Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں اضطراب اور ’ریڈ لائن‘ سمجھی جانے والی جماعت اسلامی سے ’خفیہ‘ رابطے:...

اضطراب اور ’ریڈ لائن‘ سمجھی جانے والی جماعت اسلامی سے ’خفیہ‘ رابطے: انڈیا بنگلہ دیشی انتخابات کے بعد ممکنہ حقیقتوں کا سامنا کیسے کرے گا؟

20
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا اپنے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں غیر معمولی دلچسپی لے رہا ہے اور انھیں اضطراب کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ کسی پڑوسی ملک میں ہونے والے انتخابات میں انڈیا کی یہ دلچسپی شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اِن انتخابات کے نتیجے میں انڈیا کے لیے ایک نئی اور غیر معمولی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، ایسی صورتحال جس کا مشاہدہ مبصرین نے شاید گذشتہ پانچ دہائیوں میں نہیں کیا ہو گا۔

سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ اِن انتخابات کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں ایک ایسا سیاسی سیٹ اپ وجود میں آئے گا جس میں عوامی لیگ موجود نہیں ہو گی۔ دلی، جو ڈھاکہ میں عوامی لیگ کی حکومت کا تقریباً عادی ہو چکا تھا، کے لیے یہ ایک نئی حقیقت ہو گی جس کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کے لیے اسے تیاری کرنا ہو گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ انڈیا کو یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا طارق الرحمان کی قیادت میں بی این پی تنہا حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے یا حکومت سازی کے عمل میں جماعتِ اسلامی کو بھی شامل کرنا پڑے گا۔

ماضی میں، سنہ 2001 سے سنہ 2006 تک، خالدہ ضیا کی قیادت میں بنگلہ دیش میں بی این پی اور جماعت اسلامی کی اتحادی حکومت قائم ہوئی تھی اور یہ تجربہ دہلی کے لیے ہرگز خوشگوار نہیں رہا تھا۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ اب یہ حقیقت ہے کہ جماعتِ اسلامی انتخابات کے نتیجے میں بننے والی نئی پارلیمان میں ایک مؤثر قوت کے طور پر سامنے آنے والی ہے، اب چاہے وہ حکومت کا حصہ ہو یا ایک مضبوط اپوزیشن کے طور پر۔

یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ انڈیا، جو برسوں سے جماعت اسلامی کو ایک غیر اعلانیہ ’ریڈ لائن‘ قرار دیتا رہا ہے، اب اس سیاسی جماعت کے ساتھ کس طرح تعلقات قائم کرتا ہے۔ شنید یہ بھی ہے کہ دہلی نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر رابطہ قائم کر لیا ہے۔

تاہم اس سب سے بڑھ کر دہلی کو اصل تشویش یہ ہے کہ نئی بنگلہ دیشی حکومت شمال مشرقی انڈیا کی سلامتی کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔ دہلی میں موجود مبصرین کہتے ہیں کہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے جس پر انڈیا کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار بنگلہ دیش میں وہ صورتحال پیدا ہوتی نظر نہیں آتی ہے جو پچھلے تین انتخابات میں انڈیا کے خلاف کسی نہ کسی درجے کی ’مداخلت‘ کی شکل میں سامنے آتی رہی ہے۔ بظاہر اس بار انڈیا نے بنگلہ دیش میں جاری پورے انتخابی عمل سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔

دہلی میں بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ انڈیا نے کم از کم عوامی سطح پر حالیہ انتخابات میں اس قدر غیر فعال رویہ اس لیے اپنایا ہے کہ سنہ 2024 کی نوجوانوں کی قیادت میں برپا ہونے والی عوامی تحریک میں ایک واضح انڈیا مخالف پہلو موجود تھا، جس میں شیخ حسینہ کے خلاف نعروں کے ساتھ دہلی کے خلاف بھی سخت آوازیں بلند ہوئیں۔

اگرچہ انڈیا گذشتہ ڈیڑھ سال سے بنگلہ دیش میں انتخابات کا مطالبہ کرتا رہا ہے لیکن جب عوامی لیگ کو بالآخر انتخابات میں حصہ لینے کا موقع نہ ملا تو انڈیا نے اس پر بھی احتجاج نہیں کیا۔

اب عوامی لیگ، جو انڈیا کی طویل عرصے سے اتحادی رہی ہے، کا سیاسی مستقبل بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ بنگلہ دیش میں نئی حکومت کس شکل میں سامنے آتی ہے۔

یہ انتخابات انڈیا کے لیے اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں کیونکہ 12 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات میں کئی پیچیدہ مسائل شامل ہوں گے، جن کے اثرات دہلی کے لیے دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’اب ہمیں استحکام کی ضرورت ہے‘

بنگلہ دیش میں تعینات رہنے والے سابق انڈین سفارتکار ریوا گانگولی داس کا کہنا ہے کہ ان انتخابات سے انڈیا کی سب سے بڑی امید یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں دوبارہ سیاسی استحکام قائم ہو۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ 5 اگست 2024 کے بعد سے ہمارے تعلقات کو شدید دھچکا لگا ہے۔‘

’بنگلہ دیش خود بھی اندرونی سیاسی صورتحال اور ہلچل کے دور سے گزر رہا ہے، وہاں بڑے پیمانے پر سیاسی اُتھل پُتھل جاری ہے۔ اس لیے توقع یہ ہے کہ ان انتخابات کے ذریعے کسی نہ کسی حد تک استحکام آئے گا۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا ڈھاکہ میں ایک مستحکم، منتخب اور نمائندہ حکومت چاہتا ہے، ایسی حکومت جس کے پاس عوامی مینڈیٹ ہو اور جو عوام کے لیے کام کرے۔

’یہی عمل ہے، یہی منصوبہ ہے۔ کیونکہ کافی عرصے سے ایک غیر یقینی کی سی کیفیت جاری ہے۔ اب سب چاہتے ہیں کہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے اچھا انتخاب ہو اور انتخابات کے بعد ایک ایسی حکومت قائم ہو جو عوامی مینڈیٹ کے ساتھ سامنے آئے۔‘

تاہم اس کے ساتھ ہی انڈیا میں ان انتخابات کے حوالے سے پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب کو بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔

او پی جندال گلوبل یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر اور بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر سریپرنا پاتھک کے مطابق ’یہ وقت بہت زیادہ توقعات اور بے چینی کا ہے کیونکہ پچھلے دس، پندرہ برسوں میں ایسی صورتحال کا سامنا نہ تو انڈیا کو کرنا پڑا اور نہ بنگلہ دیش کو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’درحقیقت عوامی لیگ کے جانے کے بعد ایک سیاسی خلا پیدا ہو گیا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ جماعت اسلامی آئے گی یا کون سا اتحاد تشکیل پائے گا۔ اس کے بعد انڈیا کے شمال مشرقی خطے کی سکیورٹی کا سوال بھی ہے۔‘

ڈاکٹر پاتھک نے مزید کہا کہ ’انڈیا اس دوران کس طرح استحکام حاصل کرے گا، یہی وجہ ہے کہ اتنے سوالات اٹھ رہے ہیں، اتنی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس لیے آنے والے دن یقیناً دلچسپ ہوں گے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شمال مشرقی انڈیا کی سلامتی کا مسئلہ کتنا تشویشناک ہے؟

شیخ حسینہ کے تقریباً 16 سالہ دورِ حکومت میں انڈیا کے لیے سب سے بڑی راحت یہ رہی ہے کہ شمال مشرقی انڈیا کے مسلح علیحدگی پسند گروہوں کو بنگلہ دیشی سرزمین پر کوئی پناہ نہیں ملی۔

اس کے ساتھ ساتھ شیخ حسینہ کی بنگلہ دیشی حکومت نے انوپ چیتیا اور اروند راج کھووا جیسے علیحدگی پسند رہنماؤں کو انڈیا کے حوالے بھی کیا۔

لیکن انڈیا یقینی طور پر اس بات پر گہری نظر رکھے گا کہ نئی بنگلہ دیشی حکومت اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتی ہے۔

تاہم دہلی کے بعض سابق سفارتکاروں کا خیال ہے کہ سلامتی کے مسائل کے حوالے سے فکر کی کوئی بات نہیں، بلکہ بنگلہ دیش کا اپنے روزمرہ کے معاملات نمٹانے کے لیے انڈیا پر انحصار تعلقات کو معمول کے راستے پر رکھے گا۔

سابق انڈین سفارتکار سومین رائے کا کہنا ہے کہ ’سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انڈیا اب ایک عالمی طاقت ہے۔ یہ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور بہت جلد ہم چین کے بعد تیسری بڑی معیشت بننے والے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس بات کے پیش نظر ظاہر ہے کہ ہمیں فکر ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں سلامتی کے حوالے سے پریشان ہونا چاہیے، اب سیلیگُڑی سے لے کر میزورم اور آسام تک ہم نے ایک نیا فضائیہ کا اڈہ قائم کر لیا ہے۔ وہاں بہت سے فوجی موجود ہیں، اس لیے سلامتی کے زاویے سے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔‘

منوہر پریکر انسٹیٹیوٹ آف ڈیفنس سٹڈیز اینڈ اینالسز دہلی سے منسلک سیینئر فیلو سمرتی پٹنائک نے بھی واضح طور پر کہا کہ شمال مشرقی انڈیا کی سلامتی کے معاملے میں انڈیا کسی قسم کی نرمی نہیں دکھائے گا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شمال مشرق کی سلامتی انڈیا کے لیے دراصل بہت ہی اہم ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں انڈیا کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘

ڈاکٹر پٹنائک نے مزید کہا کہ ’مجھے بخوبی علم ہے کہ یہ بات بنگلہ دیش کے تمام سٹیک ہولڈرز تک پہنچا دی گئی ہے کہ اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ آپ (بنگلہ دیش) پاکستان کے ساتھ جو بھی تعلقات رکھنا چاہتے ہیں، رکھ سکتے ہیں۔ آپ انھیں بنگلہ دیش میں بغیر سکیورٹی کلیئرنس کے بھی لا سکتے ہیں، اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن یہ سب شمال مشرقی انڈیا کی سلامتی کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔‘

بی این پی: ’بُرائی کے لیے اچھائی‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگرچہ دہلی میں ضرورت پڑنے پر جماعت اسلامی کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی ذہنی تیاری موجود ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں انڈیا کی پہلی ترجیح بی این پی ہے۔

بی این پی کے بارے میں دہلی کا رویہ، جو کبھی انڈیا مخالف سیاست کا مترادف سمجھا جاتا تھا، اب کافی حد تک بدل چکا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر سریپرنا پاتھک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرا خیال ہے کہ انڈیا ذہنی طور پر بی این پی حکومت کے لیے تیار ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’شاید اسی لیے سگنلنگ کی گئی، جب خالدہ ضیا بیمار تھیں، تو وزیرِاعظم مودی نے ٹویٹ کیا۔‘

ڈاکٹر پاتھک کا ماننا ہے کہ اس وقت بنگلہ دیش میں انڈیا کے پاس جو آپشنز ہیں، اُن میں بی این پی ‘بہترین’ ہے اور اسی لیے انڈیا اسے ترجیح دینا چاہتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’کیونکہ بی این پی انڈیا کے لیے نسبتاً مستحکم جماعت ہے اور گذشتہ سال، یعنی 2025 کے وسط سے، بی این پی نے جماعت اسلامی سے بھی دوری اختیار کی ہے۔۔۔ اگرچہ اب بی این پی آئے گی، مگر کون سا اتحاد ہو گا، یہ ہم نہیں جانتے۔‘

سمرتی پٹنائک بھی کہتی ہیں کہ انڈیا نے عوامی لیگ کے بعد کی سیاسی حقیقت کے لیے بڑی حد تک خود کو تیار کر لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کے لیے اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں اقتدار میں آنے والی جماعتوں کے ساتھ کس طرح کام کیا جائے۔‘

سمرتی پٹنائک نے مزید کہا کہ ’ہم نے دیکھا کہ بیگم خالدہ ضیا کی وفات کے بعد انڈیا نے بی این پی کے ساتھ ایک کھلا رابطہ قائم کیا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پہلے رابطہ نہیں تھا، لیکن موجودہ رابطہ زیادہ کھلا تھا اور بڑی بات یہ ہے کہ یہ انتخابات سے بالکل پہلے ہوا ہے۔‘

جماعت اسلامی کے ساتھ تعلقات

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈاکٹر پٹنائک نے دعویٰ کیا کہ اُن کی معلومات کے مطابق انڈیا نے جماعت اسلامی کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر رابطہ قائم کر لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’درحقیقت انڈیا بی این پی اور جماعت اسلامی، دونوں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

ڈاکٹر پٹنائک کے مطابق ’یہ ایک نہایت اہم بات ہے، میرا مطلب ہے کہ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم صرف عوامی لیگ تک محدود نہیں ہیں بلکہ اگر کوئی بھی جماعت عوامی ووٹ جیت کر اقتدار میں آتی ہے تو ہم اس کے ساتھ کام کریں گے۔ اسی تناظر میں جماعت اسلامی کے ساتھ ایک ملاقات بھی ہوئی، وہ بھی سرکاری سطح پر۔‘

چند روز قبل جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ایک انڈین سفارتکار اُن سے ملاقات کے لیے آئے تھے اور انڈیا نے درخواست کی تھی کہ اس ملاقات کو خفیہ رکھا جائے۔

انڈیا نے اس دعوے کی نہ تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔

تاہم مختلف اشارے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ انڈیا نے جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ ایک نہایت خاموش اور خفیہ تعلق قائم کر لیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا دہلی جماعتِ اسلامی کے بارے میں اپنا پرانا موقف بدل رہی ہے، جسے برسوں تک ایک غیر اعلانیہ ’ریڈ لائن‘ سمجھا جاتا رہا ہے؟

سابق انڈین سفارتکار ریوا گانگولی داس کا کہنا ہے کہ ’دیکھیں، جماعت اسلامی 2001 میں بنگلہ دیش میں حکومت کا حصہ تھی اور کابینہ میں اُن کے دو وزیر بھی تھے۔ میں اُس وقت بنگلہ دیش میں ہی تعینات تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فطری طور پر تعلقات کا ایک عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ ہم پڑوسی ہیں اور ہم اپنے پڑوسی نہیں بدل سکتے۔ انڈین حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ چاہے کوئی بھی اقتدار میں آئے، انڈیا اس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

اسی لیے ریوا گانگولی داس کو یقین ہے کہ اگر جماعت اسلامی آئندہ حکومت کا حصہ بنتی ہے تو انڈیا اُن کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنا چاہے گا، کیونکہ ’معاملات کو آگے بڑھانا ہی ہو گا۔‘

دہلی کی اصل خواہش اب یہ ہے کہ انتخابات کے بعد بننے والی حکومت سے ’یقین دہانی‘ حاصل ہو، نہ کہ عبوری حکومت کی طرح ’غیر یقینی‘ کی کیفیت برقرار رہے اور معاملات آگے بڑھیں۔

اسی پس منظر میں دہلی کے مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ بنگلہ دیش میں جو بھی منتخب حکومت قائم ہو، اگر وہ کم از کم شمال مشرقی انڈیا کے سلامتی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے تیار ہو، تو دہلی کو اس کے ساتھ ’مکمل تعلقات‘ قائم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔

SOURCE : BBC