Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں اکیلے سفر کرنے والی خواتین کے لیے دنیا کے پانچ محفوظ ترین...

اکیلے سفر کرنے والی خواتین کے لیے دنیا کے پانچ محفوظ ترین ملک

14
0

SOURCE :- BBC NEWS

بینکاک میں ایک خاتون سیاح

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یوں لگتا ہے کہ ایسی خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہے جو اکیلے ہی سفر پر نکل پڑتی ہیں۔

سفر کی خدمات فراہم کرنے والے کئی ادارے (ٹور آپریٹرز) بتا رہے ہیں کہ اکیلے سفر کرنے والی خواتین میں خاص طور پر وہ شامل ہیں جن کی عمر 50 سال سے زیادہ ہوتی ہے اور انھیں سفر کے لیے کسی ساتھی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

’اکیلی خاتون کے لیے سفر‘ یہ وہ سوال ہے، عالمی سطح پر آن لائن سرچ میں پانچ سال کے دوران جس میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔

بڑھتی دلچسپی کے باوجود بہت سی خواتین اب بھی سفر کے دوران اپنی حفاظت کے حوالے سے خدشات رکھتی ہیں۔ فروری 2026 میں روڈ سکالر کے لیے ٹاکر ریسرچ کے سروے میں 59 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ رات کو اکیلے چلنا سفر کا ایک ایسا پہلو ہے جو انھیں سب سے زیادہ فکر مند کرتا ہے۔

مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی جنھوں نے کہا کہ وہ اکیلے سفر اس لیے نہیں کرتیں کیوں کہ انھیں اپنی حفاظت کے حوالے سے خدشات لاحق رہتے ہیں۔

کوسٹا ریکا کے نوسارا ساحل پر کھانے کا سٹال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایسا کوئی عالمی انڈیکس نہیں ہے جو حفاظت کے اعتبار سے اکیلے سفر کرنے والی خواتین کے لیے ممالک کی درجہ بندی کرتا ہو۔ اسی لیے ہم نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے تازہ ترین انڈیکس کو دیکھا۔ ویمن، پیس اینڈ سکیورٹی (ڈبلیو پی ایس) نامی یہ انڈیکس خواتین کی شمولیت، انصاف اور حفاظت کی بنیاد پر ممالک کی درجہ بندی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے گلوبل پیس انڈیکس (عالمی امن انڈیکس) سے بھی رجوع کیا اور اکیلے سفر کرنے والی خواتین سے بھی پوچھا کہ وہ کس ملک میں زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

یوں ہم نے ان پانچ ممالک کی فہرست مرتب کی۔

کوسٹا ریکا

وسطی امریکہ کے اس ملک کو حال ہی میں دنیا کے ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں سب سے زیادہ خوشی پائی جاتی ہے۔ ڈبلیو پی ایس انڈیکس میں بھی یہ ملک 60 ویں سے ترقی کر کے 34 ویں درجے پر آ گیا ہے۔

یہ تبدیلی خواتین کی شمولیت اور حفاظت میں وسیع تر پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل خانہ بدوشوں (ایسے افراد جو آن لائن کام کرتے ہیں اور کسی دفتر جانے کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے کام کے دوران ملکوں ملکوں گھومتے ہیں) کے لیے بھی ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔

مولی گیگنون سنہ 2021 سے ہر سال یہاں آ رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’کوسٹا ریکا دنیا کا ایسا ملک ہے جہاں اکیلے سفر کرنے والوں سے بہت آسانی سے ملاقات ہو جاتی ہے۔‘

ان کے مطابق لہروں پر سواری کرنے والے سرفرز سے لے کر کاروباری افراد تک، یہاں طرح طرح کے غیر ملکی آتے ہیں۔

’راہ چلتے آپ کی ملاقات ایسے لوگوں سے ہوتی ہے جنھوں نے سرفنگ کے دوران پہنے جانے والے چشمے لگا رکھے ہوتے ہیں، آپ کافی خانوں میں لوگوں سے ملتے ہیں، یوگا کے دوران ملتے ہیں، یہاں کی ثقافت آزادی کو فروغ دیتی ہے۔ یہاں خواتین کو اکیلے کام کرتے دیکھنا بہت عام سی بات ہے۔‘

ایک خاتون پانی میں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ مشورہ دیتی ہیں کہ جو لوگ پہلی بار یہاں آ رہے ہیں، وہ سفر شروع کرنے سے پہلے ہی طے کر لیں کہ یہاں آ کر انھیں کون سی سرگرمیاں کرنا ہوں گی، مثلاً وہ سرفنگ کرنا چاہیں گے یا کسی کی رہنمائی میں علاقہ گھومنا چاہیں گے۔ یہاں آنے والوں کو چاہیے کہ ایسی جگہ رہائش اختیار کریں جہاں سماجی ماحول ہو، اس سے انھیں لوگوں کے ساتھ بات چیت میں آسانی ہو گی۔

جزیرہ نما کیریبین کے ساحل پر ماحول مختلف ہے۔

سگنیچر ٹریول نیٹ ورک کی کمیونیکیشنز مینیجر ایشلے ہنٹر نے حال ہی میں پورٹو ویجو کے جنوب میں اکیلے سفر کیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’ساحلوں کی رونق اور سکون ایسی چیز تھی جو میں نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’میں دن کے وقت تصاویر لیتی تھی اور جب بارش ہوتی تو میں پناہ کے لیے ایک پر سکون جگہ تلاش کرتی جہاں میں کچھ کھا سکوں اور اپنی کھینچی گئی تصاویر کی بنیاد پر خاکے بنا سکوں۔‘

ایسٹونیا

خواتین، امن اور سلامتی کے ڈبلیو پی ایس انڈیکس میں ایسٹونیا 11 ویں نمبر پر ہے۔ یہ درجہ بندی خواتین کی صحت، مالی شمولیت اور کمیونٹی کی سطح پر سلامتی کے احساس میں نمایاں پیش رفت کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ، ایسٹونیا گلوبل پیس انڈیکس میں بھی 24 ویں نمبر پر ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں جرائم کی شرح کم ہے اور سیاسی استحکام ہے۔

’ایم ٹو ڈسکور‘ سے وابستہ بلاگر ویرونیکا رومانے کہتی ہیں کہ ’ایسٹونیا میں اپنے قیام کے دوران میں نے خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس کیا۔‘

ایسٹونیا کے شہر تالین کے قدیم علاقے میں ایک کیفے کی چھت پر بیٹھے گاہک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سفر کا آغاز انتہائی مثالی انداز سے کرنا ہے تو تالین کے قدیم شہر سے کیجیے، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ رومانے کے مطابق ’یہاں گھومنا پھرنا بہت آسان ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’پتھروں سے بنی گلیاں، دستکاری اور روایتی کھانوں کی چھوٹی دکانیں، فنون لطیفہ کا متحرک منظرنامہ اور تالین کی بھرپور تاریخ ۔۔۔ ان سب کی وجہ سے اکیلے گھومتے ہوئے مجھے بہت سکون کا احساس ہوا۔‘

آیونا موگا تنہا سفر کرنے والی سیاح ہیں۔ وہ کائک ان دی کوک میوزیم اور باسٹیئن سرنگیں دیکھنے کی تجویز دیتی ہیں۔ اپنے بلاگ پر سفر کے احوال میں موگا بتاتی ہیں کہ ’کائک ان دی کوک کا مطلب ہے باورچی خانے کے اندر جھانکنا، کیونکہ اس مینار سے سامنے کے گھروں میں رہنے والوں کے باورچی خانے دیکھے جا سکتے تھے۔‘

ان کے مطابق ’مجھے سب سے زیادہ جو چیز پسند آئی وہ تھا سرنگوں میں گھومنا، یہ کئی صدیوں تک مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔‘

رومانے کہتی ہیں کہ دارالحکومت کے مغرب میں واقع تاباسالو نیچرل پارک فطرت سے قربت کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ یہاں کے مناظر دیکھتے ہوئے آپ سانس لینا بھی بھول جاتے ہیں۔

ویتنام میں ایک خاتون کشتی چلا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا: ’شاندار نظارے دیکھتے ہوئے پر سکون انداز میں سائیکل چلانے کے لیے یہ بہترین جگہ ہے۔ مجھے یہاں اکیلے رہ کر بہت اطمینان محسوس ہوا، علاقے میں جن چند لوگوں سے ملاقات ہوئی ان کا رویہ بھی بہت دوستانہ تھا۔ وہ بھی میری طرح بس قدرت سے لطف اندوز ہونے آئے تھے۔‘

ویتنام

گلوبل پیس انڈیکس میں 38 ویں نمبر پر موجود ویتنام گذشتہ سال کے مقابلے میں تین درجے اوپر آیا ہے اور جنوب مشرقی ایشیا کے بہترین درجہ بندی والے ممالک میں شامل ہے۔

ہمسایہ ممالک سے موازنہ کیا جائے تو خواتین، آبادی اور سلامتی کے سروے میں بھی ویتنام کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی۔ خاص طور پر اس حوالے سے کہ خواتین سماج میں خود کو کس قدر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

گیگنون نے گذشتہ سال بھی ویتنام کا اکیلے سفر کیا تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ یہاں کے لوگوں کا برتاؤ دوستانہ اور خوش آمدید کہنے والا ہے۔ انھوں نے کہا: ’سادہ سے لمحے، جیسے کسی کیفے کے مالک سے بات چیت کرنا، گلی میں ڈھابے پر بیٹھ کر کھانا، یا رات کی بس پر سفر کرنا، یہ سب سماجی رابطوں کا موقع پیدا کرتے ہیں۔‘

وہ تنہا سفر کرنے والوں کے لیے مشورہ دیتی ہیں کہ ملک میں دستیاب چھوٹے گروپوں پر مشتمل مختلف ٹوئرز میں شامل ہوں، جن کے موضوعات کھانا پکانے اور مقامی غذاؤں سے لے کر موٹر سائیکلنگ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اکیلے سفر کا آغاز کرنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ وہ یہ سفارش بھی کرتی ہیں کہ مقامی لوگوں کے ساتھ رہا جائے۔

ایک خاتون سیاح کتاب پڑھ رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹریسی سمتھ ’کھو جانے کا مقصد: خود کو تلاش کرنے کی کہانی‘ نامی کتاب کی مصنفہ ہیں۔ وہ لکھتی ہیں: ’میں کئی بار ویتنام آ چکی ہوں، میں نے سا پا میں ایک گائیڈ کی ہمراہی میں پیدل سفر کیا، میکونگ ڈیلٹا میں مقامی خاندانوں کے گھروں میں قیام کیا اور وسطی پہاڑی علاقوں میں ایک مقامی خاندان کے ساتھ نئے سال کی تقریبات منائیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے نہ صرف اس ملک کی خوبصورتی نے متاثر کیا، بلکہ اکیلے سفر کے دوران جس قدر تحفظ کا احساس ہوا اور جس خلوص کے ساتھ میرا استقبال کیا گیا، وہ بھی میرے لیے خاص تھا۔ میں اس موسم بہار میں اپنے پرانے گائیڈ کی شادی میں شرکت کے لیے دوبارہ یہاں آؤں گی۔‘

ان کا مشورہ یہ ہے کہ صرف معروف سیاحتی مقامات تک خود کو محدود نہ رکھا جائے، ’مقامی گائیڈز کی خدمات حاصل کریں، مقامی افراد کے گھروں میں قیام پر غور کریں اور ایسے سفر کے لیے آمادہ ہوں جو ذاتی روابط کو فروغ دیں۔‘

ان کے مطابق ’اگر آپ جستجو کریں گے تو ویتنام اس کا صلہ بھی دے گا اور احترام بھی کرے گا۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جس سے اصل لطف دوسروں کے ساتھ ربط اور تعلق کے ذریعے ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔‘

یوروگوئے

یوروگوئے نے بھی رواں برس خواتین، امن اور سلامتی کے انڈیکس میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ اس کی درجہ بندی 59 ویں سے ترقی کر کے 35 ویں پر آ گئی ہے۔ یہ پیش رفت خواتین کے خلاف تشدد کی کم شرح سمیت انصاف اور سلامتی کے شعبوں میں اچھی کارکردگی کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ، گلوبل پیس انڈیکس میں یوروگوئے جنوبی امریکہ کا دوسرا سب سے پُر امن ملک قرار پایا ہے (ارجنٹینا کے بعد)۔

کلاڈیا تیوانی اپنے بلاگ میں لکھتی ہیں کہ ’سب سے پہلے جس چیز نے مجھے متاثر کیا، وہ یہاں کا پُر سکون ماحول تھا۔‘

انھوں نے کہا: ’یوروگوئے غیر معمولی حد تک پُر سکون ملک ہے اور یہاں کے لوگ بے حد خوش آمدید کہنے والے ہیں۔ میں مارچ کے وسط میں وہاں گئی تھی جب سیاحوں کی تعداد کم تھی۔ اس لیے مجھے بہت سے مقامی لوگوں سے ملنے کا موقع ملا، جو ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار رہتے تھے اور ملک، اس کی تاریخ اور ثقافت کے بارے میں دلچسپ کہانیاں بیان کرتے تھے۔‘

مونٹی ویڈیو کے علاقے بوسیو میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یوروگوئے کے جنوب مغرب میں واقع شہر کولونیا ڈیل سیکرامنٹو کی سیر ایک ناقابل فراموش تجربہ ہے، خاص طور پر اس کا تاریخی محلہ، جہاں شہر کے زیادہ تر قابل دید مقامات واقع ہیں۔

تاوانی نے کہا کہ ’یہ پتھروں کی تنگ گلیوں کی ایک بھول بھلیاں ہے، جن کے گرد سفید چونے والی دیواریں اور رنگ برنگے بوگن ویلیا کے پھول پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ پرانی گاڑیاں اسے ایک منفرد حسن عطا کرتی ہیں۔‘

وہ غروب آفتاب کے وقت کولونیا کے لائٹ ہاؤس یا اس تاریخی گلی میں جانے کا مشورہ دیتی ہیں، ماضی میں جہاں شہر کے مشہور قحبہ خانے ہوا کرتے تھے۔

ساحلی فضا سے لطف اندوز ہونے کے لیے وہ مشرقی ساحل پر واقع ماہی گیروں کے قصبے پونتا ڈیل دیابلو جانے کا مشورہ دیتی ہیں۔

مونٹی ویڈیو میں ایک سائیکل کرائے پر لے کر گھومنا بھی شہر کو دریافت کرنے کا ایک آسان اور خوشگوار طریقہ ہے۔

تاوانی نے اس میلے کی بھی بات کی جو وسط جنوری سے فروری کے اختتام یا مارچ کے آغاز تک ہوتا ہے۔

یوروگوئے میں مشرقی ساحل پر واقع ماہی گیروں کا قصبہ پونتا ڈیل دیابلو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ناروے

ناروے خواتین، امن اور سلامتی انڈیکس میں تیسرے نمبر پر ہے (سویڈن بھی)۔ سماجی تحفظ، مساوی اجرت اور شہری سلامتی کے حوالے سے اس ملک نے خاصے نمبر حاصل کیے ہیں۔

یہ ملک سنہ 2017 میں انڈیکس کے آغاز سے ہی مسلسل پہلے تین ممالک میں شامل رہا ہے۔ اس کا سماجی تحفظ کا محفوظ نظام ہے، جس میں یونیورسل ہیلتھ کیئر، بچے کی پیدائش کے وقت دونوں والدین کی رخصت اور سرکاری سطح پر بچوں کی دیکھ بھال کی سہولیات شامل ہیں۔ یہاں مزدوری سے لے کر حکومت میں کام کرنے تک خواتین بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔

اکیلی سفر کرنے والی خواتین کے لیے ناروے فطری خوبصورتی اور محفوظ ملک، دونوں حساب سے ہی کشش رکھتا ہے۔

ناروے کا سفر کرنے والی جینس لنٹز بتاتی ہیں کہ ’یہاں اکیلے سفر کرنا بہت آسان تھا۔‘

انھوں نے کہا: ’سولبارد میں جنگلی حیات نے میری تمام توقعات سے بڑھ کر مجھے متاثر کیا۔ ہم نے قطبی ریچھ، سیل، والرس، لومڑیاں اور رینڈیئر دیکھے۔ ہم نے تقریباً 82 درجے شمالی عرض بلد پر ہموار برف بھی دیکھی، جو ایک خواب ناک منظر تھا۔‘

لیزا مشیل برنز ’دی وانڈرنگ لینس‘ نامی ٹریول فوٹوگرافی کلب کی بانی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ناروے میں باہر اندھیرے میں گھومتے ہوئے بھی تحفظ کا احساس رہتا ہے۔

لیزا کے مطابق: ’میں نے ہمیشہ خود کو محفوظ محسوس کیا، یہاں تک کہ رات کے وقت آسمان کی تصویریں لیتے ہوئے بھی۔‘

ناروے سفر کرنے والے سیاحوں کو شاندار قدرتی نظاروں کے ساتھ ساتھ احساس تحفظ بھی ملتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

برنز نے صرف دو بار ناروے کا دورہ کیا ہے: ایک بار سردیوں میں ناردرن لائٹس کی تصاویر لینے کے لیے اور ایک بار گرمیوں کے آخر میں، جہاں انھوں نے زیادہ تر وقت شمالی علاقے میں گزارا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’شاندار ساحلی علاقے سیر کرنے، خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے، قدرتی آوازوں سے محظوظ ہونے اور فوٹوگرافی کرنے کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔‘

برنز ناروے کے قدرتی نظاروں کے ساتھ ساتھ وہاں کے آرام دہ ہوٹلوں کی بھی معترف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ روایتی ماہی گیروں نے اپنے گھروں کو سیاحوں کے رہنے کے لیے کاٹیج بنا دیا ہے۔ وہ ان گھروں کے اندر کی سجاوٹ سے بھی متاثر ہیں اور کہتی ہیں کہ ناروے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں وہ ہمیشہ واپس آنا چاہیں گی۔

برنز اکیلے سفر کرنے والوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ گاڑی کرائے پر لیں اور لوفرٹن علاقے کے چھوٹے چھوٹے دیہات سے گزرنے کا منصوبہ بنائیں۔ یہاں ایسے مقامات بھی ہیں جہاں رک کر ارد گرد کا نظارا کیا جا سکتا ہے۔

ان کی تجویز ہے کہ گلابی ریت والے ساحل مجیلی، انسٹاڈ، ہاک لینڈ اور ماہی گیروں کے گاؤں نسفورڈ ضرور جائیں۔

SOURCE : BBC