Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں انڈیا سٹریٹیجک اعتبار سے حساس ’شِلی گُری راہداری‘ میں 36 کلومیٹر طویل...

انڈیا سٹریٹیجک اعتبار سے حساس ’شِلی گُری راہداری‘ میں 36 کلومیٹر طویل زیر زمین سرنگ کیوں بنانا چاہتا ہے؟

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

ریلوے سرنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ تنگ سا راستہ جو شمال مشرقی انڈیا کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑتا ہے، اسے ’چکن نیک‘ یا شِلی گُری راہداری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انڈیا نے اب اس علاقے میں ایک زیر زمین سرنگ بنا کر اس میں ریلوے کی پٹڑیاں بچھانے کی منصوبہ بندی تقریباً مکمل کر لی ہے۔

شِلی گُری راہداری سے 11 کلومیٹر دور، مغربی بنگال کے شمالی ضلع دیناج پور میں تقریباً 36 کلومیٹر طویل سرنگ میں ریلوے کی پٹڑیاں بچھائی جائیں گی۔

ریلوے ترجمان کپِنجل کشور شرما نے بتایا کہ اس منصوبے کا مسودہ تیار ہو گیا ہے لیکن اب تک اسے حتمی طور پر منظوری نہیں ملی ہے۔

جغرافیائی اور سٹریٹیجک نقطۂ نظر سے یہ چکن نیک (شِلی گُری راہداری) انڈیا کے لیے بہت اہم ہے۔ اس راہداری کی اوسط چوڑائی محض 20 کلومیٹر ہے۔ یہ بنگلہ دیش سے متصل ہے، جس کے شمال میں چین اور مغرب میں نیپال واقع ہیں۔

شمال مشرقی انڈیا کی سات ریاستیں (جو سیون سسٹرز کہلاتی ہیں) جغرافیائی طور پر بنگلہ دیش، بھوٹان، چین اور میانمار سے گھری ہوئی ہیں۔ ان ساتوں ریاستوں کا انڈیا سے زمینی رابطہ صرف شِلی گُری راہداری کے ذریعے ہی ہے۔

یعنی ان شمال مشرقی انڈین ریاستوں کا باقی ملک سے رابطے کا واحد زمینی راستہ یہی راہداری ہے۔ مسافروں اور سامان کے ساتھ ساتھ فوجی ساز و سامان اور فوجیوں کی نقل و حرکت بھی اسی راستے سے ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سرنگ کے اندر بننے والی ریلوے لائن سے اس علاقوں میں رہنے والے بھی مستفید ہوں گے مگر اس سے کہیں بڑھ کر اس سرنگ کی سٹریٹجک بھی ہے۔

14 فروری (سنیچر) کو وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت اجلاس میں کابینہ کی کمیٹی نے اسی نوعیت کے ایک اور منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت ریاست آسام میں دریائے برہما پترا کے نیچے تقریباً 16 کلومیٹر طویل ایسی سرنگ بنانے کی تجویز ہے جس سے ٹرینیں اور گاڑیاں دونوں گزر سکیں گی۔

اس منصوبے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

منی پور کو جوڑنے والا منصوبہ

،تصویر کا ذریعہ@AshwiniVaishnaw

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈیا کے کئی شہروں میں ٹرین یا میٹرو کا نظام اب زیر زمین بھی ہے تاکہ یہ صرف شہری علاقوں تک محدود ہے۔

چکن نیک راہداری میں مجوزہ زیر زمین ریلوے لائن مکمل طور پر دور دراز دیہی علاقوں سے گزرے گی۔ ریلوے ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کے اس مقام پر جہاں تین بین الاقوامی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں، اس کے قریب ہی ایک لمبی سرنگ بنا کر وہاں ریلوے کی پٹڑیاں بچھائی جائیں گی۔

انڈین ریلوے نے اس سے پہلے کبھی اس نوعیت کے بڑے منصوبے پر کام نہیں کیا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انڈین فوج بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب جن تین علاقوں میں نئے فوجی اڈے بنا رہی ہے، مجوزہ ریلوے لائن اُن میں سے دو کے بہت قریب سے گزرے گی۔

ایک فوجی اڈہ بہار کے علاقے کشن گنج میں ہے اور دوسرا مغربی بنگال کے علاقے چوپڑا میں جبکہ تیسرا فوجی اڈہ آسام کے دھبری میں تعمیر ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ اس علاقے میں پہلے سے موجود دو پٹڑیوں والی ریلوے لائن کو چار پٹڑیوں والی لائن میں تبدیل کیا جائے گا۔

ریلوے ترجمان کپِنجل کشور شرما بتاتے ہیں: ’زیر زمین ریلوے کی منصوبہ بندی اس طرح کی گئی ہے کہ اسٹریٹجک طور پر حساس شِلی گُری راہداری سے ہونے والی آمدورفت کو بحفاظت اور بلا رکاوٹ جاری رکھا جا سکے۔ ملک کے باقی حصوں سے شمال مشرقی ریاستوں تک آمد و رفت اسی راہداری کے ذریعے ہوتی ہے جو تقریباً 22 کلومیٹر طویل ہے۔‘

اس منصوبے کے تحت جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے دو متوازی سرنگیں بنائی جائیں گی اور وہاں انتہائی جدید مواصلاتی نظام بھی نصب کیا جائے گا۔

شرما بتاتے ہیں کہ ’نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش کی بین الاقوامی سرحدیں مجوزہ سرنگ کے بہت قریب ہیں۔ کسی قدرتی آفت یا سکیورٹی سے متعلق ہنگامی صورت حال میں یہ زیر زمین ریلوے لائن انتہائی اہم ثابت ہو گی۔‘

انھوں نے کہا: ’اس سے نہ صرف فوجی جوانوں اور عسکری ساز و سامان کو محفوظ طریقے سے سرحد تک پہنچایا جا سکے گا بلکہ قدرتی آفت کی صورت میں امدادی سامان بھی زیادہ آسانی سے بھیجا جا سکے گا۔ اسی ریلوے لائن کے قریب باگڈوگرا میں ایئرپورٹ، انڈین فوج کی 33 ویں کور کا ہیڈکوارٹر اور بینگڈوبی ملٹری سٹیشن بھی موجود ہے۔ ایسے میں مجوزہ ریلوے لائن ریلوے اور فضائی آمدورفت کے درمیان رابطہ بہتر بنانے میں بھی مدد کرے گی۔‘

کپنجل کشور شرما کا کہنا تھا: ’اس منصوبے پر 12 ہزار کروڑ روپے اخراجات کا تخمینہ ہے، لیکن اصل لاگت کا پتا حتمی منظوری ملنے کے بعد ہی چلے گا۔ سٹریٹجک طور پر اہم اس منصوبے کو جلد منظوری ملنے کی امید ہے۔‘

عسکری نقل و حمل کو اہمیت کیوں دی جا رہی ہے؟

مال گاڑی کے ذریعے انڈین فوج کے ٹینک کی نقل و حمل (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ریلوے ترجمان کپِنجل کشور شرما نے بی بی سی بنگلہ کو مزید بتایا ہے کہ مجوزہ زیر زمین ریلوے لائن سے نہ صرف فوجی ساز و سامان اور فوجی جوانوں کی نقل و حرکت ہو گی بلکہ عام مسافر ٹرینیں بھی اسی راستے سے گزریں گی۔

تاہم وہ بار بار اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ فوجی ساز و سامان اور فوجی اہلکاروں کی نقل و حمل کے لیے یہ زیر زمین ریلوے سٹریٹیجک لحاظ سے کتنی اہم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چکن نیک راہداری ہمیشہ سے انڈیا کے لیے سٹریٹجک طور پر اہم رہی ہے۔

انڈین فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر پرابیر سانیال کہتے ہیں: ’سنہ 1970 کی دہائی کے آخر میں جب میں سِکّم میں تعینات تھا تو کسی ممکنہ حملے سے نمٹنے کی حکمت عملی بنائی گئی تھی اور سوچا گیا تھا کہ اگر چین بھوٹان کے راستے شِلی گُری راہداری یا چکن نیک پر حملہ کرتا ہے تو ہم کیا کریں گے؟ اب تو بنگلہ دیش کے کچھ لوگ بھی اکثر چکن نیک پر قبضہ کرنے کی مضحکہ خیز دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ہمیں بہرحال احتیاط برتنی ہو گی۔

بریگیڈیئر سانیال کہتے ہیں: ’زیر زمین ریلوے کا جو منصوبہ اب تیار کیا گیا ہے، اسے کم از کم 20 سال پہلے بن جانا چاہیے تھا۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ اگر حملہ بھی ہوا تو دشمن ملک انڈیا کے باقی حصوں سے شمال مشرق کا ریلوے رابطہ منقطع نہیں کر سکے گا۔ اس سرنگ کی حفاظتی تہہ کنکریٹ کی بہت موٹی پرتوں پر مشتمل ہو گی۔‘

سٹریٹجک تجزیہ کار پراتم رنجن باسو کا کہنا ہے: ’انڈیا میں اب اس طرح کے منصوبوں کی تیاری کے دوران فوجی نقل و حمل کو خاص طور پر مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ ملک میں جتنی بھی سرنگیں بن رہی ہیں، ان میں ایسی سہولتیں فراہم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں فوجی اہلکار کم از کم 30 دن تک ان کے اندر رہ سکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چکن نیک راہداری سے ہی بجلی کی لائنیں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک، انٹرنیٹ کیبل، تیل اور گیس پائپ لائنیں گزرتی ہیں۔ ایسے میں زمین کے اوپر نئی ریلوے لائن بچھانا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ یہ گنجان آبادی والا علاقہ بھی ہے۔‘

باسو کہتے ہیں: ’زیر زمین ریلوے لائن بننے سے یہ راستہ انتہائی محفوظ رہے گا اور اگر زمین پر کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے یا حملہ ہو جائے تو بھی اس کے ذریعے آمد و رفت بلا تعطل جاری رہ سکے گی۔ چکن نیک راہداری ہمیشہ سے سٹریٹجک طور پر بہت اہم رہا ہے۔‘

برہما پترا کے نیچے بھی سرنگ تعمیر کی جائے گی

برہما پترا دریا

،تصویر کا ذریعہDavid Talukdar/NurPhoto via Getty Images

انڈیا کی کابینہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے 14 فروری کے اجلاس میں آسام میں برہما پترا دریا کے نیچے طویل سرنگ بنانے کا بھی فیصلہ کیا۔ اس کے تحت چار رویہ دو متوازی سرنگیں تعمیر کی جائیں گی۔

ان میں سے ایک سرنگ میں ٹرین چلے گی اور دوسری میں کاروں سمیت دیگر گاڑیاں۔ اس ریلوے لائن کے ذریعے گوہ پور کو نمالی گڑھ سے جوڑا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت نمالی گڑھ اور گوہ پور کے درمیان 240 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً چھ گھنٹے لگتے ہیں۔

بیان کے مطابق یہ ملک کی ایسی پہلی زیر زمین سرنگ ہو گی جس میں پٹڑی بھی ہو گی اور سڑک بھی۔ دنیا میں اس نوعیت کی صرف ایک اور سرنگ موجود ہے۔

اس منصوبے کی مجموعی طوالت 33.7 کلومیٹر ہو گی، ان میں سے 16.79 کلومیٹر حصہ برہما پترا دریا کے نیچے بننے والی سرنگ پر مشتمل ہو گا۔

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس منصوبے کے نافذ ہونے کی صورت میں یہ سرنگ سٹریٹیجک اعتبار سے اہم ثابت ہو گی اور علاقے کی معاشی ترقی میں بھی کردار ادا کرے گی۔

یہ نئی سرنگ وشوناتھ گھاٹ اور تیزپور کو بھی جوڑے گی جبکہ آسام کے تیزپور اور اروناچل پردیش کے اٹانگر ہوائی اڈوں کے درمیان بھی رابطہ قائم ہو گا۔

چین کے ساتھ سرحد کے تناظر میں تیزپور میں واقع فضائیہ کا اڈہ سٹریٹجک طور پر بے حد اہم ہے۔ یہاں انڈیا کے لڑاکا ’سخوئی‘ طیاروں کا ایک سکواڈرن بھی تعینات ہے۔

اس فضائی اڈے کی توسیع کے لیے حکومت نے رواں سال جنوری میں تقریباً 383 ایکڑ زمین کے حصول کا اعلان کیا تھا۔

SOURCE : BBC