SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی حکومتی ذرائع نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی پوزیشنوں کے بارے میں ایران کو خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے۔
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس کے مطابق تین ذرائع، جن میں ایک اعلیٰ امریکی اہلکار بھی شامل ہے جو صورتحال سے براہِ راست آگاہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، نے اس معلومات کی تصدیق کی۔
یہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں روس کی جانب سے ایران کو مبینہ طور پر فراہم کی جانے والی مدد کا پہلا معلوم اشارہ ہے۔
واشنگٹن پوسٹ پہلا میڈیا ادارہ تھا جس نے تین گمنام ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے روسی انٹیلی جنس اور ایران کے درمیان مبینہ تعاون پر رپورٹ شائع کی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے جمعے کے روز کہا کہ اگر روس ایران کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے تو اس سے امریکی فوجی آپریشن پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔ ان کے مطابق ’ہم ان کو مکمل طور پر ختم کر رہے ہیں۔‘
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سی بی ایس کو بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ کون کس سے بات کر رہا ہے، وہ کیوں بات کر رہے ہیں، وہ معلومات کتنی درست ہیں، اور ہم اسے اپنے جنگی منصوبوں میں کیسے مدنظر رکھتے ہیں۔‘
انھوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ روسی مداخلت امریکی فوجی دستوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ان کے بقول ’ابھی صرف ایرانیوں کو ہی فکر مند ہونا چاہیے۔‘
خلیجی ممالک میں حالیہ دنوں میں امریکی تنصیبات ایرانی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، جن میں کویت میں امریکی فوجی اڈہ اور سعودی عرب میں سی آئی اے کا دفتر شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کریملن نے نامہ نگاروں کے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا کہ آیا روس موجودہ تنازع میں ایران کی حمایت کر رہا ہے۔ سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ روس نے مبینہ طور پر ایران کے ساتھ جو انٹیلی جنس شیئر کی ہے، اس میں زیادہ تر ماسکو کے فضائی سیٹلائٹ نکشتر کی تصاویر شامل ہیں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ کسی بھی ایرانی حملے کا تعلق روس کی فراہم کردہ مبینہ انٹیلی جنس سے ہے یا نہیں۔
کریملن نے جمعے کے روز تصدیق کی کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے فون پر بات کی۔ بیان کے مطابق پوتن نے ایران کے سپریم لیڈر، دیگر اہلکاروں اور شہریوں کی ہلاکت پر تعزیت کی۔ مزید کہا گیا کہ پوتن نے تنازع ختم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا، جبکہ ایرانی صدر نے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور ملک میں ہونے والے واقعات کی تفصیلی رپورٹ فراہم کی۔ دونوں ممالک نے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
SOURCE : BBC


