Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں اُڑن طشتری کا عقیدہ: جب امریکہ میں ’جنت پانے کے لیے‘ لوگوں...

اُڑن طشتری کا عقیدہ: جب امریکہ میں ’جنت پانے کے لیے‘ لوگوں نے اجتماعی خود کشی کی

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

سان ڈیاگو، امریکہ: ہیونز گیٹ فرقے کے خود کشی کرنے والے اراکین لاشیں سٹریچر پر رکھی جا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

وہ 39 افراد تھے، 21 خواتین اور 18 مرد۔

مختلف عمروں والے ان سب افراد کو جامنی رنگ کے کپڑوں سے ڈھکا گیا تھا، سب کے بالوں کی تراش خراش بھی یکساں تھی۔ سب کی جیبوں میں پانچ ڈالر کے نوٹ اور سکے تھے، سبھی نے نائیکی کے جوتے پہن رکھے تھے۔ وہ سب پہاڑی کی چوٹی پر واقع ایک حویلی میں پُر سکون انداز میں لیٹے تھے۔

اور وہ سب مر چکے تھے۔

26 مارچ 1997 کی سہ پہرایک گم نام فون کال کے بعد امریکہ میں جنوبی کیلیفورنیا کی اس حویلی پر پہنچنے والے پولیس اہلکار کو ان کے جسموں پر خون یا کسی زخم کے کوئی آثار نہیں ملے۔ اسی لیے انھیں لگا کہ ان کی موت عام موت نہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا کہ ان افراد نے مہلک آمیزہ پی کر اپنی جانیں لی تھیں۔

ویڈیو پر ریکارڈ اپنے الوداعی پیغامات میں انھوں نے اصرار کیا کہ ان کی یہ خودکشی حتمی موت نہیں ہے۔ بلکہ وہ محض اپنے زمینی جسموں کو چھوڑ رہے ہیں تاکہ ایک ایسے خلائی جہاز سے جا ملیں جس کے بارے میں انھیں یقین تھا کہ وہ ’ہیل-بوپ‘ نامی دم دار ستارے کے پیچھے چل رہے ہیں جو انھیں جنت میں لے جائے گا۔

ہیونز گیٹ

وہ سب ایک ہی فرقے ’ہیونز گیٹ‘ کے رکن تھے۔

بیلر یونیورسٹی میں امریکی مذہبی تاریخ کے استاد جے گورڈن میلٹن کی تحقیق ہے کہ ’ہیونز گیٹ‘ امریکہ میں قائم ہونے والا ایک مذہبی گروہ تھا، جو نامعلوم اڑن طشتریوں (یو ایف اوز) پر ایک عقیدے کی بنیاد پر قائم تھا۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’اس گروہ نے انتہائی درجے کی خود انکاری کی تعلیم دی، یہاں تک کہ بعض اوقات جسمانی اختصا تک کے تصورات سامنے آئے۔‘

تاریخی موضوعات پر لکھنے والے صحافی ڈیورُوس کے مطابق ہیونز گیٹ کی ابتدا سنہ 1972 میں ہوئی جب ایک نرس بونی لو نیٹل کی ملاقات مارشل ہیرف ایپل وائیٹ سے ہوئی جو مذہبی مدرسے سے تعلیم ادھوری چھوڑ چکے تھے۔

مذہبی تحریکوں کے ماہر بینجمن زیلر کے مطابق نیٹل اور ایپل وائیٹ دونوں شدید روحانی بحران سے گزر رہے تھے۔

’نیٹل کی طلاق کا عمل جاری تھا، جبکہ ایپل وائیٹ یہ محسوس کرتے تھے کہ خدا انھیں ایک نئی روحانی ذمہ داری کی طرف بلا رہا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ‘روحانی ہم سفر’ بن گئے۔‘

میلٹن کی تحقیق ہے کہ ایپل وائیٹ اور نیٹل جلد ہی اس یقین پر پہنچ گئے کہ وہ کتابِ مکاشفہ باب 11 میں مذکور آخری زمانے کے دو گواہ ہیں۔

اپنی کتاب ’ہیونز گیٹ: امیریکاز یو ایف او ریلیجن‘ میں زیلر نے بھی لکھا ہے کہ نیٹل اور ایپل وائیٹ نے خود کو کتابِ مکاشفہ میں مذکور ’دو گواہ‘ سمجھا۔ مسیحی روایت کے مطابق یہ وہ ہستیاں ہیں جو آخری عدالت سے پہلے زمین پر گواہی دیں گی۔ پیش گوئی کے مطابق ان دو گواہوں کو قتل کیا جانا تھا اور پھر دوبارہ زندہ کیا جانا تھا۔

’نیٹل اور ایپل وائیٹ کے مطابق آخری دنوں میں یہ خلائی مخلوق اپنے خلائی جہازوں میں آئے گی، زمین کو تباہ یا ‘ری سائیکل’ کرے گی اور ان لوگوں کو نجات دے گی جو ‘اگلے درجے’ یعنی ‘نیکسٹ لیول’میں جانے کے لیے تیار ہوں گے۔‘

اجتماعی خود کشی کرنے والے ہیونز گیٹ فرقے کے اراکین کی لاشیں حویلی / گھر میں مختلف جگہوں سے ملیں

،تصویر کا ذریعہCorbis via Getty Images

میلٹن نے لکھا ہے کہ سنہ 1975 میں انھوں نے کیلیفورنیا اور اوریگن میں اجتماعات منعقد کیے، جہاں ان کے ابتدائی پیروکار شامل ہوئے۔ جو لوگ ان سے جڑ گئے انھوں نے معاشرے سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور ایک خلائی جہاز کے ذریعے ’منتقلی‘ کے لیے خود کو تیار کرنا شروع کر دیا۔

’جب متوقع منتقلی نہ ہوئی تو یہ گروہ ٹیکساس میں آباد ہو گیا اور ایک پُر سکون اجتماعی زندگی گزارنے لگا، جہاں وہ ایسے روحانی ضوابط پر عمل کرتے تھے جن کے مطابق وہ ایک ‘اعلیٰ درجے’ میں منتقل ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔‘

زیلر کے مطابق انھوں نے کبھی خود کو ’ہیونز گیٹ‘ نہیں کہا۔ یہ گروہ اپنے آپ کو ’دی کلاس‘ کہتا تھا۔ نیٹل اور ایپل وائیٹ ’اساتذہ‘ سمجھے جاتے تھے اور ان کے پیروکار ’طلبہ‘ تھے۔ آج بھی سابق اراکین ایک دوسرے کو ’کلاس میٹس‘ کہتے ہیں۔

وقت کے ساتھ نیٹل اور ایپل وائیٹ کو یقین ہو گیا کہ وہ خود خلائی مخلوق ہیں جو انسانیت کو اختتامِ زمانہ کے لیے تیار کرنے زمین پر بھیجی گئی ہیں۔ انھوں نے اپنے نام بدل کر ’ٹائی‘ اور ’ڈو‘ رکھ لیے اور ’دی کلاس‘ کو خانقاہی طرز دیا گیا۔ اراکین کو برہنہ رہنے کی ترغیب دی گئی اور وہ خصوصی لباس پہننے لگے، جوسٹار ٹریک کے یونیفارمز سے متاثر تھا۔

زیلر کے مطابق ’ان کے عقائد اور رسومات تھیں، عبادات اور دعائیں تھیں، وہ زندگی کے معنی، دنیا کے اختتام اور موت کے بعد کیا ہوتا ہے، ان سب پر بات کرتے تھے۔‘

نیٹل کی موت کے بعد قیامت کا نیا تصور

سنہ 1985میں نیٹل کی کینسر سے موت ہو گئی۔

زیلر نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ گروہ کے عقیدے کے لیے ایک شدید جھٹکا تھا کیونکہ اس سے پہلے اراکین یہ سمجھتے تھے کہ وہ زندہ حالت ہی میں جسمانی طور پر کامل ہستیوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ نیٹل کی موت کے بعد ایک نیا تصور ابھرا؛ اب اراکین کو اپنے ناقص انسانی جسموں کو ترک کرنا ہو گا، جس کے بعد ان کا شعور ’نیکسٹ لیول‘ کے خلائی جسم میں منتقل ہو جائے گا۔

’ٹائی اور ڈو کی طرح، اراکین نے خود کو بھی رفتہ رفتہ ایسے خلائی مسافر سمجھنا شروع کر دیا جو وقتی طور پر انسانی جسموں میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات کی وضاحت کے لیے پیچیدہ سازشی نظریات بھی تشکیل دیے کہ ان کا پیغام اتنے کم لوگوں نے کیوں قبول کیا۔‘

زیلر کے مطابق سنہ 1990 کی دہائی کے آغاز میں ایپل وائیٹ نے اپنی پہلی آن لائن تحریریں پوسٹ کیں، پہلے یوزنیٹ فورمز پر اور بعد میں اپنی ویب سائٹ ’ہیونز گیٹ‘ پر۔

’اس کا ردعمل منفی تھا، جس کے بعد ایپل وائیٹ اور گروہ کے دیگر اراکین نے آہستہ آہستہ دنیا کو قائل کرنے کی کوشش ترک کر دی کہ زمین ایک دن ری سائیکل ہونے والی ہے۔‘

ایک اخبار جس پر ہیونز گیٹ فرقے کے ارکان کی خود کشی کی خبر شائع کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بیرونی دنیا سے کم رابطہ

میلٹن کے مطابق ’ان کا بیرونی دنیا سے بہت کم رابطہ تھا، یہاں تک کہ سنہ 1994 میں ان کے ’جلد ہونے والی منتقلی‘ کے یقین میں دوبارہ شدت آئی اور انھوں نے تبلیغ کا ایک نیا دور شروع کیا۔ اس دوران انھوں نے اپنی زیادہ تر جائیدادیں بھی فروخت کر دیں اور ایک ایسا سفر شروع کیا جو انھیں کیلیفورنیا لے آیا۔

’سنہ 1996میں سان ڈیاگو کے علاقے میں آباد ہونے کے بعد انھوں نے اپنی کفالت کے لیے انٹرنیٹ پر ویب سائٹس تیار کیں اور اپنی ایک ویب سائٹ بھی بنائی، جسے وہ جنت کا دروازہ سمجھتے تھے۔ اسی نسبت سے بعد میں ان کا نام ہیونز گیٹ پڑ گیا۔

’اکتوبر 1996 میں ایپل وائیٹ نے کیلیفورنیا کے شہر رینچو سانتا فے میں ایک بڑا گھر کرائے پر لیا اور مالک مکان کو بتایا کہ اس کے گروہ کے لوگ مسیحی بنیادوں پر یقین رکھنے والے فرشتے ہیں۔ ایپل وائیٹ جنسی پرہیز کی تلقین کرتے تھے اور گروہ کے کئی مرد اراکین نے ان کی پیروی کرتے ہوئے جسمانی اختصاء کے آپریشن بھی کروائے۔‘

’سنہ 1997 کے اوائل میں ان میں یہ افواہ پھیلی کہ حال ہی میں دریافت ہونے والا ہیل-بوپ دم دار ستارہ ایک خلائی جہاز کے ساتھ آ رہا ہے، جو موسمِ بہار کے مساوی دنوں کے قریب زمین کے بہت نزدیک سے گزرے گا۔

’دم دار ستارے کے قریب آتے آتے ہیونز گیٹ کے صرف 39 اراکین رہ گئے تھے، جنھوں نے 15، 15 اور نو افراد کے تین گروہ بنائے اور کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے ایک مضافاتی علاقے میں زہریلا مادہ استعمال کر کے اپنی زندگیاں ختم کر لیں، اس یقین کے ساتھ کہ خلائی جہاز انھیں ایک بہتر دنیا میں لے جائے گا۔‘

اجتماعی خود کشی کرنے والے ہیونز گیٹ فرقے کے اراکین کی لاشیں

،تصویر کا ذریعہCorbis via Getty Images

پانچ اپریل 1997 کو ایسوسی ایٹڈ پریس کی خبر تھی کہ خون کے معائنے سے معلوم ہوا کہ ہیونز گیٹ کے 39 میں سے زیادہ تر اراکین نے موت سے قبل دواؤں اور الکحل کے مہلک امتزاج کا استعمال کیا تھا۔

زہریلے مادّوں کی رپورٹوں نے پہلے کے ان نتائج کی تصدیق کی کہ گروہ کے اراکین نے پنوباربیٹل ملا ہوا پڈنگ یا سیب کی چٹنی کھائی تھی۔ زیادہ تر اراکین نے اس دوا کے اثر کو بڑھانے کے لیے ووڈکا بھی پی تھی۔

اراکین کے اہل خانہ کی درخواست پر کیے گئے ایچ آئی وی ٹیسٹ منفی آئے۔

اس واقعے سے قبل اراکین نے ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی جس میں ہر فرد نے اپنے اس فیصلے کی وجوہات بیان کیں۔

زیلر کے مطابق یہ گروہ محض ایک پاگلانہ انحراف نہیں تھا، نہ ہی صرف ایک ’خود کشی کرنے والا فرقہ۔ بلکہ یہ ایسے ’روحانی متلاشیوں‘ کا مجموعہ تھا جو امریکی معاشرے میں پھیلتے ہوئے رجحانات، سازشی نظریات، قیامت کے تصورات اور سائنس و مذہب کے امتزاج سے متاثر ہو کر ایک ایسے انجام تک پہنچے جو بالآخر المناک ثابت ہوا۔‘

SOURCE : BBC