Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں تہرے قتل کے ملزم کی چلتی ٹرین سے گرفتاری اور گوجرانوالہ میں...

تہرے قتل کے ملزم کی چلتی ٹرین سے گرفتاری اور گوجرانوالہ میں ’اپنے ہی ساتھیوں‘ کے ہاتھوں ہلاکت: ’ملزم نے بالیوں کے لیے خاتون کے کان کاٹ دیے‘

17
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہJawad Yousuf

انتباہ: اس رپورٹ میں جرم سے متعلق درج چند تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔

پاکستان میں صوبہ پنجاب کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دو روز قبل ایک چلتی ٹرین سے حراست میں لیے جانے والا تہرے قتل کا ملزم ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ‘ سے ہلاک ہو گیا ہے۔

سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر غیاث گل خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ملزم ماں، اس کے دو کم سن بچوں اور ایک 13 سالہ لڑکے کے قتل کے الزام میں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے پاس تھا اور جب پیر کی شام اسے آلہ قتل کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا تب اُس کے ساتھیوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ہارون نامی ملزم ہلاک ہو گیا۔

یاد رہے کہ صوبہ پنجاب میں حالیہ عرصے میں ریپ، قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث زیر حراست ملزمان کی پراسرار حالات میں اپنے ہی ’ساتھیوں کے ہاتھوں‘ ہلاکت کی خبریں تواتر کے ساتھ سامنے آتی رہی ہیں۔

پیر (17 فروری) کے روز ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی پنجاب میں زیر حراست ملزمان کی پراسرار حالات میں ہونے والی ہلاکتوں کی اعلیٰ سطح کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مشکوک حالات میں ہلاک ہونے والے اس ملزم کی گرفتاری بھی کسی فلمی کہانی سے کم نہ تھی۔

تیزگام ایکسپریس سے گرفتاری

پولیس

،تصویر کا ذریعہEhtisham Shami

اتوار کو صبح پشاور سے کراچی جانے والی تیزگام ایکسپریس وسطیٰ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے ریلوے سٹیشن پر رُکی، تو وہاں سے اس پر سوار ہونے والے مسافروں میں سے ایک ہارون نامی شخص بھی تھا۔

یہ ٹرین مختلف شہروں میں رُکتے ہوئے جب ملتان پہنچی تو وہاں ٹرین کا سکیورٹی عملہ تبدیل ہوا اور ریلوے پولیس ملتان ڈویژن کے دو کانسٹیبل شہزاد عرفان اور محمد بلال اس پر سوار ہوئے۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تیزگام ایکسپریس جب پنجاب کے آخری ضلع صادق آباد کے قریب پہنچی تو ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو کنٹرول روم کی طرف سے ایک فون کال موصول ہوئی اور انھیں بتایا گیا کہ اس ٹرین پر ایک مبینہ خطرناک ملزم سفر کر رہا ہے۔

سکھر ڈویژن کے ایس ایس پی ریلوے رانا ارسلان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کنٹرول روم کی جانب سے ریلوے پولیس اہلکاروں کو واٹس ایپ پر اس مبینہ قاتل کی تصویر اور شناختی کارڈ کی تصاویر بھی ارسال کی گئی تھیں۔

رانا ارسلان کے مطابق ٹرین پر سوار پولیس اہلکاروں کو متنبہ کیا گیا تھا کہ ملزم تہرے قتل کی واردات میں ملوث ہے اور ممکن ہے کہ اس کے پاس کوئی ہتھیار بھی موجود ہو سکتا ہے، اس لیے ٹرین میں سوار دیگر مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

ایس ایس پی رانا ارسلان کے مطابق پہلے پہل تو کانسٹیبل شہزاد اور بلال نے تصویر کی مدد سے ٹرین کے تمام ڈبوں میں جا کر اس مبینہ قاتل کو پہچاننے کی کوشش کی، لیکن جب انھیں اس حلیے کا کوئی شخص نظر نہ آیا تو انھوں نے ہدایات کے مطابق تمام مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ اس دوران ٹرین کے ڈرائیور کو بھی ہدایات دی گئیں کہ وہ ٹرین کی رفتار کم رکھے کیونکہ گاڑی میں ایک آپریشن چل رہا ہے۔

رانا ارسلان کے مطابق ٹرین کے تمام ڈبوں میں جا کر مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کا سلسلہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا اور اس دوران دونوں پولیس اہلکاروں نے مسافروں کو یہی تاثر دیا کہ یہ معمول کی چیکنگ ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلآخر شناختی کارڈ کی چیکنگ کے ذریعے ملزم کی گرفتاری کا منصوبہ کامیاب رہا۔ انھوں نے کہا کہ ملزم کی جو تصویر گجرانوالہ پولیس کی جانب سے ریلوے حکام کو فراہم کی گئی تھی اس میں اس کے بال انتہائی گھنے تھے تاہم ملزم نے ٹرین پر سوار ہونے سے قبل تازہ گنج کروائی تھی اور اسی لیے اہلکار تصویر کی مدد سے اسے شناخت کرنے میں ناکام رہے تھے۔

رانا ارسلان کے مطابق جب مبینہ قاتل کو معلوم ہوا کہ اس کی شناخت ہو چکی ہے تو اُس نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی تاہم دونوں پولیس اہلکاروں نے چند مسافروں کی مدد سے اس پر قابو پا لیا۔

ملزم کو حراست میں لیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد روہڑی کا ریلوے سٹیشن آیا جہاں پولیس کی بھاری نفری پہلے ہی موجود تھی۔

رانا ارسلان کے مطابق اس کے بعد ملزم کو گوجرانوالہ پولیس کی ٹیم کے حوالے کر دیا گیا۔

سکھر ڈویژن کے ایس ایس پی ریلوے رانا ارسلان کے مطابق ملزم کو گرفتار کرنے کے اصل ہیرو ٹرین کے اندر موجود دونوں کانسٹیبل شہزادہ عرفان اور محمد بلال ہیں، جنھوں نے حاضر دماغی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

مگر ملزم کو ٹریس کیسے کیا گیا اس کی تفصیلات بتانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان پر کیا الزامات تھے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماں، دو کمسن بچوں اور تیرہ سالہ لڑکے کا قتل

بی بی سی اُردو کو دستیاب ایک ایف آئی آر کے مطابق رواں ماہ 10 فروری کو گوجرانوالہ کی کامران کالونی کے قریب نہر سے ایک خاتون اور ان کے کم عمر بیٹے کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ یہ لاشیں برآمد ہونے کے چند ہی روز بعد مقتولہ خاتون کی آٹھ ماہ کی بیٹی کی لاش بھی اسی نہر کے کنارے سے ملی تھی۔

ایف آئی آر کے مطابق خاتون اور بچے کو تیز دھار آلے کی مدد سے قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس کیس میں کسی ملزم کو نامزد نہیں کیا گیا تھا۔

گوجرانوالہ کے سٹی پولیس آفیسر غیاث الدین گُل خان کے مطابق ’خاتون کے کان کاٹ دیے گئے تھے اور جسم کے نازک اعضا پر چھریوں کے نشانات تھے، جبکہ ان کے کمسن بچے کا گلہ کاٹا گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’پولیس نے مرنے والوں کی شناخت کے لیے نادرا کو ریکارڈ بھجوایا اور ملزم کی گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تفتیش آگے بڑھائی۔ اور اگلے روز خاتون کا پتا چل گیا کہ قتل کی جانے والی خاتون اور ان کا بیٹا رحمان آباد نامی علاقے کی رہائشی تھے۔‘

سٹی پولیس افسر کے مطابق مقتولہ ملائکہ محسن اپنے دو بچوں کے ساتھ گھر سے غائب تھیں اور دس فروری کو اُن کی اور اُن کے چار سالہ بیٹے احمد کی لاش تو مل گئی تھی مگر آٹھ ماہ کی بیٹی مبرہ فاطمہ لاپتہ تھیں۔

انھوں نے کہا کہ آٹھ ماہ کی بچی کی لاش بھی بعدازاں نہر سے برآمد ہو گئی اور ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کو گلا دبا ہلاک کیا گیا تھا۔

گجرانوالہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ’اس سارے واقعے کے بعد لاشوں کے پوسٹمارٹم کروانے، لاشیں وصول کرنے اور کفن دفن میں مقتولہ کے شوہر کے ساتھ ساتھ، اُن کا ہارون نامی دوست بھی پیش پیش رہا۔‘

غیاث الدین کے مطابق ’پولیس کو ایک اہم کامیابی چند روز بعد اُس وقت ملی جب شہر میں ایک سی سی ٹی وی کے ریکارڈ میں مقتولہ کو اپنے دونوں بچوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ موٹرسائیکل سوار شخص کی شناخت کے لیے جب مقتولہ کے شوہر کو بلایا گیا تو وہ ششدر رہ گئے کیونکہ موٹر سائیکل چلانے والا شخص اُن کا دوست ہارون ہی تھا۔‘

سٹی پولیس آفیسر کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ 10 فروری کو جب ملائیکہ کے شوہر گھر سے چلے گئے تو مبینہ طور پر ہارون خاتون اور اُن کے دونوں بچوں کو لے کر نہر کے قریب ایک ویران جگہ پر گیا جہاں اس نے یہ واردات بظاہر کچھ رقم حاصل کرنے کے لیے کی۔

پولیس افسر کا دعویٰ ہے کہ ’ملزم خاتون اور اس کے بچوں کی نمازِ جنازہ اور کفن دفن میں پیش پیش رہا تھا۔۔۔ اُس کی سفاکی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ خاتون کی بُندے نہ اُتار سکا تو اس نے خاتون کے کان ہی کاٹ ڈالے اور بالیاں لے کر فرار ہو گیا۔‘

غیاث الدین کے مطابق ’ملزم کی وارداتوں میں پیسوں کا حجم بڑا نہیں، ملزم نے قتل کر کے تھوڑے بہت پیسے تو حاصل کیے لیکن ملزم پیسوں سے زیادہ قتل میں تسکین حاصل کرتا تھا۔‘

ملزم کو ٹریس کیسے کیا گیا؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGujranwala Police

پولیس کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے شوہر کی جانب سے ہارون کی شناخت کے بعد اس کی گرفتاری کے لیے متعدد چھاپے مارے تاکہ تفتیش کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے مگر یہ صورتحال بھانپتے ہوئے وہ پہلے ہی غائب ہو چکا تھا۔

تفیش سے منسلک ایک افسر کے مطابق ’ملزم نے اپنے زیرِ استعمال سِم بھی بند کر دی تھی، جس کے بعد انٹیلیجنس اداروں کی مدد حاصل کی گئی اور آگے چل کر معلوم ہوا کہ ملزم اب کوئی اور سِم استعمال کر رہا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’بعدازاں جب اس نئی سِم کی لوکیشن ٹریس کی گئی تو معلوم ہوا کہ ملزم ریلوے لائن پر چلتی ٹرین ’تیزگام‘ پر موجود ہے۔

اُن کے مطابق اس کے بعد ریلوے حکام کی مدد سے اس کا گرفتاری کا آپریشن مکمل کیا گیا۔

گجرانوالہ کے سٹی پولیس آفیسر غیاث الدین کا دعویٰ ہے کہ دورانِ حراست ملزم نے ایک 13 سالہ لڑکے کے مبینہ قتل کا بھی اعتراف کیا۔

13 سالہ لڑکے کی گمشدگی کی رپورٹ بھی گجرانوالہ پولیس کو دسمبر 2025 میں درج کروائی گئی تھی۔

غیاث الدین کا دعویٰ ہے کہ ’ملزم ہارون سلائی کڑھائی کا کام کرتا تھا جبکہ 13 سالہ لڑکا لہنگے کا کاریگر تھا، جس نے ایک بیش قیمت لہنگا تیار کیا تھا۔ ملزم نے اس سے لہنگا چھین لیا اور کسی ویران جگہ لے جا کر اسے قتل کیا اور لاش نہر برد کر دی۔‘

غیاث الدین کے مطابق 13 سالہ لڑکے کی لاش تاحال بازیاب نہیں کروائی جا سکی ہے مگر لاہور کی ایک دکان سے ملزم کی شناخت پر وہ لہنگا برآمد کروا لیا گیا ہے جو ملزم نے 40 ہزار میں فروخت کیا تھا۔

SOURCE : BBC