری حکومت کے نمائندے اور ترجمان بھی متعدد بار الزام عائد کر چکے ہیں کہ پاکستان اُن کی حکومت کمزور کر رہا ہے۔

چند ماہ قبل پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’اگر افغان طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اُن کی حکومت گرانا چاہتا ہے تو پاکستان کو افغانستان میں غیر تسلیم شدہ حکومت گرانے کے لیے بہت زیادہ زور نہیں لگانا پڑے گا۔‘

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے مطابق افغانستان میں رجیم چینج ہی مسئلے کا واحد حل ہے کیونکہ حکومت کے مطابق افغان طالبان دنیا سے کیا گیا معاہدہ پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں؟

وزیراعظم شہباز شریف کے معاونِ خصوصی رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ’افغانستان میں ایک ایسا گروہ حکومت کر رہا ہے، جس نے ناصرف وہاں کے عوام کی زندگی مشکل کر دی ہے بلکہ یہ دنیا بھر کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔‘

دائیں سے بائیں، وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی مولوی حمد اللہ نعمانی، طالبان کے قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر دیہی بحالی اور ترقی ملا محمد یونس اخندزادہ اور ایک اور طالبان عہدیدار ایک اسٹیج پر کھڑے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’دنیا کو ایک اور نائن الیون کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ انھیں اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھنا چاہیے اور ان کے متعلق کوئی پالیسی اپنانی چاہیے۔‘

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کابل میں تعینات رہنے والے پاکستان کے سابق سفیر منصور خان نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت بننے کے بعد پاکستان کی اُن سے دو ہی توقعات تھیں: ’ایک ٹی ٹی پی کا خاتمہ اور دوسرا پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات۔‘

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے منصور خان نے کہا کہ ’بدقسمتی سے پاکستان کی یہ دونوں توقعات پوری نہیں ہو سکیں ہیں اور اب دونوں جانب سے بداعتمادی اور عدم برداشت بڑھ گئی ہے، اور اگر عسکری حارحیت جاری رہی تو حالات اور مشکل تر ہو جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں رجیم چینج سے مزید انتشار پیدا ہو گا جس سے پاکستان کے لیے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔‘

ریسرچ فیلو سید فخر کاکاخیل کہتے ہیں کہ ’بظاہر پاکستان کی برداشت اب ختم ہو گئی ہے کیونکہ دہشت گردی جو پہلے سرحدی علاقوں میں تھی اب اسلام آباد تک پہنچ گئی ہے اور اس لیے پاکستان اب جواب دے رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان استحکام چاہتا ہے اور وہ اس سلسلے میں چین کی جانب بھی دیکھ رہا ہے۔‘

طالبان کے رہبرِ اعلیٰ ہبت اللہ اخونزادہ کا ایک پوسٹر

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

افغانستان میں رجیم چینج کی ممکنہ کوشش کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخر کاکاخیل نے کہا کہ ’پاکستان کی کوشش یہی ہو گی کہ پہلے رجیم چینج کے بجائے طالبان کے اندر کسی پر پروگریسیو تبدیلی کی حمایت کی جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’افغان طالبان میں کسی ایسے گروپ کو سامنے لایا جا سکتا ہے جو زیادہ سخت گیر نہ ہو اور اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان افغان طالبان کے اُن دھڑوں کی حمایت کر سکتا ہے جو معتدل ہوں۔‘

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے ’پاکستان کے لیے یہ مشکل وقت ہے اور پاکستان کو شدت پسندی کے خلاف یہ جنگ ہر صورت میں جیتنا ہے کیونکہ اس جنگ کو جیتنے کے علاوہ پاکستان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے کیونکہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف سرگرم جنگجوؤں کو انڈیا کی جانب سے بھرپور حمایت اور مالی معاونت حاصل ہے۔‘

انڈیا ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے حالیہ حملوں کے بعد افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ملک میں قید میں داعش کے جنگجوؤں کو افغان طالبان کے حوالے کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں پاکستان کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سید فخر کاکاخیل کا کہنا ہے کہ ’وسطی ایشیائی ریاستیں اور خصوصاً تاجکستان افغانستان میں غیر ملکی جنگجوؤں کے معاملے کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’داعش کو سب سے بڑا خطرہ افغان طالبان سے ہے۔ طالبان کی افغانستان میں آمد کے بعد درجنوں کی تعداد میں ٹی ٹی پی اور داعش کے جنگجوؤں کو جیلوں سے رہا کیا گیا پھر انھی داعش کے جنگجوؤں نے ایران اور ماسکو کے مفادات کے خلاف حملے کیے۔‘

سابق سفیر منصور خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کبھی بھی ان قیدیوں کو افغان طالبان کے حوالے نہیں کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کی منتقلی کا کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے۔

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

،تصویر کا ذریعہEPA

افغانستان پاکستان کشیدگی: مسئلہ آخر کیسے حل ہو گا؟

دونوں ممالک کے مابین اس وقت سفارتی اور تجارتی تعلقات بالکل منجمد ہیں۔

ایسے میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ہمسائیوں سے تعلقات بات چیت اور نان کائنیٹک آپریشنز کے ذریعہ بہتر کرنا چاہتا ہے لیکن پاکستان کی شکایات دور کرنا تو دور کی بات ہے افغان طالبان پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت بھی نہیں کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’افغان طالبان نے کبھی یہ عزم بھی ظاہر نہیں کیا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان بات چیت کرنا یہ چاہتا لیکن یہ روابط دو طرفہ ہوتے ہیں یکطرفہ نہیں اور پاکستان ہر ممکن طریقے سے اپنی عوام کو محفوظ بنائے گا۔‘

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کی شکایات دور کرنا تو دور کی بات ہے پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت بھی نہیں کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

ریسرچ فیلو سید فخر کاکاخیل کا کہنا ہے کہ ناصرف پاکستان بلکہ تاجکستان جیسے خطے کے دیگر ممالک بھی افغان طالبان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ افغان سرزمین میں موجود شدت پسندوں کے خلاف ایکشن لیں ’لیکن مسئلہ یہ ہے کہ افغان طالبان اس بات کو سمحجھ ہی نہیں رہے ہیں کہ یہ کوئی مسئلہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کے مطابق ’ترکی اور قطر میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان نے ثبوت بھی پیش کیے لیکن افغان طالبان اس بات آمادہ نہیں ہیں کہ کچھ غلط نہیں ہے، تو پھر بات چیت کیسے آگے بڑھ سکتی ہے؟‘

طلال چوہدی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان صرف یہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں طالبان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دنیا سے کیے گئے اپنے وعدہ پورے کرے۔‘

سابق سفیر منصور علی خان کے بقول ’فوجی کارروائی مسئلے کا حل نہیں ہے، پاکستان کو افغانستان سے مسائل کو حل کرنے کے لیے آؤٹ آف باکس حل تلاش کرنا ہو گا لیکن سب پہلے ضروری ہے کہ بیک چینل ڈوپلومیسی کے تحت بات چیت شروع کی جائے تاکہ رابطے کا ذریعہ بحال ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’عسکری کارروائیوں اور سرحد کی بندش سے افغان عوام میں پاکستان کے لیے غم و غصہ بڑھ رہا ہے اور افغان طالبان ان منفی جذبات سے فائدہ اٹھا کر رہے ہیں۔‘

منصور علی خان کے خیال میں ’افغان طالبان کے لیے بھی ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہے کیونکہ مشکل صورتحال میں وہ ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں، اگر بات چیت کا سلسلہ بند رہا تو صورتحال مزید خراب ہی ہو گی۔‘

SOURCE : BBC