Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں جب ایک ’کیلے فروخت کرنے والی کمپنی‘ نے جمہوری حکومت گرا دی:...

جب ایک ’کیلے فروخت کرنے والی کمپنی‘ نے جمہوری حکومت گرا دی: وینزویلا سے ایران تک امریکی مداخلت کی کہانی

11
0

SOURCE :- BBC NEWS

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

7 گھنٹے قبل

جب 1954 میں یونائیٹڈ فروٹ کمپنی نے اس وقت کے امریکی صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور کو قائل کیا کہ وہ گوئٹے مالا کے جمہوری طور پر منتخب صدر جیکوبو آرینز کو ہٹا دیں، تو اس واقعے نے لاطینی امریکہ میں دہائیوں تک اثرات مرتب کیے۔

اب ماہرین اس آپریشن کی جڑیں تلاش کر رہے ہیں جسے ’ڈونرو‘ نظریہ کہا جاتا ہے، جسے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری میں اپنایا ہے۔

اس آپریشن میں جو امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی قیادت میں تھا، ایک کثیر القومی کمپنی نے چلایا تھا جس نے کیلے بیچ کر اپنی آمدنی کمائی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کی ماہر، گریس لیونگ سٹون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ کمپنی گوئٹے مالا اور پڑوسی ممالک میں اتنی طاقتور تھی کہ اسے ’دی آکٹوپس‘ کہا جاتا تھا کیونکہ اس کی شاخیں ہر جگہ تھیں۔‘

اگرچہ یہ ایک امریکی کمپنی تھی، یونائیٹڈ فروٹ کمپنی کا آئزن ہاور انتظامیہ سے کوئی سرکاری تعلق نہیں تھا لیکن جب آربنز نے اپنے ملک میں دائمی غربت کو کم کرنے کے لیے بڑے کیلے کے کھیتوں میں زمین ضبط کرنے اور دوبارہ تقسیم کرنے کی تجویز دی تو یونائیٹڈ فروٹ کمپنی نے حکومت کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرد جنگ کا کارڈ استعمال کیا اور گوئٹے مالا کو سوویت اثر و رسوخ کے لیے کمزور ملک کے طور پر پیش کیا۔

لیونگ سٹون وضاحت کرتی ہیں ’آربینز انھیں فراخدلانہ معاوضہ دینے والے تھے جو یونائیٹڈ فروٹ کمپنی کی طرف سے ان زمینوں کے لیے دوگنا سے بھی زیادہ تھا لیکن وہ اس رقم سے خوش نہیں تھے۔‘

لیکن آربینز نے 1950 میں اقتدار سنبھالتے کے بعد اپنے کہے کے مطابق گوئٹے مالا کو جاگیردارانہ معاشرے سے سرمایہ دارانہ معیشت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تو آئزن ہاور نے مداخلت پر رضامندی ظاہر کی۔

آئزن ہاور کا جواز مونرو ڈاکٹرائن تھا۔

سی آئی اے کی لبریشن آرمی نے گوئٹے مالا کے صدر جیکوبو آربینز کو سوویت کٹھ پتلی کے طور پر پیش کیا

،تصویر کا ذریعہBettmann Archive/Getty Images

انیسویں صدی کے آغاز میں جیمز منرو، جو امریکہ کے پانچویں صدر تھے، انھوں نے ایک اعلان کیا کہ مغربی نصف کرہ یورپی طاقتوں کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے، جو ایک دفاعی ہتھیار بن گیا تاکہ ممالک کے ان مسائل پر قابو پایا جا سکے جنھیں امریکہ اپنے علاقائی امور سمجھتا ہے۔

لیونگ سٹون وضاحت کرتی ہیں لیکن 1904 میں ایک اور امریکی صدر، تھیوڈور روزویلٹ نے اس پالیسی کو اپ ڈیٹ کیا تاکہ یہ ’خطے میں امریکی فوجی مداخلت کے لیے واضح جواز ہو۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ جسے ’ڈونرو‘ ڈاکٹرائن کہا جاتا ہے، مونرو اور صدر ٹرمپ کے پہلے نام کا ہم قافیہ ہے، یہ بھی واضح پیغام ہے تاکہ وینزویلا، گرین لینڈ اور ایران پر فوجی کارروای کی جا سکے۔

صحافی جون لی اینڈرسن نے دی نیو یارکر میگزین میں کہا ’مادورو کی گرفتاری سے پہلے، امریکی صدر نے خود اعلان کیا تھا، جس سے وہ تمام نظریاتی جواز بحال کیے گئے جو ہم ہمیشہ سے جانتے ہیں۔‘

کارنیگی اینڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے گلوبل آرڈر اینڈ انسٹی ٹیوشنز پروگرام کے ڈائریکٹر سٹیورٹ پیٹرک کہتے ہیں ’یہ ’دائرے کی منطق‘ ٹرمپ کے عالمی نظام کے نقطہ نظر کے مرکز میں ہے اور جزوی طور پر ان کی عالمی نظام، کثیر الجہتی نظام، اتحاد سازی، اور دور دراز ممالک میں لامتناہی جنگوں سے ان کی طویل عرصے سے نفرت کا جواب ہے۔‘

امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی کا مقصد، جیسا کہ ٹرمپ نے گذشتہ سال کہا تھا، ’تجارت، علاقے اور وسائل کا تحفظ کرنا ہے جو ہماری قومی سلامتی کا مرکز ہیں۔‘

یونائیٹڈ فروٹ کمپنی نے 1950 کی دہائی میں گوئٹے مالا کی صنعت اور افرادی قوت پر غلبہ حاصل کیا

،تصویر کا ذریعہBettmann Archive/Getty Images

اس کے بعد سے صدر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’امریکی غلبہ‘ کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے فوجی، نظریاتی اور نفسیاتی دباؤ ڈالا جائے گا۔

اینڈرسن وضاحت کرتے ہیں کہ وینزویلا اور ایران میں یہ مفادات تیل سے جڑے ہوئے ہیں اور اس خطرے سے بھی کہ چین پہلے اسے قبضے میں لے سکتا ہے۔ گرین لینڈ کے پاس وہ وسائل بھی ہیں جنھیں ٹرمپ واشنگٹن کے مخالفین کے حاصل کرنے سے پہلے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

صدیوں پرانی حکمت عملی

گوئٹے مالا کے صدر جیکوبو آربینز (بائیں) کو سی آئی اے کے ہاتھوں معزولی کے بعد میکسیکو میں جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا

،تصویر کا ذریعہBettmann Archive/Getty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گوئٹے مالا میں معاملہ مختلف تھا: نظریہ۔ روس کے ساتھ سرد جنگ اور کیلے لیکن جواز کی طرح، حکمت عملی وہی رہتی ہے۔

لیونگ سٹون کا کہنا ہے کہ ’جیسا کہ حال ہی میں وینزویلا میں دیکھا گیا، گوئٹے مالا کے گرد ایک فوجی نیٹ ورک تھا۔ آئزن ہاور نے اعلان کیا کہ وہ دو آبدوزیں جنوب بھیج رہے ہیں اور بمبار طیارے بھی نکاراگوا بھیجے، جنھوں نے گوئٹے مالا کے قریب سمندر میں جہازوں کو روکنا شروع کیا۔ وہ چیزیں جو ہم نے وینزویلا میں دیکھی تھیں۔‘

سی آئی اے نے گوئٹے مالا میں حملے کی دھمکی دینے والے پمفلٹ جاری کیے اور اس وقت ناخواندہ آبادی تک پہنچنے کے لیے تصویروں کا استعمال کیا گیا۔

انھوں نے ایک ریڈیو نیٹ ورک قائم کیا جس پر ملک کے اندر سے نشریات کی جاتیں اگرچہ ماہرین کے مطابق بہت سے سگنلز بیرون ملک سے آتے تھے۔

لیونگ سٹون نشاندہی کرتے ہیں ’سی آئی اے ریڈیو سٹیشن پر انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہزاروں لوگ کرائے کے سپاہیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’لیکن جب وہ سرحد پار کر گئے تو کوئی بغاوت نہیں ہوئی۔ سی آئی اے، جس نے اس مبینہ حملے کی حمایت کی، نے گوئٹے مالا اور دارالحکومت میں سٹریٹجک مقامات پر بمباری شروع کر دی۔ اس نے فوجی بیرکوں پر ایک بڑا سموک بم بھی پھینکا اور بم دھماکوں کی آواز ریڈیو پر نشر کی۔ اس کا مقصد عوام اور فوج کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔‘

دریں اثنا فوجی قیادت یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ حملہ آوروں کو شکست نہیں دے سکتی نے آربینز کو استعفیٰ دینے پر زور دیا اور آخرکار قائل کر لیا۔

گرین لینڈ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’ڈونرو‘ نظریے کا مرکزی ہدف سمجھا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہSean Gallup/Getty Images

اکیسویں صدی میں گرین لینڈ اور بالواسطہ طور پر ڈنمارک کو ٹرمپ کی طرف سے سوشل میڈیا پر براہ راست دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، جن میں علاقے کو ضم کرنے اور کسی بھی مزاحمت کے باوجود اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔

دریں اثنا، ایران میں نفسیاتی دباؤ بڑھ گیا ہے جہاں شدید فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی گئی ہیں جن کا مقصد تعمیل کو نافذ کرنا، خوف پھیلانا اور امریکی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

’ایک بڑی فوج ایران کی طرف جا رہی ہے۔‘

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ’وینزویلا کی طرح تیاری مکمل ہے، ارادہ بھی ہے اور اپنے مشن کو تیزی سے اور اگر ضرورت پڑی تو پرتشدد طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔‘

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد نیویارک جانے پر مجبور ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہMichael Nagle/Bloomberg vía Getty Images

سنہ 1950 کی دہائی میں اس آپریشن میں استعفیٰ کے چند ہفتے بعد، آربینز کو جلاوطنی اختیار کرنی پڑی۔

لیونگ سٹون کہتے ہیں کہ ’ایئرپورٹ پر، نئی حکومت نے انھیں مجبور کیا کہ وہ کپڑے اتاریں اور یہاں تک کہ ان کے انڈرویئر کی تلاشی لی گئی وہ بھی ہجوم کے سامنے جو نعرے لگا رہے تھے، اور پھر انھیں ہوائی جہاز پر بٹھا دیا گیا۔‘

70 سال سے زیادہ عرصے کے بعد مادورو کو امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد نیو یارک جانا پڑا۔

اینڈرسن کہتے ہیں ’سب سے پہلے ہم نے کاراکاس پر بمباری کی تصاویر دیکھیں۔ اور اگلی چیز جو ہم نے دیکھی وہ مادورو تھے زنجیروں میں جکڑے ہوئے، فوجیوں کے ساتھ اور تذلیل کا شکار۔ یہ ایک پیٹرن کا حصہ ہے۔‘

سی بی سی نیوز کے مائیک کراؤلی جیسے تجزیہ کار نشاندہی کرتے ہیں کہ گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کی حکمت عملی بصری سیاست، سوشل میڈیا اشتہارات، منسوخ شدہ سرکاری دورے، اور اشتعال انگیز تصویریوں پر بھی انحصار کرتی ہے تاکہ وہ اپنی بالادستی قائم کر سکیں اور چھوٹی ریاستوں کی عملی صلاحیت کو کمزور کر سکیں۔

طویل مدتی خطرہ

امریکی مداخلت کی حمایت کرنے والوں کی عام دلیل ہے کہ صرف آمر اور وہ لوگ جو جمہوریت یا امریکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، انھیں ڈرنے کی ضرورت ہے لیکن کئی مبصرین اس سے اختلاف کرتے ہیں۔

لیونگ سٹون کہتے ہیں کہ ’گوئٹے مالا یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت کو گرانے کے لیے تیار تھا اور جب سے مونرو ڈاکٹرین کا اعلان ہوا ہے، امریکہ نے لاطینی امریکہ میں 80 سے زائد بار مداخلت کی ہے۔‘

’ٹرمپ اس نظریے کی سب سے واضح شکل میں دوبارہ تصدیق کر رہے ہیں۔‘

تاہم، گوئٹے مالا میں مداخلت کے بعد جو کچھ ہوا وہ صدر کو پریشان کر سکتا ہے۔ اس کے بعد دہائیوں تک تشدد اور عدم استحکام آیا، جس کے دوران آمرانہ حکومتیں اور پھر منشیات کے کارٹلز نے طاقت کے خلا کا فائدہ اٹھایا، اپنی پوزیشن مضبوط کی اور مایوس پناہ گزین اور غیر قانونی منشیات کو امریکی سرحد کے پار منتقل کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق، یہ امریکی مفادات کے لیے زرعی اصلاحات یا کمیونسٹ اثر و رسوخ کے خوف سے زیادہ طویل مدتی خطرہ رہا ہے جو مداخلتوں کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال ہوئے۔

یہ مضمون بی بی سی گلوبل جرنلزم کے تعاون سے بی بی سی ریڈیو فور کے تیار کردہ ایک پروگرام پر مبنی ہے۔

SOURCE : BBC