Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں دس ماہ کی بچی جس نے اپنے اعضا عطیہ کر کے پانچ...

دس ماہ کی بچی جس نے اپنے اعضا عطیہ کر کے پانچ لوگوں کی زندگیاں بچا لیں

9
0

SOURCE :- BBC NEWS

بچی

،تصویر کا ذریعہAmrita institute of medical sciences, Kochi

انڈین ریاست کیرالہ میں ایک 10 ماہ کی بچی نے اپنے اعضا عطیہ کرکے پانچ زندگیوں کو بچا لیا ہے لیکن یہ سب ان کے والد کے فیصلے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

اس بچی کے والد ارون ابراہم نے اپنے کالج کے دنوں میں ایک لیکچر سنا تھا جسے وہ بھلا نہیں سکے اور اسی سبب انھوں نے اپنی بچی کے اعضا کے ذریعے پانچ لوگوں کی جان بچائی۔

ان کی بیٹی ایلن شیرن ابراہم کیرالہ میں اعضا عطیہ کرنے والی سب سے کم عمر بچی بن گئی ہیں۔

وہ کچھ عرصہ قبل ایک کار حادثے میں شدید زخمی ہوئی تھیں۔

ان کا جگر اور ایک گردہ پہلے ہی تشویش ناک حالت میں مبتلا دو بچوں کو دیا جا چکا جبکہ ان کے دل کا والو، دوسرا گردہ اور آنکھیں تیروننتپورم اور کوچی کے تین ہسپتالوں میں ضرورت مند مریضوں سے میچ کی جائیں گی۔

33 سالہ ارون نے بی بی سی نیوز ہندی کو بتایا کہ ’جب ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ ہماری بیٹی دماغی طور پر مردہ ہے تو ہم شدید دکھ کی حالت میں تھے۔ یہ مشکل فیصلہ تھا لیکن جب میں نے اپنی اہلیہ سے مشورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ ہمیں اس کے اعضا زندگیاں بچانے کے لیے عطیہ کر دینے چاہیے۔‘

ایلن

،تصویر کا ذریعہAmrita institute of medical sciences, Kochi

ارون کہتے ہیں کہ سنہ 2013 میں کڈنی فاؤنڈیشن کے پادری ڈیوس نے کالج میں اعضا عطیہ کرنے کے حوالے سے ایک لیکچر دیا تھا اور اسی وجہ سے میں اپنی بیٹی کے اعضا عطیہ کرنے کی ہمت کر پایا۔

’اس وقت میں بی کام کا طالب علم تھا اور اس دن میں نے عہد کیا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو میں اپنے اعضا عطیہ کر دوں گا۔‘

سری چترا ترونل انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں نیوروسرجری کے پروفیسر ڈاکٹر ایشور ایچ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت حوصلہ افزا بات ہے۔ ایلِن نے ملک میں اعضا کی پیوندکاری کے بارے میں لوگوں کا تصور بدل دیا۔‘

ایلن کے ساتھ ہوا کیا تھا؟

حادثے میں ایلِن کو شدید اندرونی چوٹیں آئی تھیں لیکن اس کے جسم کے باہر ایک خراش تک نہیں تھی۔

پانچ فروری کو ایلن اپنی والدہ اور نانا نانی کے ساتھ کار میں سفر کر رہی تھیں، جب سامنے سے آنے والی ایک گاڑی نے زور سے ٹکر مار دی۔

ایلن کو تشویشناک حالت میں پہلے چینگاناسری اور ترووالا کے ہسپتالوں میں لے جایا گیا لیکن بعد میں کوچی کے امریتا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود ان کی زندگی نہیں بچائی جا سکی اور 6 فروری کو انھیں دماغی طور پر مردہ قرار دے دیا گیا۔ اسی دن ان کے والدین نے ان کے اعضا عطیہ کرنے کے لیے فارم پر دستخط کر دیے۔

ان کے دونوں گُردے تروواننتاپورم میڈیکل کالج ہسپتال بھیج دیے گئے۔

اس کے بعد ان کی آنکھیں اور دل کے والو بھی دیگر ہسپتالوں میں پہنچا دیے گئے۔

ان کا گردہ چھ مہینے کی دھریا کو دیا گیا جو گردے کے عارضے میں مبتلا تھیں۔ ہسپتال کے مطابق تین ماہ کی عمر میں ان کے علاج کی کوشش کی گئی تھی لیکن معالجین کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انھیں گردے کی پیوندکاری کا مشورہ دیا گیا تھا۔

13 فروری کو دھریا کا آپریشن کیا گیا تھا اور اب ان کی حالت مستحکم ہے تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نئے گردے کو جسم کے ساتھ پوری طرح کام کرنے میں وقت لگتا ہے۔

دھریا کے انکل ونود ایک مزدور ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اپنی پیدائش کے ایک ماہ بعد ان کی آنکھیں زدر پڑ گئیں تھیں، ایک ٹیسٹ کے ذریعے ان کے گُردے کے عارضے کے بارے میں معلوم ہوا۔‘

ایلن کا دوسران گردہ ایک 10 سالہ بچے کو دیا گیا۔

ایلن شیرن کیرالہ میں اعضا عطیہ کرنے والی سب سے کم عمر بچی بن گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہAmrita institute of medical sciences, Kochi

ایلِن کو خراجِ عقیدت

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ڈاکٹر ایشور کے مطابق بچوں کو دماغی طور پر مردہ قرار دینا بڑوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے، بڑوں کے معاملے میں یہ فیصلہ چھ گھنٹوں کے اندر کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ایشور وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایک سال سے کم عمر بچے کو دماغی طور پر مردہ قرار دینے میں تقریباً 12 گھنٹے لگتے ہیں۔ اگر بچہ ایک ماہ کا ہو تو اس میں تقریباً 24 گھنٹے لگتے ہیں۔‘

ڈاکٹر ایشور نے اپنی 91 سالہ والدہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جلد اور آنکھوں کی جھلّی عطیہ کرنے کا حلف پہلے ہی سے لے رکھا تھا۔

’ان کی وفات کے چھ گھنٹے کے اندر، سکن بینک کے پلاسٹک سرجن گھر آئے اور دونوں رانوں سے محفوظ طریقے سے 20 سینٹی میٹر لمبی اور 1 ملی میٹر موٹی جلد نکالی۔ یہ جلد شدید جھلسنے والے مریضوں کے علاج میں استعمال کی جاتی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونر کی عمر اہم نہیں ہوتی بس شرط یہ ہے کہ وہ شخص پانی کی کمی یا جلد کے انفیکشن کا شکار نہ ہو۔

جہاں معاشرے کے مختلف طبقوں کی جانب سے ایلِن کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے وہاں کیرالہ کی حکومت نے ان کے لیے سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات کا اعلان کیا۔

اتوار کے روز انھیں ان کے آبائی شہر پتھنامتھٹّا کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ کئی وزرا نے آ کر انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وزیر وی ایس واساون نے کہا کہ خاندان نے اپنے فیصلے سے انسانیت کی مثال قائم کی۔

SOURCE : BBC