Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’اسلامی نیٹو‘:عرب و مسلم ممالک میں وسیع تر ممکنہ عسکری اتحاد کی...

’اسلامی نیٹو‘:عرب و مسلم ممالک میں وسیع تر ممکنہ عسکری اتحاد کی زور پکڑتی تجویز کس حد تک قابلِ عمل ہے؟

7
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے اور اسی تناظر میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں عرب، اسلامی سیاسی و عسکری اتحاد کے قیام کا تصور ایک بار پھر سامنے آ رہا ہے اور اس پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔

عرب، اسلامی سیاسی و عسکری اتحاد کا خیال باضابطہ طور پر سب سے پہلے ستمبر 2024 میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے پیش کیا تھا، اور انھوں نے مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ’بڑھتے ہوئے توسیع پسندانہ عزائم‘ کے خلاف اتحاد قائم کریں۔

اِسی تناظر میں پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ستمبر 2025 میں ’اسلامی نیٹو‘ (یعنی اسلامی ممالک پر مبنی نیٹو طرز کا فوجی اتحاد) کے قیام کی تجویز دی تھی۔

اور وقت کے ساتھ یہ تصور اُس وقت مزید تقویت پکڑ گیا جب 17 ستمبر کو پاکستان اور سعودی عرب نے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

اور اب صدر اردوغان کے حالیہ دورۂ سعودی عرب اور مصر کے تناظر میں عرب ذرائع ابلاغ میں اس معاملے پر دوبارہ بحث ہو رہی ہے اور اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ بڑے عرب و مسلم ممالک پر مشتمل ایک وسیع تر اتحاد وجود میں آ سکتا ہے، تاہم اس ضمن میں کوئی ٹھوس شواہد تاحال موجود نہیں ہیں۔

تاہم عرب میڈیا کی بعض دیگر رپورٹس میں ایک سعودی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ترکی اور پاکستان کو شامل کرتے ہوئے سعودی قیادت میں ’اسلامی نیٹو‘ بنانے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے۔

اس نوعیت کی تجزیاتی رپورٹس میں اس سوال پر بھی بحث کی گئی ہے کہ موجودہ حالات میں ایسا اتحاد قائم کرنا کس حد تک ممکن اور قابلِ عمل ہو سکتا ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہSaudi Press Agency

عرب ذرائع ابلاغ کی جانب سے اشارے دیے جا رہے ہیں کہ ممکنہ اتحاد میں ترکی، مصر، سعودی عرب، پاکستان اور انڈونیشیا جیسے اسلامی ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔

لندن سے شائع ہونے والے روزنامہ ’رأي اليوم‘ نے پانچ فروری کو شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر اردوغان کے ریاض اور قاہرہ کے دورے ایک ایسے منصوبے کے تناظر میں ہوئے ہیں جس کا مقصد ’ایک سیاسی و عسکری اسلامی اتحاد قائم کرنا ہے، جس میں ابتدائی طور پر تین ممالک شامل ہوں، اور بعد ازاں اس میں ایٹمی طاقت رکھنے والا پاکستان اور بڑی اسلامی آبادی والا انڈونیشیا بھی شامل ہو جائے۔‘

’ترک پریس‘ ویب سائٹ نے بھی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ’مصر، سعودی عرب اور ترکی پر مشتمل ایک علاقائی اتحاد کی صورت گری افق پر نمایاں ہو رہی ہے، جو غیر معمولی سیاسی قربت اور یکساں نقطۂ نظر کے بڑھتے ہوئے رجحان کا نتیجہ ہے۔‘

تاہم بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اردوغان کا حالیہ دورہ سعودی عرب اور مصر کسی ممکنہ اتحاد کے تشکیل پانے کی علامت نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہیں کہ خطہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے دہانے پر ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’عربیک ڈیفنس‘ ویب سائٹ نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ ’مصر، سعودی عرب اور ترکی کی قربت سیاسی حقیقت پسندی کے ایک نئے دور کی عکاسی کرتی ہے، جو اختلافات کو سنبھالنے اور مشترکہ مفادات کے زیادہ سے زیادہ حصول پر مبنی ہے، لیکن یہ معاملات ابھی ایک جامع سٹریٹجک اتحاد کی سطح تک نہیں پہنچے۔‘

بین الاقوامی قانون کے ماہر پروفیسر محمد محرّان نے مصری اخبار ’یوم7‘ کو بتایا کہ ’مصر اور ترکی کا اتحاد ایک وسیع تر عرب، اسلامی اتحاد کے لیے بنیاد ثابت ہو سکتا ہے، ایسا اتحاد جو خطے میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرے۔‘

گذشتہ چند ماہ کے دوران عرب ذرائع ابلاغ میں عرب، اسلامی اتحاد کے قیام کا تصور بار بار موضوعِ بحث بنا ہے، خصوصاً اسرائیل کی ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مصری نجی ویب سائٹ ’العروبة الیوم‘ نے لکھا کہ ’عرب اور مسلم اقوام کو درپیش چیلنجز، مشکلات اور سازشیں اس بات کو نہایت ضروری اور فوری بنا دیتی ہیں کہ سعودی عرب، مصر، پاکستان، ترکی اور قطر پر مشتمل ایک سٹریٹجک اتحاد قائم کیا جائے تاکہ خطے میں توازن بحال ہو اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

سابق مصری سفارتکار علی الاشماوی نے قطری ٹی وی چینل ’الجزیرہ مباشر‘ کو بتایا کہ یہ ممکنہ اتحاد خطے کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جو اُن منصوبوں کا مقابلہ کرے گا جن کا مقصد خطے کو تقسیم کرنا ہے۔

ترک تجزیہ کار علی باقر نے بھی اسی چینل کو بتایا کہ ایسا اسلامی اتحاد ’اُس بڑی فوجی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑی کوشش کا متقاضی ہو گا جو اسرائیل نے حاصل کر لی ہے۔‘

روزنامہ رائے الیوم کے مدیر عبدالباری عطوان نے اس ممکنہ اتحاد کے قیام کے پس منظر میں چند وجوہات بیان کیں۔ ان وجوہات میں سرفہرست امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے کا خدشہ شامل ہے، یعنی وہ حملہ جس کا مقصد ایران میں حکومت کو تبدیل کرنا اور اس کی جوہری و میزائل صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا یونان اور قبرص کے ساتھ سہ فریقی اتحاد بھی ترکی کو جوابی اقدام پر مجبور کر رہا ہے۔

لندن سے شائع ہونے والے روزنامہ القدس العربی کے لطفي العبیدی نے اس ممکنہ ’اسلامی نیٹو‘ کو ’ایک دفاعی چھتری‘ قرار دیا، جس کا مقصد ایک کے بعد دوسرے اسلامی ملک پر حملے کو روکنا ہے۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دیگر ذرائع ابلاغ نے بھی اس خیال کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ’ایک ایسے اتحاد کے ڈھانچے کی تدریجی تشکیل ہے، جسے شاید نیٹو نہ کہا جائے، لیکن اس کا مقصد اسی طرح کا دفاعی کردار ادا کرنا ہے۔‘

صدر اردوغان کے فروری کے اوائل میں ریاض اور قاہرہ کے دوروں سے قبل ترک ذرائع ابلاغ میں ’مسلم نیٹو‘ کے تصور نے نمایاں حیثیت اختیار کی، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ بحث خطے میں وسیع تر اتحاد اور تعاون کے موضوع کی طرف منتقل ہو گئی۔

جنوری کے آخر میں الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ترک وزیرِ خارجہ حکان فیدان نے ’علاقائی استحکام پر مبنی پلیٹ فارم‘ کے قیام کی وکالت کی تاکہ مسلم ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ ’نہ ترک غلبہ، نہ عرب غلبہ، نہ فارسی غلبہ، نہ کسی اور کا غلبہ۔ علاقائی ممالک ذمہ داری کے ساتھ اکٹھے ہوں۔ دیکھیں یورپی یونین نے کس طرح ابتدا سے آج تک خود کو تشکیل دیا۔ ہم کیوں نہیں؟‘

حکومتی حمایت یافتہ ترک ذرائع ابلاغ نے اس ممکنہ اتحاد کو خطے میں ایک ممکنہ ’گیم چینجر‘ کے طور پر پیش کیا ہے، اور بعض نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ اسرائیل کے علاقائی عزائم کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

تجزیہ کار جَوہر سُلول نے نو فروری کو اپنے تجزیے میں لکھا کہ ’ایران، شام، غزہ اور فلسطینی مسئلے جیسے معاملات پر ترکی، سعودی عرب اور مصر کے درمیان ایک واضح ہم آہنگی سامنے آئی ہے۔۔۔ جیسا کہ ان کے حالیہ سفارتی بیانات کے یکساں لہجے سے ظاہر ہوتا ہے۔‘

ترکی کے حکومتی حمایت یافتہ تحقیقی ادارے سیٹا سے منسلک محقق علی مراد کورسون نے کہا کہ انقرہ کی اس اتحاد کے لیے کوشش اس کے ’روایتی، غیر فعال کردار‘ سے ہٹنے کی عکاسی کرتی ہے، جو مشرق و مغرب کے درمیان پل کے طور پر تھا، اور اب ترکی ’فعال اتحادوں‘ کی طرف بڑھ رہا ہے جو انقرہ کو ایک مرکزی نظام تشکیل دینے والے کردار میں لا کھڑا کرتے ہیں۔

اگرچہ اس اتحاد کی خواہشات فی الحال زیادہ تر بیانیہ تشکیل دینے کی سطح پر ہیں، مگر یہ واضح ہے کہ ترکی، مصر اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے عسکری تعاون کو گہرا کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ترکی نے مصر کو 350 ملین ڈالر مالیت کا فوجی ساز و سامان برآمد کرنے اور وہاں اسلحہ سازی کی ایک پروڈکشن لائن قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ترک ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ریاض ترکی کے کان لڑاکا طیارہ پروگرام میں بطور سرمایہ کار اور ممکنہ خریدار شامل ہونے کا خواہاں ہے۔

کسی بھی ممکنہ اتحاد کو درپیش چیلنجز کیا ہیں؟

کسی بھی ممکنہ عرب، اسلامی اتحاد کے قیام کا تصور بہت سے چیلنجز میں گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

روزنامہ رائے الیوم کے مطابق ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ عرب اور مسلم ممالک کے درمیان ماضی میں ہونے والے تمام مشترکہ دفاعی معاہدے کبھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکے اور ہمیشہ ’کاغذی تحریر‘ ہی رہے، بلکہ بعض معاملات میں تو یہ معاہدے کرنے والے ممالک آپس میں فوجی تصادم تک میں بھی ملوث رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی، مصر اور سعودی عرب کے درمیان موجودہ ہم آہنگی روایتی یا سٹریٹجک اتحاد کی سطح تک نہیں پہنچی، کیونکہ ’خطے میں سیاسی تبدیلیوں سے متعلق کئی معاملات پر تینوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔‘

علی الاشماوی نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ اتحاد اسرائیلی اور امریکی چیلنجز کے مقابلے میں آسانی سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

تجزیہ کار علی باقر نے بھی خبردار کیا کہ اسرائیل اس اتحاد کو وجود میں آنے نہیں دے گا، کیونکہ ’اسرائیل سے وابستہ لابیوں نے امریکہ میں ابتدا ہی سے اسے سبوتاژ کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔‘

عرب، یوریشین سٹڈیز سینٹر کی محقق غادی کنیل نے اس اتحاد کے مستقبل کے منظرنامے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’لچکدار ہم آہنگی سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ ہے‘، اور انھوں نے اس امکان کو رد کیا کہ یہ اتحاد ایک جامع ادارہ جاتی شکل اختیار کرے گا۔

SOURCE : BBC