SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہAL-MAHRIAH TV
ایران جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور واضح ہوتا جا رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات تہران کا واضح ہدف ہے۔
ایران نے ہزاروں ڈرونز اور میزائل خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے رُکن ممالک پر داغے ہیں۔
ایران نے ماضی میں دھمکی دی تھی کہ وہ خطے میں امریکہ اڈوں کو ہدف بنائے گا اور اب ایسا لگتا ہے کہ اس کی خاص توجہ متحدہ عرب امارات ہر ہے، جس کے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات مضبوط ہیں۔
ایران اس تنازع کا دائرہ وسیع کر کے فریقین کے لیے اس جنگ کی قیمت کو بڑھانا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ خلیجی ممالک اپنے اتحادی امریکی پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالیں۔
اس کے جواب میں ابوظہبی نے تہران کے خلاف غیر معمولی سخت لہجہ اختیار کر لیا ہے اور آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے امریکی قیادت میں کی جانے والی کوششوں میں شامل ہونے کی دھمکی دی ہے، جو اس کے روایتی مصالحت پر مبنی رویے سے ہٹ کر ہے جو مکالمے اور پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔
خلیجی ممالک پر ایرانی حملے
خطے کی میڈیا رپورٹس سے اشارہ ملتا ہے کہ جنگ کے پہلے دو ہفتوں میں ایران اسرائیل کے مقابلے میں خلیجی ممالک کو اپنا ہدف بناتا ہوا نظر آیا ہے۔
قطر کے الجزیرہ کے مطابق جنگ کے شروع کے 11 دنوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ’اسرائیل تہران کا پہلا ہدف نہیں‘ ہے اور ایران نے ان دنوں میں اسرائیل پر 433 جبکہ عرب ممالک پر 3100 حملے کیے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
علاقائی میڈیا اداروں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے پہلے تین ہفتوں کے دوران ایرانی حملوں میں سب سے زیادہ نشانہ بنایا جانے والا ملک متحدہ عرب امارات رہا ہے۔
دبئی پبلک پالیسی ریسرچ سینٹر کے سربراہ محمد بہارون نے ابوظہبی میں واقع سکائی نیوز عربیہ ٹی وی کو بتایا کہ ایک قابلِ فہم وضاحت یہ ہے کہ تہران کا ماننا ہے کہ متحدہ عرب امارات ’سب سے آسان شکار‘ ہے۔
بہارون کہتے ہیں کہ ’ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ اگر یہ اینٹ (متحدہ عرب امارات) گر جائے تو باقی اینٹیں بھی اس کے پیچھے گرنے لگیں گی۔‘
متحدہ عرب امارات میں کن اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے متحدہ عرب امارات میں کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں حبشان گیس فیلڈ، باب فیلڈ، الظفرہ ایئر بیس، فجیرہ بندرگاہ اور تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔
عراق کے شمالی کردستان ریجن کے علاقے اربیل میں موجود اماراتی قونصل خانے کے دفتر پر بھی دو ڈرون حملے کیے گئے تھے۔
ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے متحدہ عرب امارات کے گنجان آباد علاقوں کے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے ’بندرگاہوں، ڈاکس، اور اماراتی شہروں میں موجود امریکی ٹھکانوں‘ سے دور رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو یہ ’جائز حق‘ حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے امارات میں موجود امریکی میزائل لانچ سائٹس کو نشانہ بنائے۔
ایران کا الزام ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے اپنی سزمین کے استعمال کی اجازت دی، جن میں خَرگ جزیرے اور ابوموسیٰ پر راس الخیمہ سے کیے گئے حملے بھی شامل ہیں۔
تاہم متحدہ عرب امارات نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
حملوں کے متحدہ عرب امارات کی معیشت پر اثرات
متحدہ عرب امارات نے طویل عرصے سے خود کو اس خطے میں معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنا کر پیش کیا ہے، لیکن اس جنگ کے سبب اس پر منفی اثرات پڑے ہیں۔
ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے لاحق فوری سکیورٹی خطرات کے علاوہ متحدہ عرب امارات کا مرکزی سٹاک انڈیکس اے ڈی ایکس جنرل خلیجی منڈیوں میں سب سے زیادہ نقصان ریکارڈ کر رہا ہے، جو گزشتہ ماہ کے دوران 11.42 فیصد گر چکا ہے جیسا کہ 23 مارچ کے ٹریڈنگ اکنامکس کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے۔
سیاحت اور ہوا بازی کے شعبوں کو بھی فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی کے باعث شدید نقصان پہنچا ہے۔
آٹھ مارچ کو عراق کے ’الغد پریس‘ نے بتایا کہ جنگ کے پہلے ہفتے میں خلیجی ممالک کے چھ ہوائی اڈوں کو 399 ملین ڈالر کا نقصان ہوا، جن میں امارات کا حصہ تقریباً 95 ملین ڈالر تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس جنگ سے توانائی کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث متحدہ عرب امارات کی یومیہ تیل کی پیداوار نصف سے بھی زیادہ کم ہو گئی ہے۔
مشرقی یمن پر زیادہ توجہ دینے والے متحدہ عرب امارات مخالف ادارے المہریہ ٹی وی نے 11 مارچ کی ایک رپورٹ میں کہا کہ ابوظہبی اس تنازع میں ’سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا‘ ہے اور اس کی بین الاقوامی برادری میں ساکھ ’متاثر ہو چکی‘ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رویس ریفائنری اور فجیرہ آئل حب پر حملوں کے بعد اس کی تیل پیداوار میں کمی آئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے اقدامات
اماراتی حکام اور میڈیا نے خطے میں متحدہ عرب امارات کی حیثیت کو بطور ’محفوظ پناہ گاہ‘ برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے عوام کے نام پہلے پیغام میں صدر محمد بن زاید نے شہریوں اور رہائشیوں کو یقین دلایا کہ ’سب ٹھیک ہے‘ اور کہا کہ ملک ابھرتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ’پوری طرح تیار‘ ہے۔
اسی دوران اٹارنی جنرل حماد سیف الشامسی نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ امارات کے اندر ایرانی حملوں کی تصاویر اور ویڈیوز کو بنانے، شائع کرنے یا پھیلانے سے گریز کریں۔
اس ہدایات کے بعد کئی غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جنھوں نے ایرانی حملوں اور اس کے بعد کی صورتحال کی حقیقی یا مسخ شدہ فوٹیج شیئر کی تھی۔ ان پر ایسے الزامات عائد ہیں جن کی سزا کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ درہم جرمانہ ہے۔
متحدہ عرب امارات اور ایران کے تعلقات پر جنگ کے اثرات
ابوظہبی اور تہران کے درمیان سنہ 2021 میں تعلقات کی بحالی کے آثار دکھائی دینا شروع ہوئے تھے اور یہ عمل مارچ 2023 میں چین کی ثالثی سے ہونے والے اُس معاہدے کے بعد مزید تیز ہو گیا، جس کے تحت ایران اور سعودی عرب کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس برف کا پگھلنا بڑی حد تک متحدہ عرب امارات کے اقتصادی مفادات اور ریاض کے ساتھ خاموش رقابت کے دوران خود کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی خواہش کے سبب تھا۔
تاہم موجودہ جنگ نے متحدہ عرب امارات اور ایران کے تعلقات پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں باہمی الزامات اور دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں متحدہ عرب امارات نے اپنی سرزمین پر ایرانی حملوں کے بعد تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا اور اپنے سفیر اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا۔ ابوظہبی میں ایران کے سفیر رضا امیری کو بھی طلب کیا گیا تاکہ انھیں ‘سخت الفاظ میں تحریر کردہ احتجاجی نوٹ’ دیا جا سکے۔
خلیجی تعاون کونسل کے بات چیت سے متعلق پیغام کے باوجود کچھ میڈیا رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے ’قریب پہنچ رہے ہیں‘، یہ صورتحال ابوظہبی اور تہران کے درمیان مفاہمت کی امیدوں کو ختم کر سکتی ہے۔
SOURCE : BBC



